سندھ کی علیحدگی پسند تنظیموں کی پرتشدد کارروائیاں، ریاستِ پاکستان کے لیے کتنا خظرہ؟

سندھ کی علیحدگی پسند تنظیموں کی پرتشدد کارروائیاں، ریاستِ پاکستان کے لیے کتنا خظرہ؟


ہر سال 17 جنوری کو ‘جئے سندھ تحریک’ کے مختلف دھڑوں کے کارکنان تحریک کے بانی جی ایم سید کی سالگرہ کے موقع پر تقاریب منعقد کر کے اُن کے نظریے یعنی ‘سندھ کی آزادی’ یا ‘سندھو دیش’ کے قیام کے لیے پُر امن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں سندھ علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ چند پرتشدد عناصر کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سندھ میں بھی علیحدگی پسند تحریک کو ہوا دے کر اسے ریاستِ پاکستان اور چینی مفادات کے خلاف کارروائیوں پر اُکسایا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ دسمبر میں سندھی علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کراچی میں دو مختلف واقعات میں دوچینی باشندوں کو نشانہ بنانے (دونوں محفوظ ہیں) اور رینجرزکے اہلکاروں پر حملے کے واقعات کے بعد صوبے بھر میں سندھی علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) نامی تھنک ٹینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں سندھی علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے 2020 میں 10 حملے کیے گئے ہیں۔ جس میں 8 حملوں کی ذمہ داری سندھو دیش ریوولیشنری آرمی (ایس آر اے) نے قبول کی ہے۔

ان حملوں میں زیادہ تر کراچی میں رینجرز اہل کاروں کو نشانہ بنایا گیا جب کہ اگست میں جماعتِ اسلامی کی ایک کشمیریوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی پر بھی حملہ کیا گیا۔

سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ‘ایس آر اے’ پہلے ہی سے فعال علیحدگی پسند گروہ سندھو دیش لبریشن آرمی (ایس ایل اے) سے قیادت کے مسئلے پرعلیحدہ ہو کر قائم ہوئی ہے۔

ایس آر اے کی قیادت جئے سندھ متحدہ محاذ (جسمم) کے ایک سابق رہنما سید اصغر شاہ المعروف سجاد شاہ کر رہے ہیں۔ جن کا تعلق لاڑکانہ سے ہے جب کہ ‘جسمم’ اور ان سے جڑی ‘ایس ایل اے’ کی سربراہی شفیع برفت کر رہے ہیں جو جرمنی میں مقیم ہیں۔

دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر وفاقی وزارتِ داخلہ مارچ 2013 میں ‘جسمم’ پر پاپندی عائد کر چکی ہے اور شفیع برفت کا نام مطلوب دہشت گردوں کے کوائف پرمشتمل ریڈ بک میں شامل کیا گیا ہے۔

تقریباً سات سال بعد وفاقی وزارتِ داخلہ نے ‘ایس آر اے’ اور ‘ایس ایل اے’ کے ساتھ ساتھ ایک قوم پرست سیاسی تنظیم جئے سندھ قومی محاذ کے گروپ (آریسر) پر دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے پاپندی عائد کی۔

رواں ماہ چودہ جنوری کو کراچی میں پولیس نے حساس اداروں کی معاونت سے اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ‘ایس آر اے’ کے رکن منصور علی عرف انیل کو گرفتار کرنے اور ان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد اور پستول برآمد کرنے کادعوٰی کیا۔

پولیس اعلامیے کے مطابق گرفتار ملزم شہر میں آئی ای ڈی بموں اور ہتھیار کی نقل و حمل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے حساس تنصیبات کی ریکی کرتا تھا۔

اس سے قبل دسمبر میں کراچی پولیس کی جانب سے ‘ایس آر اے’ کے دو مبینہ اراکین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملزمان 25 دسمبر کو بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی سالگرہ کے دن بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے تعاون سے دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔


گزشتہ کئی مہینوں سے سندھ کے متعدد اضلاع میں سندھی علیحدگی پسند جماعتوں اور پر تشدد گروہوں کے مبینہ کارکنوں کی جانب سے تشدد کی سیاست ترک کرنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کے اعلانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حال ہی میں ایسا اعلان 25 دسمبر کو خیرپور اور سکھرسے تعلق رکھنے والے جسقم (آریسر) سمیت مختلف جماعتوں کے درجنوں مبینہ افراد نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا گیا۔

سندھی بلوچ علیحدگی پسندوں کا اتحاد

سیکیورٹی حکام اور ماہرین سندھی علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں میں اضافے کو دراصل ‘ایس آر اے’ کا بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) میں شمولیت سے جوڑ رہے ہیں۔

‘براس’ دراصل بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی اور بلوچ ری پبلکن گارڈز نامی چار کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں پر مشمل اتحاد ہے۔ جس کی تشکیل 2018 کے آواخر میں کی گئی تھی۔

ماضی میں ‘ایس ایل اے’ اور ‘ایس آر اے’ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے متاثرہو کر حیدرآباد، کوٹری، جامشورو اوردادو سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائنوں اور ریلوے ٹریکس کو بم دھماکوں سے اڑانے جیسی کارروائیاں کرتے تھے۔

ڈی آئی جی عمر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ سندھی گروہوں کی حالیہ کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ‘براس’ میں شامل ہونے کے بعد انہیں فنڈنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی تربیت بھی دی گئی ہے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (پی ای پی ایس) کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ‘ایس آر اے’ کی جانب سے کراچی میں چینی باشندوں پر حملے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

2007 میں لال مسجد کے طلبہ کا چینی مساج سینٹرز پردھاوا بولنے اور چینی باشندوں کو یرغمال بنانے کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے عامر رانا کا کہنا تھا کہ”یہ واقعہ پاکستان کے لیے بڑی حد تک سفارتی بحران پیدا کرنے کا سبب بنا اور حکومت کو مجبوراً لال مسجد آپریشن کرنا پڑا۔”

جئے سندھ تحریک کیا ہے؟

‘ایس آر اے’ اور ‘ایس ایل اے’ جیسی پر تشدد علیحدگی پسند تنظیمیں اپنے آپ کو جئے سندھ تحریک کے بانی اور ممتاز سندھی قوم پرست دانش ور غلام مرتضی سید المعروف جی ایم سید کے نظریات کی پیروکاری سے جوڑتے ہیں۔ مگر اسی سوچ و فکر سے وابستہ جمہوری جدوجہد پر یقین کرنے والے دھڑے کہتے ہیں کہ جی ایم سید کی تحریک شروع ہی سے عدم تشدد کی حامی رہی ہے۔

سیاست، مذہب، صوفی ازم، سندھی قوم پرستی اور ثقافت کے موضوعات پر درجنوں کتابوں کے مصنف، ادیب اور دانش ور جی ایم سید نے قیامِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے 1943 کو اس وقت کی برطانوی حکومت کی سندھ اسمبلی میں قیامِ پاکستان کے لیے قراردادِ پاکستان پیش کر کے بھاری اکثریت سے منظور بھی کروا لیا۔

جی ایم سید کی ہی کاوشوں کی بدولت سندھ نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں قراردادِ پاکستان کے تحت سندھ کو خود مختاری نہ ملنے، سندھی زبان کو نظرانداز کیے جانے، ون یونٹ کے نفاذ، ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کو بڑے پیمانے پر سندھ میں آباد کرنے اور سندھ کو اپنے حصے کے حقوق نہ ملنے کے اپنے سخت گیر مؤقف کے سبب پاکستان مخالف قرار پائے۔

بعدازاں 1973 میں جی ایم سید نے ‘سندھو دیش’ یعنی سندھ کے ایک آزاد حیثیت میں قیام کا تصور پیش کیا۔

ماہرین اس کی وجہ ذوالفقار علی بھٹو کا آئین سازی سے قبل جی ایم سید کی صوبائی خود مختاری یقینی بنانے کے لیے اور مذہبی شدت پسندی کا راستہ روکنے کی تجاویز کو نظرانداز قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بدظن ہو گئے۔

سندھو دیش کے مؤقف کے سبب جی ایم سید کو تین دہائیوں سے زائد عرصہ نظر بندی میں گزارنا پڑا۔

سندھی قوم پرست سیاست میں پر تشدد رجحانات

یوں تو سندھ میں علیحدگی پسندی میں تشدد کا عنصر 1970 سے شامل ہے جس کا اظہار 80 کی دہائی میں سندھی مہاجر فسادات میں بھی نظر آیا۔ مگر سن 2000 میں پر تشدد سیاست کے ایک نئے اور منظم دور کا آغاز تب ہوا۔ جب شفیع برفت نے ‘جسمم’ کے نام سے اپنا نیا گروہ تشکیل دیتے ہوئے تنظیمی آئین میں جی ایم سید کے نکات کے ساتھ ساتھ مسلح مزاحمت کے نکتے کا اضافہ کیا.

مسلح جدوجہد کے لیے ‘ایس ایل اے’ جیسی زیرِ زمین تنظیم بھی تشکیل دی گئی۔

‘ایس ایل اے’ انہی سالوں میں بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شروع کی جانے والی ریاست مخالف کارروائیوں سے متاثر ہوئی۔

ان پر دیہی سندھ کے مختلف علاقوں خصوصاً حیدر آباد، کوٹری، جامشورو اور دادو میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائنوں اور ریلوے ٹریکس کو بم دھماکوں سے اڑانا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد ہونے لگے۔

اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے دیہی سندھ میں ‘جسمم’ کے خلاف سرگرم ہو گئے اور قوم پرست کارکنوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔

بعدازاں جب سندھ حکومت نے چین کی مدد سے ذوالفقار آباد کے نام سے ٹھٹہ میں ایک نئے شہرکے قیام کااعلان کیا تو صوبے میں جئے سندھ تحریک کے مختلف دھڑوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں قوم پرست تنظیموں کے مسلح گروپوں نے چینی مفادات پر بھی حملے شروع کر دیے۔

2013 میں کراچی میں چین کے قونصل خانے کے باہر ایک ہلکی نوعیت کے دھماکے، 2016 میں کراچی کے مضافات میں چینی انجینئر کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے علاوہ سکھر کے قریب سی پیک منصوبے کے اہل کاروں پر حملے کی بھی ذمہ داری یہ گروہ قبول کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ سندھ کا سیاسی اور معاشی منظرنامہ ابھی تک بلوچستان سے کافی مختلف ہے جس کی وجہ سے سندھی علیحدگی پسند گروہ اس طرح کی مقامی حمایت حاصل نہیں کر سکے۔

اس حوالے سے سندھ کی سیاست و تنازعات کا مطالعہ کرنے والے صحافی منظور شیخ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ “سندھ میں کراچی، حیدراباد اور سکھر کی شکل میں بڑے شہری مراکز، جاگیرداروں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی مڈل کلاس اورمتحرک سول سوسائٹی کی موجودگی کے سبب سندھی علیحدگی پسند تنظیموں کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی۔”

البتہ ان کے بقول “اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے باوجود سندھ کو مرکز سے درپیش مسائل، جیسے حالیہ مردم شماری، کراچی کے جزائر، روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس سندھی نوجوانوں کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ پارلیمانی سیاست میں مسائل حل نہیں ہوتے اور علیحدگی پسند تنظیموں اسی سوچ کا فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔”

جئے سندھ تحریک کے دھڑے

جی ایم سید کی زندگی میں ان کی تحریک کے سرکردہ رہنماؤں نے علیحدہ ہو کر اپنے دھڑے بنا لیے تھے جب کہ25 اپریل 1995 کو ان کے انتقال کے بعد جی ایم سید کے ہی نظریے، جھنڈوں اور نعروں کے ساتھ نئے دھڑے بن گئے۔

اب ان تنظیموں میں مرحوم بشیر قریشی کی جئے سندھ قومی محاذ (جسقم)، شفیع برفت کی کالعدم جسمم، حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی جسقم آریسر، عبدالخالق جونیجو اور ریاض چانڈیو کی جئے سندھ محاذ کے اپنے اپنے دھڑے اور قمر بھٹی کی جئے سندھ قوم پرست پارٹی قابلِ ذکر ہیں۔

یہ سارے گروہ پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے جب کہ ‘جسقم’ کے علاوہ تمام گروپ عدم تشدد کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

البتہ قانون نافذ کرنے والے ادارے الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومتی کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ‘ایس ایل اے’ اور ‘ایس آر اے’ کے کارکنان انہی جماعتوں کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتی ہے اور ‘جسقم’ (آریسر) کالعدم اسی وجہ سے قرار دی گئی۔

معروف سندھی سیاست دان مرحوم رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، ان کے بیٹے ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی تحریک، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی اور جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی وہ جماعتیں ہیں جو علیحدگی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتیں۔

یہ جماعتیں پاکستان میں رہتے ہوئے سندھ کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہیں۔

Photo Credit : https://resize.indiatvnews.com/en/resize/newbucket/1200_-/2020/08/6tytbjzxpnhy5jlcdfos2dedg4-1597307966.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: