سندھ کی سیاست اور گدی نشینوں کا اثر و رسوخ

سندھ کی سیاست اور گدی نشینوں کا اثر و رسوخ

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع تھرپارکر کے علاقے چھاچھرو سے تعلق رکھنے والے فرید سمیجو کراچی میں کورنگی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ وہ چند روز کی چھٹی لے کر اپنے گاؤں جا رہے ہیں تاکہ وہ تھرپارکر کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 221 میں 21 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد امیدوار نظام الدین راہموں کو ووٹ دے سکیں۔

یوں تو نظام الدین راہموں اس حلقے میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں مگر تھرپارکر میں ان کی پہچان پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور غوثیہ جماعت کے روحانی پیشوا پیر شاہ محمود قریشی کے مرید ہونے کی وجہ سے ہے۔

غوثیہ جماعت، جنہیں مقامی طور پر ‘ملتانی فقیر’ کہا جاتا ہے، کے 34 سالہ مرید فرید سمیجو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ “ہمارے نزدیک پی ٹی آئی یا وزیرِ اعظم عمران خان کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہمارے لیے صرف ہمارے پیر کی ہدایات اہمیت رکھتی ہے۔”

نظام الدین راہموں کو جہاں غوثیہ جماعت کی حمایت حاصل ہے وہیں ان کے مدِمقابل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار پیر علی شاہ جیلانی کامارو شریف کی درگاہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ نشست پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی پیر نور محمد شاہ جیلانی کی کرونا وائرس کے سبب 24 دسمبر کو انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

پیر نور محمد شاہ جیلانی نے 2018 کے عام انتخابات میں 80047 ووٹ لے کر پی ٹی آئی کے امیدوار شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی جنہوں نے 72884 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اسی نشست پر 2013 کے انتخابات میں بھی شاہ محمود کو محمد شاہ جیلانی نے لگ بھگ 2000 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

شاہ محمود قریشی کی حلقے میں عدم موجودگی کے باوجود مذکورہ نشست پر اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایک اچھے مقابلے کی توقع ہے۔

مقامی صحافی اے بی آریسر نے حمارا ہند کو بتایا کہ این اے 221 بھی دیہی سندھ کے ان حلقوں میں سے ایک ہے جہاں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ پاؤں کے فوجی بلا شبہ ایک بڑا ہاتھ ہیں۔

البتہ اُن کا کہنا ہے کہ ”اس مرتبہ شاہ محمود قریشی خود انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے اور نہ ہی اب تک انہوں نے ضمنی انتخابات میں حلقے کا دورہ کیا ہے جس کی وجہ سے مقابلے کا ماحول نہیں بن رہا۔“

دوسری جانب غوثیہ جماعت اور پی ٹی آئی کی مقامی تنظیمیں نظام الدین راہموں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی ضلع ٹنڈوالہ یار کے کامارو شریف کی درگاہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یوں پی پی پی کی تنظیم کے ساتھ ساتھ ان کے مریدین بھی ان کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

غوثیہ جماعت کی سیاست میں انٹری

ملتان کے حضرت غوث بہاؤالدین زکریا کی درگاہ سے وابستہ غوثیہ جماعت سندھ میں شروع ہی سے غیر سیاسی رہی۔ لیکن شاہ محمود قریشی کے گدی نشین بننے کے بعد وہ غوثیہ جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

پی پی پی سے 18 برس کی سیاسی رفاقت ختم کر کے شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے اپنے نئے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو اپنے آبائی حلقے ملتان کے بجائے سندھ کے سرحدی ضلع گھوٹکی کو ترجیح دی۔ جہاں غوثیہ جماعت کے مریدوں کی ایک بڑی تعداد سندھ کے دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی اعتبار سے گھوٹکی میں جلسہ کر کے شاہ محمود قریشی نے اپنی پرانی جماعت کو بھی ایک پیغام دیا تھا کہ پی پی پی کے سیاسی مراکز سمجھے جانے والے دیہی سندھ کے اضلاع میں بھی اُن کی حمایت موجود ہے۔

سندھ کی دیگر روحانی جماعتیں

پیر پگارا کی حُر جماعت کے ضلع سانگھڑ اور خیر پور میں ایک کثیر تعداد میں روحانی پیروکار ہیں۔ دیگر روحانی جماعتوں کے مقابلے میں حر جماعت سب سے زیادہ منظم ہے۔

حُر جماعت انتخابات میں ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کو سپورٹ کرتی ہے جس کے قومی و سندھ اسمبلی کے لیے ارکان منتخب ہوتے رہے ہیں۔

سروری جماعت ضلع مٹیاری کے ہالہ کے آستانے سے تعلق رکھتی ہے اور پی پی پی کے مرکزی رہنما مرحوم مخدوم امین فہیم بھی اسی درگاہ سے تعلق رکھتے تھے۔

امین فہیم کا اثر و نفوذ مٹیاری کے ساتھ ساتھ تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں تھا۔

مخدوم خاندان نے 2018 کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل پیپلز پارٹی سے اپنی 50 سالہ وابستگی ختم کرنے کی دھمکی دے کر پارٹی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی مطلوبہ نشستیں لینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی طرح رانی پور روحانی سلسلے کے گدی نشین پیر عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور درگاہ کے موجودہ گدی نشین فضل شاہ کے والد پانچ بار رکنِ قومی اسمبلی رہے ہیں۔

فضل شاہ خود دو بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور گزشتہ انتخابات میں وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر ایک مرتبہ پھر اسمبلی تک پہنچ چکے ہیں۔

گھوٹکی کی درگاہ عالیہ بھرچنڈی شریف کے پیر بھی سیاسی حوالے سے کافی اہم ہیں جن کے پیر عبدالحق عرف میاں مٹھو آئے دن ہندو لڑکیوں کی مذہب تبدیلی اور شادیوں کے حوالے سے خبروں میں رہتے ہیں۔

سیاسی گدیوں کی پولیٹیکل اکانومی

سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بالخصوص دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کی سیاست میں درگاہوں، درباروں اور پیروں کا کردار بہت مضبوط ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں مقامی درگاہوں کے گدی نشینوں کی سیاست اور انتظامیہ میں گرفت موجود ہے جہاں مرید اپنے پیر کے فیصلے قبول کرنے کے پابند ہیں۔

مذہب اور روحانی گدوں کے محقق ، محمد ضیاء الحق نقشبندی نے حمارا ہند کو بتایا کہ مزارات اور مزارات سے تعلق رکھنے والے روحانی راہب خود انتخابات میں حصہ لیتے ہیں یا اپنے نمائندوں کو امیدوار نامزد کرتے ہیں۔

اُن کے بقول پاکستان کے متعدد حلقوں میں اس روایت کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے بجائے روحانی گدیوں کے درمیان لڑے جاتے ہیں۔

روحانی گدیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ اراکین اسمبلی 2017 میں سرگودھا کی درگاہ سیال شریف سے وابستہ پیر خواجہ حمیدالدین سیالوی کی ہدایت پر اپنی نشستوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔

اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ برِصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج کے دوران خطے میں جاری مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ پر ایک منصوبے کے تحت روحانی گدیوں کی سیاست میں کردار کو دوبارہ فروغ دیا تھا۔

محمد ضیاء الحق نقشبندی کہتے ہیں “برطانوی راج کے دوران انگریز بھی اس خطے کی سیاست پر درگاہوں اور پیروں کے کردار کے قائل تھے اور وہ خطے کے روحانی و صوفی بزرگوں سے یا تو تعاون کر کے چلتے تھے یا پھر انہیں مراعات و عطیات اور زمین دیتے تھے تاکہ اُن کی طرف سے کسی بھی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ پر تحقیق کرنے والی برطانوی پروفیسر سارہ انصاری اپنی کتاب ”صوفی سینٹس اور اسٹیٹ پاور، پیرز آف سندھ 1843-1947‘ میں لکھتی ہیں کہ برطانوی راج نے سندھ کے پیروں کو سیاسی طاقت دینے کے لیے 1876 میں ‘اینکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ’ نافذ کیا جس میں 20 برس تک توسیع کی جاتی رہی۔

سارہ انصاری لکھتی ہیں اس ایکٹ کا بنیادی مقصد مقروض زمینداروں کو عارضی طور پر معاشی تحفظ پہنچانا تھا مگر مریدوں کی شکل میں مالی مدد کے پوشیدہ ذرائع موجود ہونے کے باوجود پیروں نے بھی اشرافیہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ایکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اینکمبرڈ ایکٹ کے تسلسل کے طور پر 1905 میں کورٹ آف وارڈز سسٹم اور بعد میں کوآپریٹیو سوسائیٹیز ایکٹ بھی متعارف کرائے گئے جن کا پیروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

سارہ انصاری مزید لکھتی ہیں کہ برطانوی حکمرانوں نے 1886 میں ‘بمبئی ایکٹ’ متعارف کر کے پیروں کو تنازعات کے حل کرنے کے اختیارات دیے اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہی پیروں کی معاشی طاقت زمینوں کے بڑے رقبے خریدتے وقت نظر آنا شروع ہوئی۔

قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے پیروں کی حمایت کی پالیسی کا تسلسل جاری رکھا۔

اب برسوں سے اقتدار میں رہنے سے سندھ کے پیروں اور گدی نشینوں کے نہ صرف سیاسی اور سماجی رتبے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وہ معاشی طور پر بھی کئی گنا طاقتور بن چکے ہیں۔

پیری مریدی کی بنیاد پر ووٹ دینے کے رجحان میں کمی

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیہی سندھ میں روحانی جماعتیں بتدریج اپنا اثر و رسوخ کھو رہی ہیں۔

دیہی سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی ذوالفقار کھنبر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے کے کئی دیہی اضلاع میں پیری مریدی کی بنیاد پر ووٹ دینے میں کمی ہو رہی ہے جب کہ مذہبی جماعتوں، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (ف) کی شکل میں مذہبی ووٹ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 16 فروری کو سانگھڑ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 43 میں مسلم لیگ فنکشنل نے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا کرنے کے بجائے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کی۔

پیری مریدی کی بنیاد پر ووٹ دینے کے رجحان میں کمی کے اسباب بتاتے ہوئے صحافی نجم سہروردی کہتے ہیں ماضی میں روحانی گدیوں سے وابستہ پیر اپنے اولیا کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنے لوگوں کے پاس آتے تھے لیکن اب یکسر یہ معاملہ تبدیل ہو گیا ہے۔

اُن کے بقول، “پہلے سجادہ نشین سال میں ایک بار لازمی کسی علاقے کا دورہ کرتے اور اپنے پیروکاروں سے مسائل دریافت کرتے تھے مگر گزشتہ دو دہائیوں سے یہ سلسلہ عملی طور پر ختم ہو کر رہ گیا ہے۔”

Photo Credit : https://www.imago-images.com/bild/st/0087944947/w.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: