سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ: پیپلز پارٹی کلین سوئپ کی جانب گامزن

خبریں

پاکستان کے صوبے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نےایک بار پھر واضح برتری حاصل کر لی ہے جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف سمیت دیگر جماعتیں خاطر خواہ نشستیں حاصل نہیں کر سکیں۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 14 اضلاع اور چار میونسپل کارپوریشنز میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار اور تیسرے نمبر پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 23 میونسپل کمیٹیوں کی 354 میں سے 200 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔جی ڈی اے اور آزاد امیدواروں نے 17،17 پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) 13 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی 5 نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ 99 نشستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

اسی طرح 100 ٹاون کمیٹیوں میں بھی پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی ہے۔ کُل 694 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے اب تک 375 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہاں 52 نشستوں پر جی ڈی اے کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جب کہ 45

آزاد امیدوار بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ تحریک انصاف نے صرف نونشستوں پر کامیابی سمیٹی۔

پیپلز پارٹی نے نواب شاہ، میرپور خاص، سانگھڑ، کندھ کوٹ، خیرپور، شکار پور، کشمور، بے نظیر آباد، جیکب آباد، نوشہرو فیروز، گھوٹکی کی ٹاؤن کمیٹیوں میں فیصلہ کُن برتری حاصل کرلی ہے۔

عمر کوٹ ٹاؤن کمیٹی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے آٹھ جب کہ تحریکِ انصاف نے چھ نشستیں حاصل کیں۔ ادھر تھرپارکر میں بھی پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ میرپور خاص اور نواب شاہ کے شہری علاقے جو ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) کا گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں سے بھی پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی ہوچکی ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی نے اپنے آبادئی شہر لاڑکانہ میں عوامی اتحاد کو شکست سے دوچار کردیا ہے اور جی ڈی اے کے رہنما معظم عباسی جے یو آئی (ف) کے مولانا راشد محمود سومرو کے آبائی حلقے کی یونین کمیٹیوں میں بھی پیپلز پارٹی جیتنے میں کامیاب رہی۔

عوامی اتحاد میں جی ڈی اے، جے یو آئی، تحریکِ انصاف اور دیگر قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں۔ لاڑکانہ کی میونسپل کمیٹی رتو ڈیرو اور نوڈیرو سے بھی پیپلز پارٹی نے تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق لاڑکانہ شہر کی 20 میں سے 19 یوسیز پیپلزپارٹی نے جیتی ہیں۔

پیپلزپارٹی کی بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اس جیت پر پارٹی چیئرمین اور وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے امیدواروں کی واضح کامیابی عوام کا پیپلز پارٹی پر اعتماد کا ثبوت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے پُر امن، خوشحال اور ترقی پسند سندھ کو چُنا ہے۔

ضلع کونسل لاڑکانہ کی 46 یونین کونسلز پر اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 15 یونین کونسلز پر کامیاب جب کہ ایک پر جی ڈی اے کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ لاڑکانہ کی ٹاؤن کمیٹیز کی بات کی جائے تو ڈوکری، آریجا، گریلو اور باڈہ ٹاؤنز میں سے دو پر پیپلز پارٹی جب کہ دو پر جی ڈی اے کے ٹاؤن کمیٹی چیئرمین منتخب ہوں گے۔

سکھر میونسپل کارپوریشن میں پیپلز پارٹی 22 جب کہ دیگر جماعتوں نے 10 نشستیں حاصل کیں۔ نہ صرف سکھر بلکہ لاڑکانہ، خیرپور، میرپورخاص سمیت ان چاروں شہروں کی میونسپل کارپوریشنز میں پیپلز پارٹی کو اپنا مئیر منتخب کرانے میں کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

مجموعی طور پر صوبے کے 14 اضلاع 100 ٹاؤن کمیٹیوں، 23 میونسپل کمیٹیز، 14 ڈسٹرکٹ کونسلز اور چار میونسپل کارپوریشن، 11 ٹاون میونسپل کارپوریشن اور 887 یونین کونسلز اور کمیٹیوں کے لیے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔پولنگ کے لیے مجموعی طور پر 9290 اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ جس میں 40 ہزار کے لگ بھگ عملہ تعینات تھا۔

اس دوران سات ہزار 164 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 24 ہزار 488 امیدوارروں کے درمیان مقابلہ ہوا جب کہ ان میں سے 1081 نشستوں پر اُمیدوار بلا مقابلہ پہلے ہی منتخب ہوچکے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کے خیال میں پیپلز پارٹی کی لوکل باڈیز کے الیکشن میں جیت ان اضلاع سے یقینی اور توقعات کے بالکل مطابق تھی۔اس وقت کوئی اور جماعت پیپلز پارٹی کو مشکل وقت دینے کی پوزیشن ہی میں نہیں اور بڑی حد تک یہ مقابلے یکطرفہ ثابت ہوئے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک پیپلز پارٹی کی کامیابی میں پرفارمنس کا نہیں بلکہ دیگر عوامل کا ہاتھ شامل ہے۔

مصنف اور تجزیہ کار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کی آدھی صدی سے زائد کی تاریخ ہے اور اس میں متوسط، غریب اور مزدور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔

اُن کے بقول پیپلزپارٹی کی کامیابی کے پیچھے اب پہلے والی نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ اس جماعت میں معاشرے کے طاقت ور طبقات کی شمولیت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے بااثر خاندانوں اور شخصیات کی اکثریت پیپلز پارٹی میں شامل ہے اور پھر ایسا معاشرہ جہاں اب بھی زمینداری، وڈیرہ شاہی ہو اور برادریوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہو وہاں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔

ان کے خیال میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کی دوسری اہم وجہ اس کا 14 سال سے صوبے میں مسلسل اقتدار میں رہنا ہے اور پھر لوگوں کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ فی الحال کوئی اور سیاسی جماعت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ انہیں طاقت کے ایوانوں سے باہر کرسکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں سے پیپلز پارٹی مخالف امیدوار بھی اس بار زیادہ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ووٹ بھی حاصل کیے ہیں جن میں جی ڈی اے، تحریک انصاف اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے بھی ان انتخابا ت میں حصہ لیا ہے جس سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں صوبے میں مقابلے کی فضا بن سکتی ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://static.abplive.com/ani-images/PPP_July29.jpg