سندھ میں بلدیاتی انتخابات: دھاندلی کے الزامات، پرتشدد واقعات میں دو افراد ہلاک

خبریں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کاعمل مکمل ہو گیا ہے جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

صوبے کے چارڈویژنز کے 14 اضلاع میں دن بھر جاری رہنے والے لڑائی جھگڑوں کے دوران کم سے کم دو افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

کندھ کوٹ کے علاقے میں مخالف گروپس کے درمیان تنازع کے بعد الیکشن عملے کو اغوا کرلیا گیا جسے ڈاکوؤں سے مذاکرات کے بعد رہائی مل سکی۔

ضلع سکھر کے شہر پنو عاقل کی یوسی جوناس اور روہڑی میں پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال ہوا جس سے 15 افراد زخمی ہوگئے جب کہ ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اس دوران پولیس اور پولنگ کے عملے کو بھی تشدد کانشاہ بنایا گیا جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے پہنچ کر حالات قابو میں کیے۔ پولیس نے بکتر بند گاڑی میں عملے کو نکالا اور اس دوران وہاں پولنگ کا عمل بھی مقررہ وقت سے پہلے ہی ختم کردیا گیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنو عاقل میں پولنگ کے دوران ہگامہ آرائی کرنے پر 13 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ادھر جیکب آباد میں بھی پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی اتحاد کے کارکنوں کے درمیان مختلف مقامات پر لڑائی جھگڑوں، الیکشن عملے کو یرغمال بنانے اور مبینہ دھاندلی کی شکایات ملی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام نے الزام عائد کیاہے کہ لاڑکانہ میں خواتین کے پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کرکے مخالفین کو زبردستی ہرایا جارہا ہے جب کہ سانگھڑ کی یوسی کوٹ نواب میں بھی پیپلز پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے ورکرز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

اس دوران پولنگ کا عمل کافی دیر تک معطل رہا۔تحریکِ انصاف کی صوبائی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹنڈو آدم میں پولنگ کے دوران تشدد کے واقعے میں تحریکِ انصاف کے امیدوارظفر گنڈا پور کے بھائی کو قتل کردیا گیا تاہم پولیس نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ضلع کشمور کے علاقے گڈو میں پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں تصادم کے بعد رینجرز کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا۔ اس دوران کوریج کرنے پر رینجرز اہلکاروں کی جانب سے مقامی نیوز چینل دنیا نیوز کے رپورٹر فرحان قریشی پر بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔

فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے ان کا موبائل چھین کر تمام ویڈیوز بھی ڈلیٹ کروادیں۔ واقع پر صحافیوں نے بھی احتجاج کیا جب کہ قمبر میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام میں يوسي آبڑی کے پولنگ اسٹیشن میں جھڑپ کے دوران پولیس نے جي يو آئی کے اميدوار صدام حسین سانگاھ کو گرفتار کرلیا۔

ادھر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے میرپور خاص میں پریزائیڈنگ افسر کو دھمکانے کے واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے ریٹرننگ افسر کومتعلقہ افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

صوبے میں جاری شدید گرمی کی لہر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کئی جگہوں بالخصوص تھرپارکر میں لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ادھر پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے زیادہ وقت دیا جائے اور اس کے لیے شام سات بجے تک کا وقت مقرر کیا جائے۔ تاہم کمیشن نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

سندھ کے 14 اضلاع میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے جن میں 51 لاکھ 57 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔

پولنگ کے لیے مجموعی طور پر 9290 اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے جس میں 40 ہزار کے لگ بھگ عملہ تعینات تھا۔

اس دوران 7 ہزار 164 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 24 ہزار 488 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جب کہ ان میں سے 1081 نشستوں پر بلا مقابلہ امیدوار منتخب ہوچکے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل کے چیئرمین وائس چیئرمین، یوسی کونسلرز، ضلعی کونسلز، میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب کیا جارہا ہے جب کہ سیکیورٹی کے لیے بلدیاتی انتخابات والے اضلاع میں 48 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

الیکشن پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو کامیابی ملنے کے واضح امکانات ہیں تاہم دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جمیعت علمائے اسلام، سندھ یونائیٹڈ پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

انتخابی شیڈول کے مطابق سندھ میں پہلے مرحلے میں 4 ڈویژن سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص کے 14 اضلاع میں ووٹ ڈالے گئے جن میں جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ ، شکار پور، لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ ، گھوٹکی، خیر پور، نوشہرو فیروز ، شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ ، میرپور خاص ، عمر کوٹ اور تھر پارکر شامل ہیں۔

الیکشن کا انعقاد ایسے وقت میں ہورہا ہے جب سندھ اسمبلی میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے التواء کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سندھ کے بلدیاتی نظام کو آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت زیادہ خودمختار بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان ابھی صلاح مشورے چل رہے تھے۔

یہ کیس جب سندھ ہائی کورٹ میں گیا تو عدالت نے اس معاملے پر حکم امتناع دینے سے انکار کردیا جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد ممکن ہوسکا۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 26 جولائی کو کراچی اور حیدرآباد ڈویژنز میں ووٹ ڈالےجائیں گے۔

تصویر کریڈٹ : https://www.thenews.com.pk/assets/uploads/updates/2022-04-13/949988_6261187_KP-elections—APP_updates.jpg