سندھ: شادی سے ایک روز قبل ہندو لڑکی کے اغوا اور جبراً مسلمان کرنے کا نیا واقعہ

صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک گھر کی چھت سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ ایک خاتون تقریباً 25 فٹ اونچی گھر کی دیوار کی دوسری جانب کھڑی دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اور وہ چلاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ مجھے یہاں سے نکالو، میری مدد کرو، مجھے اپنے بابا کے پاس پہنچاؤ۔

چار منٹ 45 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسے کہا جا رہا ہے کہ تم دیوار سے چھلانگ لگاؤ، ہم تمہیں بچا لیں گے۔ لیکن کانچ کے ٹکڑے لگا کر محفوظ کی گئی اونچی دیوار سے خاتون کی چھلانگ لگانے کی ہمت نہیں ہوتی اور کچھ دیر کے بعد دیوار کی پچھلی طرف ہی سے اسے جھٹکے کے ساتھ اتار لیا جاتا ہے۔

اس ویڈیو میں نظر آنے والی مریم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے رواں برس 13 فروری کو ہی اسلام قبول کیا تھا اور اسے اسلام کی قبولیت کی سند سجادہ نشین گلزار خلیل ضلع عمر کوٹ کے پیر محمد ایوب جان سرہندی فاروقی نے جاری کی تھی۔

اس سند پر مریم کے انگوٹھے کے نشانات ثبت ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے بغیر کسی دباؤ اور لالچ کے اسلام کو سوچ سمجھ کر اپنی مرضی سے قبول کیا ہے۔

اسلام قبول کرنے سے قبل اس 27 برس کی خاتون کا نام رینا میگھواڑ تھا جو ضلع بدین کے تعلقہ گولاڑچی کے کڑیو گھنور گوٹھ کی رہائشی ہے۔

‘رینا کو شادی کی رسومات سے ایک دن پہلے مسلمان پڑوسی نے اغوا کیا’

لیکن والدین کا کہنا ہے کہ رینا کو اس کی شادی کی رسومات شروع ہونے سے ایک روز قبل اس کے پڑوسی قاسم خاص خیلی نے اغوا کیا۔

والدین کا الزام ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والا یہ شخص ان کی بیٹی کو اپنے ساتھ زبردستی لے گیا۔ دو دن کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اسلام قبول کر چکی ہے اور اس نے قاسم کے ساتھ شادی بھی کر لی ہے۔

اس واقعے کی ایف آئی آر 13 فروری کو متعلقہ تھانے میں درج ہوئی تھی جس میں اہلِ خانہ کی جانب سے اغوا کا الزام عائد کیا گیا۔

دوسری جانب قاسم خاص خیلی اور اس کی بیوی مریم نے ، جو اسلام قبول کرنے سے پہلے رینا میگھواڑ تھی، سندھ ہائی کورٹ میں جا کر تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی اور لڑکی نے مؤقف اپنایا کہ اس کے گھر کے افراد اسے اپنے شوہر کے ساتھ آزاد زندگی نہیں گزارنے دے رہے جس پر عدالت نے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دینے کے علاوہ اغوا سے متعلق ایف آئی آر کو بھی منسوخ قرار دیا تھا۔

پولیس کے مطابق ویڈیو میں سامنے آنے کے بعد رینا میگھواڑ کو اس کی زندگی کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے وومن پروٹیکشن سیل بدین اور ایس ایچ او تھانہ کڑیو گھنور نے عدالت میں پیش کیا اور اس کا بیان جج کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔

عدالت میں مریم نے بیان دیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ عدالت میں اس کا کہنا تھا کہ اسے یہ بیان دینے میں کسی دھمکی یا دباؤ کا سامنا نہیں جس کے بعد اسے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی۔

لیکن دوسری جانب رینا کی والدہ شریمیتی دیوی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا میں دو روز قبل آنے والی ویڈیو سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے۔

رینا کماری میگوار کے چچا ہمرو مل نے حمارا ہند کو بتایا کہ ان کی بھانجی بہت دباؤ میں ہے اور انہوں نے دباؤ میں یہ بیان دیا۔

ہمیرومل کے مطابق پولیس نے ان اثر و رسوخ رکھنے والے ملزمان کا مکمل ساتھ دیا۔ ہماری جانب سے درج کرائے گئے مقدمے پر کوئی بھی کارروائی نہ کی گئی، کسی ملزم کو گرفتار تک نہ کیا گیا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد گھر والے قاسم خاص خیلی کے گھر گئے لیکن انہیں بیٹی سے ملنے نہیں دیا گیا جب کہ اہل خانہ کے مطابق پولیس نے بھی ویڈیو سامنے آنے کے بعد لڑکی کو والد سے نہیں ملنے دیا۔

اُن کے بقول جب لڑکی پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے پر تیار ہوئی اس کے بعد ہی اس کے والد کو بتایا گیا کہ لڑکی ایک بار پھر شوہر کے ہمراہ ہی جانا چاہتی ہے۔

ہمیرو مل نے الزام لگایا کہ وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ملزمان نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے پولیس کے ساتھ مل کر ان کی بیٹی کو اغوا کیا ہوا ہے اور اسے زبردستی مسلمان کر کے شادی رچائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ رینا کی ماں شریمیتی اپنی بیٹی کے لیے سخت پریشان ہے اور وہ اس پریشانی اور غم کی کیفیت میں کئی بار بے ہوش ہو چکی ہے۔

اہل خانہ کا مزید دعویٰ ہے کہ جس روز رینا کی گھر کی دیوار پر چڑھ کر رونے کی ویڈیو سامنے آئی اس سے چند روز قبل بھی گھر سے مار پیٹ اور رونے کی آوازیں سنائی دی گئی تھیں۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور عدالتی احکامات کے تحت ہی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

معاملے پر بات کرتے ہوئے آل پاکستان ہندو پنچایت کے جنرل سیکریٹری روی دوانی کا کہنا ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب کے درجنوں واقعات سامنے آچکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کیا جارہا۔

ان کے خیال میں اس کی بڑی وجہ ہندو میریج لاز پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے بڑے اسلامی ممالک میں بھی ولی کے بغیر مذہب تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔

‘مبینہ طور پر زبردستی تبدیلی مذہب کو روکنے کے معاہدے پر کہیں عمل نہیں ہو رہا’

یاد رہے کہ اس حوالے سے رواں سال جنوری میں سندھ میں ہندو اقلیتی برادری کی مبینہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے لیے معاہدہ سامنے آیا تھا۔ تبدیلیٔ مذہب کے حوالے سے سرکردہ سمجھے جانے والے بعض علما اور پاکستان ہندو کونسل کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت فریقین میں اتفاق ہوا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق پیشگی اطلاع کی جائے گی۔ جب کہ دوسرے فریق کو مطمئن کرنے کے لیے وقت بھی دیا جائے گا۔ تاہم روی دوانی کے مطابق اس معاہدے پر کہیں عمل نہیں کیا جارہا۔

جبری تبدیلی مذہب کے واقعات من گھڑت قرار

انسانی حقوق کے قومی اور بین الاقوامی ادارے بشمول انسانی حقوق کمیشن پاکستان مبینہ جبری تبدیلی مذہب پر آوازیں اٹھاتے آئے ہیں۔ تاہم حکومت پاکستان اس سے انکاری رہی ہے اور حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ اس قسم کے الزامات من گھڑت اور غلط ہوتے ہیں جب کہ اقلیتوں کو ملک میں مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہے۔

دوسری جانب ، حکومتی اسمبلی کے ایک رکن ، لال مالھی نے کچھ ہفتوں قبل حمارا ہند سے کہا تھا کہ حکومت جلد ہی وفاقی سطح پر پارلیمنٹ میں ایک قانون متعارف کرائے گی جس سے جبری تبدیلیوں کو روکنا ممکن ہو سکے گا۔

Photo Credit : https://www.thestatesman.com/wp-content/uploads/2020/06/marriage-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: