سعودی عرب اسرائیل تعلقات کی بحالی بائیڈن انتظامیہ کی بڑی جیت ہو گی، تجزیہ کار

خبریں

 تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ ایران کا جوہری پروگرام ہو یا سعودی عرب کی سکیورٹی، ریاض اور ییروشلم کے مفادات مشترکہ ہیں۔ اس ماحول میں اگر صدر بائیڈن کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار ہو جاتے ہیں تو یہ بائیڈن انتظامیہ کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

صدر بائيڈن مشرق وسطی کے تین روزہ دورے پر ہیں اور جمعے کو ان کا پڑاو سعودی عرب میں ہے۔

صدر بايئڈن نے اپنے اسرايئل کے دورے کے آغاز ميں امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کوبہتر بنانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ خطے کے استحکام پر زور دیا تھا۔

’’ہم خطے میں اسرائیل کی شموليت کو آگے بڑھاتے رہیں گے- عظیم ترین امن، عظیم تر استحکام، عظیم تر رابطہ۔ یہ اہم ہے، یہ خطے کے تمام لوگوں کے لیے اہم ہے‘‘۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک اگرچہ صدر بايئڈن نے اب تک سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے پراپنی توجہ مرکوز رکھی مگر مشرق وسطیٰ کے اپنے اس پہلے دورے میں سابق صدر ٹرمپ کے دور کے منصوبے ’ ابراہم اکارڈ‘ یعنی “ابراہیمی معاہدے” کوآگے بڑھانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

پروفيسر مقتدر خان، ڈیلے وئر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبے سے وابستہ ہیں اور یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز پروگرام کے بانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امريکہ اگراسرايئل اور سعودی عرب کے درمیان سفارت کاری نہ بھی کرے تب بھی خطے ميں اپنی سلامتی، انٹيلجنس سپورٹ اورايران کے خلاف اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے سعودی عرب ، اسرايئل سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ايک عرصے سے کوششيں کر رہا ہے۔

صدر بائیڈن جمعے کو اسرائیل سے سعودی عرب کے لیے براہ راست پرواز کریں گے۔ اس ڈائریکٹ فلائٹ کو تجزیہ کار اس حوالے سے اہم سمجھتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں ممکن ہے کہ اسرائیل سے مسلمان کمیونیٹی حج کے مقصد سے جب سعودی عرب جائے تو ان کو بھی ڈائریکٹ فلائٹ کی سہولت حاصل ہو۔ اسرائیل اس بارے میں پہلے ہی پیشکش کر چکا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے سعودی عرب جانے والے براہ راست پروازیں شروع کر سکتا ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ ميں ايران پروگرام کے ڈايئريکٹراليکس وٹانکا نے بھی اسی نکتے پر زور ديتے ہوۓ  کہا کہ “ظاہر ہے کہ بائیڈن کا يہ دورہ ابراہیمی معاہدے کو آگے بڑھانے کے بارے میں ہے اوربايئڈن سمجھتے ہيں کہ اسرائیل اور سعودی عرب کو ايران سے خطرہ ہے تو ان ممالک کے مابين تعلقات استوار کرنے ميں امريکہ کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس دورے کا مقصد سستے تیل کی ترسیل نہیں بلکہ ابراہیمی معاہدے کی توسیع ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب اور امريکہ کے درمیان تعلقات بھی امريکی تجزيہ کاروں ميں موضوع بحث بنے ہوئےہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بايئڈن سعودی عرب سے بہتر تعلقات بنانا چاہتے ہيں، يہ تعلقات خاشقجی قتل کے کيس کے بعد شديد سرد مہری کا شکار چلے آ رہے ہیں- اور بايئڈن بارہا خاشقجی قتل کے پس منظر میں ہی سعودی عرب کو ’ کم ذات ‘ قرار دے چکے ہیں۔

ايران جوہری معاہدہ اور اسرايئل:

صدر بايئڈن کی اسرائیلی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور اس کا جوہری پروگرام گفتگو کا محور رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے راہنماوں نے باور کرایا ہے کہ وہ کسی صورت ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیں گے۔

واشنگٹن ڈی سی مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ ميں ايران پروگرام کے ڈايئريکٹر ايلکس وٹانکا نے  کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر پڑوسی ملکوں کے خدشات دور نہیں کر سکا ہے۔

’’ یہ صاف ظاہر ہے کہ ایران اپنے عرب ہمسايہ ممالک کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہا ہے کہ اس کے کوئی مذموم عزائم نہیں ہیں جس سے ہمسايہ عرب مسلم ممالک میں ايران کے خلاف مخالفت پیدا ہوئی ہے۔‘‘

بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر، جیک سلیوان کے مطابق، بائیڈن اس موقف پر ڈٹے رہيں گے کہ “ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے اور اس کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ سفارت کاری ہے۔”

ايلکس وٹانکا کے مطابق سعودی عرب خطے ميں ایک بڑا کھلاڑی ہے اور اگر سعودی عرب اور اسرائیل کے درميان تعلقات بہتر ہوئے تو یہ بائیڈن انتظامیہ کی بہت بڑی جیت ہو گی۔

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/a/a1/Israel-Saudi_Arabia_Locator.png