سابق مصری صدر انور السادات کا قتل جس نے مشرقِ وسطیٰ میں بہت کچھ بدل دیا

مصر میں چھ اکتوبر 1981 کو ‘جنگِ رمضان’ کی یاد میں ایک فوجی پریڈ ہو رہی تھی۔ اس تاریخ کو 1973 میں اسرائیل کے خلاف ہونے والی اُس جنگ میں مصر اپنی کامیابی کا دعوے دار تھا اور اسی لیے اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جاتا تھا۔

​سلامی کے چبوترے پر مصر کے صدر انور السادات اپنے نائب حسنی مبارک، وزیرِ دفاع ابو غزالہ کے ساتھ موجود تھے۔ حاضرین میں دیگر سفارت کاروں کے ساتھ اسرائیل کے سفیر موشے ساسن بھی شامل تھے۔

پریڈ کے دوران فضا میں جنگی طیارے میراج فورمیشن بنا کر پرواز کر رہے تھے۔ زمین پر پریڈ میں شامل فوجی دستے سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

اسی دوران پریڈ میں فوج کے آرٹلری یونٹ کا دستہ سلامی دیتے ہوئے گزرا تو اس کے پیچھے اچانک ایک فوجی ٹرک آکر رک گیا۔

ٹرک سے چار مسلح افراد چھلانگ لگا کر اترے۔ صدر کی سیکیورٹی پر مامور افراد اس حرکت کو پریڈ ہی کا حصہ سمجھے اس لیے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔

سلامی کے چبوترے کی طرف بڑھنے والے ان چار فوجیوں میں سے ایک نے گرینیڈ پھینکا جو نہیں پھٹا۔ اس کے بعد اس نے مزید گرینیڈ پھینکے اور باقی فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

یہ سب کچھ اتنا اچانک اور تیز رفتاری سے ہو رہا تھا کہ وہاں بھگدڑ مچ گئی۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔

صدر انور السادات اپنی جگہ پر کھڑے حیرانی و پریشانی کے عالم میں یہ سب منظر دیکھ رہے تھے کہ اتنے میں حسین عباس نامی فوجی نے اسنائپر سے انور سادات کی گردن اور سینے کا نشانہ لیا۔

انور سادات زمین پر گر پڑے اور اتنی دیر میں ایک اور حملہ آور عبدالحمید نے بھی اپنی رائفل کی سبھی گولیاں سادات کی جانب فائر کر دیں۔

بعدازاں خون میں لت پت انور سادات کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے معادی ملٹری اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

کیپٹن خالد الاسلامبولی اس روز انور السادات پر اس حملے کی قیادت کر رہا تھا۔ حملہ آوروں کو موقعے پر ہی گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں سزائے موت بھی دی گئی۔

انور سادات مشرقِ وسطی، مصر اور عرب اسرائیل تنازع سے متعلق بہت کچھ بدلنا چاہتے تھے لیکن ان کے قتل نے خطے کی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔

پس منظر میں رہنے والا چہرہ

انور السادات ایک حادثے کے نتیجے میں مصر کے صدر بنے تھے۔ 28 ستمبر 1970 کو دل کا دورہ پڑنے سے عرب دنیا اور مصر میں مقبولیت رکھنے والے صدر جمال عبدالناصر کی اچانک موت کے بعد انہوں ںے اقتدار سنبھالا تھا۔

جمال عبدالناصر 1952 میں مصر میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئے تھے۔ ناصر عرب قوم پرستی اور سوشلزم کے حامی تھے اور انہوں نے مصر میں ایک سنگل پارٹی سسٹم قائم کیا تھا جس کے تحت وہ 16 برس تک مصر پر حکومت کرتے رہے۔

ناصر 1956 میں سوئز کینال کے بحران میں ہیرو بن کر سامنے آئے تھے۔ لیکن اس کے بعد 1967 میں اسرائیل کے خلاف مصر کی سرکردگی میں لڑی گئی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی پسپائی سے انہیں گہرا دھچکا لگا تھا۔

جمال عبدالناصر کی سوانح عمری لکھنے والوں کے مطابق اسرائیل کے خلاف جنگ میں ناکامی کے بعد ان کی صحت مسلسل گرنا شروع ہو گئی تھی اور انہیں 1969 میں جب دل کا دورہ پڑا تو انہوں نے انور السادات کو اپنا نائب بنا دیا تھا۔

نہرِ سوئز کی مصر کے لیے اہمیت کی وجہ سے جمال عبدالناصر اس کے مشرقی کنارے تک سینا کے علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول ختم کرنے کی فکر میں تھے۔

اس کے ساتھ ہی 1967 کی جنگ میں پسپائی کی وجہ سے انہیں عرب دنیا کے لیڈر کے طور پر اپنی مقبولیت میں کمی کا بھی خدشہ تھا۔

انور السادات کے سوانح نگار ہیتھر لیر ویگنر کے مطابق مصر پر برطانوی حکومت اور بعد میں بادشاہت کے خلاف بغاوت میں سادات نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ لیکن مختلف الزامات میں قید ہونے کی وجہ سے وہ پس منظر میں رہے اور حکومت کا تختہ الٹنے میں جمال عبدالناصر کا کردار نمایاں رہا۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد مصر کی سیاست اور عوامی مقبولیت کا محور جمال عبدالناصر تھے اور اس میں کوئی ان کا ہم پلہ نہیں تھا۔ اس لیے جب سادات نے اقتدار سنبھالا تو عوامی سطح پر مقبول رہنما نہیں تھے۔

ہیتھر ویگنر کا کہنا ہے کہ جمال عبدالناصر خود کو ایک عرب لیڈر کے طور پر پیش کرتے تھے جب کہ سادات جنگ اور خطے کی سیاست کے باعث مصر کی معیشت کو درپیش مسائل حل کرنا چاہتے تھے۔

جمال عبدالناصر سوویت یونین کے قریبی اتحادی تھے جب کہ سادات ماسکو پر مصر کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور معاشی انحصار کو روکنا چاہتے تھے۔

امریکہ کے نیشنل وار کالج کے لیے اپنے مقالے میں جیمز بین اور کریک گرارڈ لکھتے ہیں کہ سادات کو اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہیں 1967 میں اسرائیل کے پاس چلے جانے والے علاقے واپس حاصل کرنے سمیت معاشی و سیاسی محاذ پر پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنا تھا۔ انور السادات اس کے ساتھ ساتھ داخلی اور معاشی استحکام پر متوجہ ہونے کے لیے عرب اسرائیل تنازع کا کوئی پُر امن حل بھی نکالنا چاہتے تھے۔

جیمز بین اور کریگ گراڈ لکھتے ہیں کہ سادات کے خیال میں یہ دونوں مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا اقدام کرنا ضروری تھا جس سے انہیں عالمی توجہ حاصل ہو۔

ان کے مطابق سادات نے امن کے لیے محدود پیمانے پر جنگ کی تیاری شروع کر دی تھی۔

دوسری جانب مصر کے اندر بے چینی بڑھ رہی تھی۔ سوئز کینال کا مشرقی کنارہ اسرائیل کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے مصر کو معاشی مسائل کا سامنا تھا۔

اس لیے سادات نے چھ اکتوبر 1973 کو یہودیوں کے تہوار یوم کپور کے موقع پر نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے پر جنگ کا آغاز کر دیا جس کی وجہ سے اس جنگ کو اس دن کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔

یہ مسلمانوں کے لیے مقدس تصور ہونے والے مہینے رمضان کے دن بھی تھے اس لیے اسے ‘جنگِ رمضان’ اور چوتھی عرب اسرائیل جنگ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ جنگ لگ بھگ 16 دنوں تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں عالمی دباؤ بڑھا جس کے بعد مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔

اس جنگ میں مصر نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے میں داخل ہوکر اسرائیل کو دھکیلنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس پیش قدمی کو سادات 1967 کی جنگ میں ہونے والی شکست کا حساب چکانے میں کسی حد تک اپنی کام یابی تصور کرتے تھے۔

انور السادات کو توقع تھی کہ اس پیش قدمی کے بعد وہ اسرائیل سے سینا کا علاقہ لینے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بہتر پوزیشن کے ساتھ بات کرسکیں گے۔

اس جنگ میں مصر اور اسرائیل دونوں ہی کو نقصان اٹھانا پڑا لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک میں جنگ بندی اور پُر امن تعلقات بڑھنا شروع ہوئے۔

سینا کے علاقے میں دوبارہ مصر کی فوج کے داخلے کو سادات نے قومی سطح پر ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا اور اس کے ساتھ ہی علاقہ واپس حاصل کرنے کے لیے کوششیں بھی تیز کر دیں۔

کیمپ ڈیوڈ اور نوبیل امن انعام

سادات نے مراکش اور رومانیہ کے توسط سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے بھی شروع کر دیے تھے۔

انہیں رابطوں کے بعد 1977 میں سادات نے اچانک تل ابیب کا دورہ کیا اور امن مذاکرات سے متعلق اپنی تجاویز اسرائیلی پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں۔ اس اقدام نے دنیا کو حیران کر دیا۔

اس دورے کے بعد امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں 17 ستمبر 1978 کو اسرائیل کے وزیرِ اعظم میناہن بیگن اور مصر کے صدر انور سادات نے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے جسے ‘کیمپ ڈیوڈ’ معاہدے کا نام دیا گیا۔

کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں طے کیے گئے فریم ورک کے مطابق ہونے والے مذاکرات کے بعد بالآخر 1979 میں اسرائیل نے سینا کے علاقے سے اپنی فوج واپس بلا لی اور سوئز کینال پر پوری طرح مصر کو کنٹرول حاصل ہو گیا۔

اسی معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بھی قائم ہو گئے۔ اس معاہدے پر انور السادات اور بیگن کو 1978 کا نوبل انعام برائے امن دیا گیا۔

ناپسندیدگی بڑھنے لگی

کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مغربی ممالک میں انور سادات کی مقبولیت میں اضافہ ہوا لیکن مصر کے اندر اور عرب دنیا میں صورتِ حال مختلف تھی۔

سیکیورٹی امور کے معروف امریکی تجزیہ کار بروس ریڈل نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سادات کے اس معاہدے کو عرب دنیا میں فلسطین کاز سے غداری کے طور پر دیکھا گیا۔

مصر کے اندر مخالفین کو دبانے کے لیے سادات نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں اور پولیس کے ایک کریک ڈاؤن میں 1500 سیاسی حریفوں کو گرفتار کیا گیا۔

بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے سادات کی بڑھتی ہوئی قربت اور امن کے لیے یک طرفہ کوششوں کی شدید مخالفت پائی جاتی تھی اور سادات کے لیے خطرات بھی بڑھ رہے تھے۔

مصر میں انقلاب کی کوشش

دوسری جانب سادات کے قتل کے اسباب پر تفصیلی مقالہ لکھنے والے رومانین اسکالر اودیو رائتچی کا کہنا ہے کہ 1979 میں ایران میں مذہبی قیادت میں آنے والے انقلاب کے بعد مصر میں بھی سنی جہادی گروہ بھی مصر میں ایسی ہی کسی تبدیلی کی امید لگا چکے تھے۔

لیکن مصر میں ایسی کوئی تبدیلی لانے کے لیے انور السادات کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا۔ اس مقصد کے لیے ‘اجپشین اسلامک جہاد’ نامی تنظیم نے ایک منصوبہ تیار کیا۔

یہ دراصل مختلف مسلح گروہوں کا ایک اتحاد تھا جس کی قیادت محمد عبدالسلام فرج کر رہے تھے۔

سادات کے قتل کے لیے مصر کی فوج کے ایک نوجوان عبدالرحمٰن اسلامبولی کو تیار کیا گیا۔ مصر کی فوج کی اعلیٰ قیادت میں لیفٹننٹ جنرل عبود الزمر اس بات پر قائل ہو چکے تھے کہ شاہِ ایران کی طرح مصر میں سادات کا اقتدار ختم ہوجائے گا۔

وہ بھی قتل کے اس منصوبے کا حصہ تھے اور انہوں نے یقینی بنایا تھا کہ عبدالرحمٰن اسلامبولی کی پلٹون پریڈ میں شریک ہو۔

’ہم اس جنازے میں نہیں آسکتے تھے‘

‘پیس میکر’ کے عنوان سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بیگن اور سادات کی سوانح لکھنے والے ہیتھر ویگنر نے لکھا ہے کہ سادات جو تنازعات ختم کرنا چاہتے تھے اس کی جھلک ان کے جنازے میں بھی نظر آئی۔

سادات کے جنازے میں امریکہ کے تین سابق صدور، برطانوی شہزادہ چارلس اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم میناہم بیگن تو شریک ہوئے لیکن سوڈان اور صومالیہ کے سوا کسی عرب ملک کا کوئی رہنما شریک نہیں ہوا۔

سادات کی بیوہ جہان سادات نے تعزیت کے لیے آنے والے عرب رہنماؤں سے جنازے میں عدم شرکت کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں مناہم بیگن ہوں وہاں ہم کیسے آسکتے تھے۔

سادات کے قتل کے بعد کیا ہوا

عبدالرحمٰن اسلامبولی اور ان کے ساتھی مصر کے صدر کو قتل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن اس سے مصر کے اندر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

عبدالسلام فرج اور اسلامبولی کو سزائے موت دے دی گئی۔ قتل کے مںصوبہ سازوں کا ساتھ دینے پر لیفٹیننٹ جنرل زمر کو طویل عرصے قید میں رکھا گیا۔

سادات کے نائب حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالا اور مصر میں آمریت کی ایک طویل تاریخ کا آغاز ہوا۔

انور سادات کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایمن الظواہری کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدم شواہد کی بنا پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ بعد میں یہی ایمن الظواہری اسامہ بن لادن کے دست راست بنے۔

چالیس برس قبل ہونے والے اس قتل کے بارے میں تجزیہ کاربروس ریڈل اور رائتچی کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی کی نئی لہر نے جنم لیا اور خطے میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

رائتچی کا کہنا ہے کہ سادات کے قتل کے بعد عرب قائدین اسرائیل سے تعلقات بڑھانے میں محتاط ہو گئے کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیل کے ساتھ زیادہ گرم جوشی دکھانے کی صورت میں ان کا انجام بھی انور السادات جیسا ہو سکتا ہے۔

سادات کی موت کے بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ بھی محض ایک یادگار رہ گیا۔ اسرائیل نے گولان پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا۔

بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ 1982 کی لبنان جنگ، حزب اللہ کے قیام اور القاعدہ کے آغاز کی جڑیں بھی سادات کے قتل سے جا ملتی ہیں۔

Photo Credit : https://www.arabnews.com/sites/default/files/styles/n_670_395/public/main-image/2018/04/27/1170961-909860264.jpg?itok=kFRTX2iX

Leave a Reply

Your email address will not be published.