سابق جج کے ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزامات، اسلام آباد ہائی کورٹ کا نوٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر لگائے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے اُنہیں منگل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سینئر صحافی انصار عباسی، عامر غوری اور اخبار جنگ اور جیو ٹی وی کی انتظامیہ کو بھی عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

رانا شمیم نے اپنے بیانِ حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جولائی 2018 میں عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پر اثر انداز ہوئے تھے۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کے بیانِ حلفی کی خبر اخبار دی نیوز کے صحافی انصار عباسی نے دی تھی۔

جسٹس (ر) رانا شمیم ​​نے ایک انٹرویو میں بیان حلفی کی تصدیق کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ زیرِ التوا معاملات پر رپورٹنگ اب روش بن چکی ہے۔ عدالت آزادیٔ اظہار کی قدر کرتی ہے، لیکن اس طرح عدلیہ کا وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

جسٹس رانا شمیم نے اپنے بیانِ حلفی میں الزام لگایا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار اپنی اہلیہ کے ہمراہ عام انتخابات سے قبل گلگت بلتستان میں چھٹیاں گزارنے آئے تھے اور اس دوران اُنہوں نے اپنے رجسٹرار کو ہدایت دی تھی کہ وہ جج سے رابطہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے قبل ضمانت پر رہائی نہ ملے۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں کسی کی منشا نہیں جانتا، میں احمق نہیں ہوں، میں نے کبھی بند کمرے میں بات نہیں کی۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جسٹس رانا شمیم کا بیان ،ان کے بقول، یا تو کسی کو فائدہ دینے کے لیے ہے یا پھر انہیں کوئی عہدہ چاہیے جس کی تیاری ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس رانا شمیم کے حوالے سے بہت سے کیسز ایسے تھے جن پر انہوں نے منفی آبزرویشنز دی تھی۔

سابق چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ رانا شمیم شاید سمجھتے ہوں کہ میری دی گئی آبزرویشنز کی وجہ سے حکومت نے انہیں توسیع نہیں دی۔

رانا شمیم کے بیانِ حلفی میں مزید کیا ہے؟

بیانِ حلقی میں جسٹس رانا شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو مبینہ طور پر حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

بیان حلفی میں دعوی کیا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس نے مبینہ طور پر پہلے رجسٹرار اور پھر ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا کہ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف کو عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہیے۔ بیان کے مطابق جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پر سکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔

میں زندگی کی آخری اننگز کھیل رہا ہوں، کوئی سیاسی مقصد نہیں: جسٹس رانا شمیم

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان جسٹس رانا محمد شمیم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ “میرے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں، میں صرف سچ کو سامنے لے کر آ رہا ہوں۔”

جسٹس رانا محمد شمیم کا کہنا تھا کہ جسٹس ثاقب نثار گلگت بلتستان میں 27 لوگوں کے ساتھ آئے تھے جن میں ان کے قریبی عزیز اور دو بزنس مین دوست بھی تھے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف جسٹس ان کے پاس جب آئے تو ایک دن باغ میں بیٹھے ہوئے یہ مبینہ واقعہ ہوا، جب انہوں نے پہلے اپنے رجسٹرار اور بعد میں ایک جج کو فون ملا کر بقول جسٹس شمیم کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو 2018 کے انتخابات سے پہلے باہر نہیں آنا چاہیے۔

جسٹس رانا محمد شمیم سے سوال کیا گیا کیا آپ نے جسٹس ثاقب نثار سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ تو جسٹس رانا شمیم نے دعوی کیا کہ “بالکل میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں، جس پر ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے آپ نے کچھ سنا ہی نہیں۔”

مسلم لیگ (ن) کو عدالتی فائدہ تو نہیں البتہ سیاسی فائدہ ضرور ملے گا: سہیل وڑائچ

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب بھی ماضی میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر کچھ کیا ہے تو وہ ایکسپوز ہو جاتا ہے، وہ بھٹو کا کیس ہو یا کوئی اور اگر اس میں بھی کچھ ملی بھگت ہوئی تو سامنے آ جائے گا۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پر کوئی بڑا انقلابی فیصلہ ہو گا۔ تاہم اس سے مسلم لیگ ن کو عوامی اور سیاسی دونوں لحاظ سے بہت فائدہ ہوگا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اس قسم کی صورتِ حال سے حکومت کا مورال گر سکتا ہے۔ کیوں ایک جانب اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سیاسی سرگرمیاں تیز کر رہا ہے تو وہیں مہنگائی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حکومت کا ردِعمل

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس سارے معاملے کو بیوقوفانہ کہانی قرار دیا ہے، ایک ٹوئٹ میں ان کہنا تھا کہ ایک صحافی کی حیرت انگیز اسٹوری نظر سے گزری جس میں گلگت کے ایک جج صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ ثاقب نثار صاحب کے پاس چائے پینے بیٹھے تو جج صاحب نے فون پر ہائی کورٹ کے جج کو کہا کہ نواز شریف کی ضمانت انتخابات سے پہلے نہیں لینی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کیسے کیسے لطیفے اس ملک میں نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کی مہم چلا رہے ہیں، اندازہ لگائیں کے آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں وہ آگے سے فون ملا کر بیٹھا ہے کہ آپ کے سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کہ کسی ملزم کی ضمانت لینی ہے یا نہیں لینی۔ ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کا سابق وزیرِ اعظم ہو۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بالترتیب 10، سات اور ایک برس کی قید سزا سنائی تھی۔

نواز شریف اور مریم نواز کو 13 جولائی 2018 کو لندن سے وطن واپسی پر لاہور سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

نواز شریف اور مریم نواز نے سزا کے خلاف ضمانت کے لیے اسلام ہائی کورٹ سے رُجوع کیا تھا۔ تاہم اس کی سماعت عام انتخابات کے بعد رکھی گئی تھی۔

Photo Credit : https://www.geo.tv/assets/uploads/updates/2020-10-17/313684_120905_updates.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.