سابق جج رانا شمیم کے انکشافات پر مسلم لیگ (ن) برہم، سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اُٹھا دیا ہے جب کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف نے کہا کہ رانا شمیم کے انکشافات سے ثابت ہو گیا کہ نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ رانا شمیم کے انکشافات نے ایک بار پھر 2018 کے عام انتخابات کی ساکھ پر سوالات اُٹھا دیے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس ایوان کے لیے منتخب ہونے والے 342 اراکین صاف شفاف انتخابی عمل سے گزر کر یہاں آئیں۔

رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے 2018 میں گلگت بلتستان کے دورے کے موقع پر اپنے رجسٹرار کو کہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے جج سے ملیں اور انہیں پیغام دیں کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہ دیں۔

رانا شمیم نے اپنا بیانِ حلفی 10 نومبر کو لندن کے ایک اوتھ کمشنر کے سامنے دیا تھا اور یہ خبر مقامی اخبار ‘دی نیوز’ کے صحافی انصار عباسی نے پیر کو دی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم کے بیانِ حلفی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں منگل کو طلب کر لیا ہے۔

نواز شریف جیل جا سکتے ہیں تو ثاقب نثار بھی جا سکتے ہیں

اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے کہا ہے کہ رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے معاملے پر وکلا سے مشاورت کے بعد قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر رانا شمیم کا بیان درست ہے تو ثاقب نثار کی جگہ جیل ہے۔ اگر نواز شریف جیل جا سکتے ہیں تو ثاقب نثار بھی جا سکتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر رانا شمیم کا بیان درست نہیں تو انہیں سزا ہونی چاہیے۔

لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق جج رانا شمیم کے انکشاف کے بعد یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ عدالت نے سمجھوتہ کیا اور ثاقب نثار نے جو فیصلے کیے ان پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ ایک فراڈ الیکشن کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے لیکن ہمارے لیے یہ فورم ہے اور رانا شمیم کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف گھناؤنی سازش اور اس میں ملوث کرداروں کو ایک ایک کر کے اللہ بے نقاب کر رہا ہے۔ سابق چیف جج گلگت بلتستان کا مصدقہ حلف نامہ اس مذموم جرم کے خلاف گواہی ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ سابق جج رانا شمیم کا حلف نامہ مریم نواز کی 17 تاریخ کو لگنے والی اپیل ہے جس میں وہ تاخیر چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جج رانا شمیم پر مقدمہ درج ہونا چاہیے کیوں کہ انہوں نے یہ راز اتنے سالوں تک کیوں چھپا کر رکھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ رانا شمیم ساہیوال سے گلگت میں جج کیسے اور کس حکومت میں لگے؟

Photo Credit : https://www.imago-images.com/bild/st/0082244354/w.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.