زیارت سے اغوا ہونے والے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے افسر کی لاش برآمد

خبریں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سیاحتی علاقے زیارت سے اغوا ہونے والے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کوئٹہ کے ایک افسر لفٹیننٹ کرنل لئیق مرزا بیگ کی لاش مل گئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زیارت میں سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ ضلع ہرنائی اور زیارت کے درمیان پہاڑی سلسلے سے ایک لاش ملی جس کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل لئیق کے نام سے ہوئی ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے لیفٹیننٹ کرنل لائق بیگ مرزا ااور ان کے کزن عمر جاوید کو قائد اعظم ریزیڈنسی سے واپس کوئٹہ آتے ہوئے ورچوم کے علاقے میں اغوا کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایس ایس جی کے دستوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کیا، 13 اور 14 جولائی کی درمیانی شب فورسز نے دہشت گردوں کے گروپ کو پہاڑی علاقوں میں ایک نالے میں جاتے دیکھا۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا ہے کہ اپنے گرد ممکنہ گھیرے کا احساس ہونے پر دہشت گردوں نے لیفٹیننٹ کرنل لئیق کو گولی مار دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کے دیگر ساتھی اغوا ہونے والے دوسرے شخص عمر کو اپنے ہمراہ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیرِ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے افسر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اغواء کاروں کی بہیمانہ کارروائی قابل مذمت ہے جس کا مقصد دہشت اور وحشت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو اپنے ناپاک عزائم میں ناکامی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل لئیق فوج کے حاضر سروس افسر تھے تاہم ڈی ایچ اے کوئٹہ میں وہ کس پوزیشن پر کام کر رہے تھے، یہ معلوم ہونا ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل لئیق کے اغوا کا واقعہ زیارت سے 15 کلو میٹر دور ورچوم کے قریب منگل کی شب پیش آیا تھا جب وہ اپنی فیملی کے ہمراہ سفر کررہے تھے۔

زیارت لیویز کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اغوا کار فیملی کو چھوڑ کر لیفٹیننٹ کرنل لئیق اور ان کےدوست کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ بعد ازاں مغوی افراد کے اہل خانہ کو سیکیورٹی اہلکاروں نے زیارت منتقل کردیاتھا۔

لیویز ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مانگی ڈیم کو جانے والے راستے پر ناکہ لگا رکھا تھا جہاں وہ لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کررہے تھے اور اس دوران انہوں نے دو افراد کو اغوا کیا۔

لیویز حکام کے مطابق واقعے کے بعد لیویز، پولیس اور ایف سی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

یاد رہے کہ زیارت بلوچستان کا مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں ملک بھر سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔

زیارت بانی پاکستان محمد علی جناح کی رہائش گاہ ”قائد اعظم ریزیڈنسی” کی وجہ سے بھی مشہور ہے ۔سال 2013 میں دہشت گردوں نے اس ریزیڈنسی پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کر دیا تھا۔ بعدازاں اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لیبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

کالعدم بلوچ عسکریت تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سیاحوں کے اغوا کی ذمے داری قبول کی تھی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ارسال کیے گئے ایک ای میل میں بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج کے کرنل لئیق بیگ مرزا بی ایل اے کی تحویل میں ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ کرنل لئیق کو بی ایل اے کے اسپیشل فورس اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 جولائی کو گرفتار کیا۔

اغواء کے واقعے پر بلوچستان حکومت کا ردعمل

ڈی ایچ اے کوئٹہ کے افسر کے اغوا کے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے فوری رپورٹ طلب کی تھی۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے متعلقہ حکام کو سیاحوں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی جب کہ زیارت سمیت صوبے کے تمام سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے سیاحوں کے ورچوم سے اغواء کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی تھی اور انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ پولیس اور متعلقہ اداروں کی مدد سے سیاحوں کی جلد بازیابی کو یقینی بنائیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سماجی رابطوں کی ویب ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا لیفٹیننٹ کرنل لئیق کی ہلاکت افسوس ناک خبر ہے۔

تصویر کریڈٹ : https://www.laprensalatina.com/wp-content/uploads/2022/02/ac118db27d903c041109234e6e8d198282ae6420w-780×470.jpg