روس کی جانب سے مشرقی یوکرین میں بھرپور لڑائی کا انتباہ

روس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں دوبارہ بھرپور لڑائی چھڑ سکتی ہے اور وہ وہاں عام شہریوں کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھاسکتا ہے ۔ ادھر ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق، امریکہ نے ترکی کو مطلع کیا ہے کہ اس کے دو جنگی بیڑے 14 اور 15 اپریل کو بحیرہ اسود پہنچیں گے اور چار سے پانچ مئی تک وہیں رکے رہیں گے۔ ایسا یوکرین سرحد پر روسی فوج کی تعداد میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

روس کی جانب سے یہ واضح انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب روس یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔

حمارا ہند کی ایک رپورٹ کے مطابق ، ترک وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ نے سفارتی چینلز کے ذریعے ترکی کو آگاہ کیا تھا کہ اس کا بیڑا 15 روز قبل ترکی کے پانیوں میں پہنچا ہے۔ جس کی ضرورت مونٹریکس کنونشن کے تحت ترکی کے پانیوں سے بین الاقوامی بحری جہازوں کی ترسیل سے متعلق تھی۔

واضح رہے کہ روس امریکہ اور نیٹو کے بحری بیڑوں کے ترکی سے گزرنے پر ناراض رہتا ہے، اور اس نے یوکرین کی جانب سے مغرب کے ساتھ دفاعی روابط بڑھانے اور نیٹو میں شمولیت کی یوکرین کی خواہشات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان، ماریہ زیخا رووا نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت سے، جنوب مشرقی علاقے میں صورتحال مزید سنگین صورت اختیار کرلے گی، جس سے یوکرین کی ریاستی حیثیت کیلئے بھی ناقابلِ واپسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہمارا ہند کے مطابق ، روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف کی طرف سے جاری کردہ انتباہ ، کہ مشرقی یوکرائن میں ایک بار پھر جنگ شروع ہوسکتی ہے ، روس کے یوکرائن کو الحاق کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ملک کو مشرق میں علیحدگی پسندوں کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے لئے طاقت کے استعمال کو روک سکتا ہے۔

یوکرین کے فوجی سربراہ نے روس کے اِن دعووں کو مسترد کیا ہے کہ ان کا ملک مشرق میں باغیوں پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ سال دو ہزار چودہ میں روس کی طرف سے جزیرہ نما کرائمیا پر قبضے کے بعد، یوکرینی افواج اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے درمیان مشرقی یوکرین میں لڑائی جاری ہے۔ اس جنگ میں اب تک چودہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اس تنازعے کے سیاسی حل کیلئے کی جانے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

یوکرین اور مغربی ممالک نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کی مدد کیلئے اپنی افواج اور اسلحہ بھیج رہا ہے۔ روس ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے جمعرات کے روز ملک کے مشرقی علاقے ڈان باس میں اپنے فوجیوں سےملاقات کی۔

حالیہ ہفتوں میں مغربی اور یوکرینی عہدیداروں نے ملک کے صنعتی علاقے ڈان باس میں جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی سرحد پر تعینات روسی افواج میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے جمعرات کے روز صدر پوٹن سےٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے، صورتحال کی کشیدگی کم کرنے کیلئے، یوکرین سرحد پر تعینات روسی افواج کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کو بھی روسی افواج کی اضافے پر تشویش ہے، اورسن دوہزار کے بعد سے، یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کی تعداد میں کبھی اتنا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

اس کے جواب میں، روسی صدر کے ترجمان، پیسکوف کا کہنا تھا کہ روس اپنی سرحدوں کے اندر اپنی افواج کو کہیں بھی تعینات کرنے کیلئے آزاد ہے۔ انہوں نے یوکرین کی افواج پر الزام عائد کیا کہ وہ مشرقی علاقے میں لائین آف کنٹرول پر اشتعال انگیز اقدامات کر رہا ہے، جس سے روس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور صورتحال کی سنگینی میں شدت پیدا ہورہی ہے۔

تاہم یوکرین کے فوجی سربراہ رسلان ہومچک نے یوکرین کی جانب سے مشرقی علاقے میں کسی حملے کی تیاریوں کے روسی دعووں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ یہ غلط معلومات پھیلانے کی ایک مہم ہے۔

Photo Credit : https://assets.bwbx.io/images/users/iqjWHBFdfxIU/iQzp9Nvc9XfY/v1/-1x-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: