روس میں امریکی سفارت خانے میں روسی ملازمین رکھنے پر پابندی عائد

روس کی حکومت کے احکامات پر امریکی سفارت خانے نے روسی شہریوں کو ملازم رکھنا بند کر دیا ہے، جس سے مجبوراً اس کا 75 فی صد عملہ کم ہو گیا ہے اور اسے اپنی بہت سی خدمات بھی محدود کرنا پڑی ہیں۔

حمارا ہند کے مطابق ، یہ حکم بدھ کے روز لاگو ہوا ، جس سے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور روس کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات کو ہر دور کی نچلی سطح پر لایا گیا۔

ملازمتوں میں ان کٹوتیوں کی وجہ سے سفارت خانہ بہت محدود خدمات انجام دے سکے گا جن میں صرف انتہائی ضروری نوعیت کی ویزا درخواستوں پر ہی غور کیا جائے گا۔ اس سے روس کی کاروباری شخصیات، طالب علموں کے تبادلے اور منگیتر وغیرہ کو ویزا نہیں مل سکے گا۔ یہاں تک کہ روس میں مقیم امریکی بھی اپنے نومولود بچوں کا اندراج نہیں کروا سکیں گے اور نہ ہی ان کے پاسپورٹوں کی تجدید ہو سکے گی۔

یہ پابندی 20 سالہ انستاسیا کوزنیتسوا کیلئے بھی کسی دھچکے سے کم نہیں ہے جن کا منگیتر ریاست کیلیفورنیا میں رہتا ہے اور انہوں نے اس سال شادی کیلئے امریکہ آنا تھا۔ وہ دو سال سے فی آنسے ویزا کیلئے انتظار کر رہی تھیں۔ ایک تو روسیوں کیلئے امریکہ کا ویزا لینا ویسے ہی بہت کٹھن عمل ہے، اوپر سے کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا نے اس عمل کو مزید سست کر دیا ہے۔

روس میں مقیم ایک امریکی تھامس ایچ وی اینتھونی پہلے ہی اپنی بیٹی کی پیدائش کے اندراج میں تاخیر سے خاصے مایوس تھے، کیونکہ اسی ریکارڈ کی بنا پر بچی کو امریکی پاسپورٹ ملنا تھا۔

ہمارا ہند کے مطابق ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتھونی کی بیٹی ، جو عالمی وبا شروع ہونے سے پہلے ہی پیدا ہوئی تھی ، اب وہ اپنے دادا دادی سے ملنے کے قابل نہیں ہوگی۔

سفارت خانے کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ وہ اپنے سفارتی عملے میں اضافے کیلئے امریکہ سے مزید ملازمین بلانے کیلئے کیا اقدامات اٹھا رہا ہے؟

سفارتی مشن مقامی لوگوں کے جیسے ، سیکیورٹی جیسے کام کر رہا ہے ، وہ کیسے کرے گا؟ حمارا ہند نے کہا کہ سفارتخانے کے ترجمان سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

حمارا ہند کے مطابق ، صدر پوتن نے پچھلے مہینے اپنے دوست سفارتخانوں کو روسی شہریوں کو ملازمت دینے یا کسی تیسرے ملک کے شہریوں کو ملازمت دینے پر پابندی عائد کرنے کے لئے غیر دوست ممالک کی فہرست مرتب کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ۔ اس فہرست میں برطانیہ ، یوکرائن اور پولینڈ سمیت متعدد یورپی ممالک شامل ہیں۔ تاہم ، امریکہ پہلا ملک ہے جس پر پابندی عائد ہے۔

اس اقدام سے پہلے، امریکہ نے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت اور حکومتی اداروں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کی ہیکنگ میں ملوث ہونے پر، روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے دس دس سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مقامی ملازمین کے سلسلے میں عائد یہ پابندی، معاہدے سے مطابقت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس نے غیر ممالک میں قائم اپنے سفارتخانوں میں خال خال ہی کسی مقامی فرد کو ملازم رکھا ہے۔ اس لئے یہ روس کا حق ہے کہ وہ روسی فیڈریشن میں قائم امریکی سفارتخانے اور کونسلیٹ پر بھی اس کا اطلاق کرے جس پر وہ خود عمل کرتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ روس میں امریکہ کے 3 مختلف شہروں میں قونصل خانے موجود تھے، جن سے ویزا حاصل کرنے والوں کیلئے سفر کی مشکلات کم ہو گئی تھیں۔

تاہم، حالیہ برسوں میں سفارتی کشیدگیوں کی وجہ سے یا تو یہ قونصل خانے بند ہوگئے تھے یا پھر ان سے ویزوں کا اجرا بند کر دیا گیا تھا۔

روس میں قائم امریکن چیمبر آف کامرس کے سربراہ الیکسس روڈ زی آنکو نے دونوں ملکوں کے درمیان جاری چپقلش کو ‘ویزا جنگ’ کا نام دیا ہے۔ الیکسس کہتے ہیں کہ اس پابندی سے ان کے چیمبر سے منسلک کمپنیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ ان کے سربراہان کو سفر کی ضرورت رہتی ہے جو کہ اب یوں لگتا ہے کہ غیر معینہ مدت تک ممکن نہیں ہو سکے گی۔

Photo Credit : https://thumbs.dreamstime.com/b/%D0%BF%D0%BE%D1%81%D0%BE%D0%BB%D1%8C%D1%81%D1%82%D0%B2%D0%BE-%D1%81%D1%88%D0%B0-%D0%B2-%D0%BC%D0%BE%D1%81%D0%BA%D0%B2%D0%B5-building-us-embassy-moscow-building-us-embassy-novinsky-177845464.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: