روس اولینیوکا جیل پر حملےسے متعلق شواہد گھڑ نے کی کوشش کررہا ہے: امریکی عہدے دار

خبریں

امریکی عہدے دارو ں کا خیال ہے کہ روس گزشتہ ہفتے مشرقی یوکرین کے ایک علیحدہ علاقے میں جنگی قیدیوں کی ایک رہائشی جیل میں ہونے والے مہلک حملے سے متعلق جعلی شواہد گھڑنے کے لئے کام کر رہا ہے ۔

انٹیلی جینس کارروائیوں سے واقف ایک امریکی عہدے دار نے بدھ کے روز بتایا کہ امریکی انٹیلی جینس کے عہدے داروں نے تعین کیا ہے کہ روس یہ ظاہر کرنے کے لئے جھوٹے شواہد گھڑنے کی کوشش کر رہا ہے کہ29 جولائی کو اولینیوکا جیل پر حملے کی ذمہ دار یوکرینی فورسز تھیں جس میں 53 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے ماسکو کی حمایت یافتہ ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کی کنٹرول والی بستی اولینیوکا کی جیل پر حملہ کرنے کے لیے امریکی فراہم کردہ راکٹ لانچروں کا استعمال کیا تھا۔

یوکرین کی فوج نے اولینیوکا میں راکٹ یا توپوں کے کسی بھی حملے سے انکار کیا ہے۔ یوکرین کی وزارت دفاع کے انٹیلی جنس ونگ نے بدھ کے روز ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس بات کے ثبوت ہیں کہ کریملن کے حمایت یافتہ مقامی علیحدگی پسندوں نے روسی ایف ایس بی، کے جی بی کی اہم جانشین ایجنسی، اور کرائے کے گروپ ویگنر کے ساتھ ملی بھگت سے بیرک میں وہ آتش گیر مادہ استعمال کرنے سے پہلے، ایک سرنگ کھودی تھی ، جو کمرے میں آگ تیزی سے پھیلنے کا باعث بنی۔”

اہلکار نے اپنانام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ انہوں نے یہ بات اس کلاسی فائیڈ انٹیلی جنس کے حوالے سے کی ہےجس کا درجہ حال ہی میں کم کیا گیا تھا، ظاہر ہوتا ہے کہ روسی اہلکار درمیانے درجے کے ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز، یا HIMARS سے گولہ بارود بھی نصب کر سکتے ہیں کیوں کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حملے میں امریکہ کی طرف سے یوکرین کو فراہم کردہ سسٹم استعمال کیے گئے تھے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ روس کارروائی کرے گا کیونکہ اسے امید ہے کہ غیر جانبدار تفتیش کاروں اور صحافیوں کو آخرکار اولینیوکا تک رسائی مل جائے گی۔

یوکرین مؤثر طریقے سے HIMARS لانچرز کا استعمال کرچکا ہے ، جو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ فائر کرتے ہیں اور جنہیں روس کی جانب سے کسی جوابی فائرنگ کا نشانہ بننے سے پہلے تیزی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ وہ امریکہ سے مزید لانچرز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کی طرف سے جیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کی درخواستوں کے جواب میں حقائق کی تلاش کا ایک مشن مقرر کر رہے ہیں۔

گوئٹریس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے پاس مجرمانہ تحقیقات کا اختیار نہیں ہے لیکن حقائق تلاش کرنے کا مشن بنانے کا اختیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت یوکرین کے مشن کے لیے ٹرمز آف ریفرنس تیار کی جا رہی ہیں اور انہیں یوکرین اور روس کی حکومتوں کو منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔

ڈونیٹسک جیل میں یوکرینی جنگی قیدیوں میں ماریوپول کےسقوط کے دوران پکڑے گئے فوجی شامل تھے۔ انہوں نے جنوبی بندرگاہی شہر میں دیوہیکل Azovstal اسٹیل مل میں شہریوں کے ساتھ چھپ کر مہینوں گزارے۔ روس کی ایک سخت بمباری کے دوران ان کی مزاحمت روس کی جارحیت کے خلاف یوکرین کے دفاع کی علامت بن گئی۔

یوکرین کے نیشنل گارڈ اور دیگر فوجی یونٹوں کی ازوف رجمنٹ کے 2,400 سے زیادہ فوجیوں نے اپنی لڑائی ترک کر دی اور مئی میں یوکرین کی فوج کے حکم پر ہتھیار ڈال دیے۔

اس سے قبل ہفتے کو یوکرین نے مطالبہ کیا تھا کہ روس کو یوکرین کے مشرقی حصے میں درجنوں جنگی قیدیوں کو میزائل حملے کے ذریعے ہلاک کرنے پر جواب دہ ہونا چاہیے ۔

جمعےکو کیے گئے حملوں پر یوکرین کی حکومت نے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی سےان کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ میزائل حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی ردِ عمل میں اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ نے بھی جیل پر کیے جانے والے حملے کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ تاہم دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اب تک کسی بھی بین الاقوامی امدادی تنظیم کو جائے وقوع کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ریڈ کراس کی طرف سے اس مقام کا دورہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے تا کہ زخمیوں کی امداد کی جا سکے۔

 روس کا اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے ماہرین کو جیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہفتے کو جیل پر ہونے والے حملے کی معروضی تحقیقات کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے اپنے ہی جنگجوؤں کو روس کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے روکنے کے لیے جیل کو نشانہ بنایا جس کے لیے ، اس کے بقول، امریکی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

یوکرین کی فورسز نے روس کے دعوؤں کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی زمینی فوج نے جیل میں قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک کو چھپانے کے لیےاس پر حملہ کیا۔

یوکرینی صدر نے حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

یوکرین کی فوج ہلاک ہونے والوں کی لاشیں واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم روس نے صرف مرنے والوں کے نام جاری کیے ہیں۔

علاوہ ازیں یوکرین اور روس کی فورسز کے درمیان جاری جنگ میں اس وقت شدت آ گئی ہے جب یوکرین کی فوج نے جنوبی علاقے خرسون میں 100 سے زائد روس کے فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

یوکرین کی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے روس کے کنٹرول کے علاقوں میں ریلوے کے نظام اور شاہراہوں پر قائم پلوں پر بمباری کی ہے۔

دوسری طرف روس کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نےگزشتہ ہفتے ڈونباس کے خطے میں ٹرین پر سوار 130 سے زائد فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے جب کہ اسے دیگر علاقوں میں لڑائی میں برتری حاصل ہو رہی ہے۔

روس کے کنٹرول کے علاقوں میں سینکڑوں یوکرینی فوجیوں کو جیلوں میں لے جایا گیا ہے۔ کچھ روس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایک حصے کے طور پر یوکرین واپس آ گئے ہیں، لیکن دوسرے خاندانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ان کے پیارے اب بھی زندہ ہیں، یا وہ کبھی گھر آسکیں گے۔

اس رپورٹ کے لئے اقوام متحدہ کےلیڈرر مصنف زیکے ملر نے تعاون کیا۔

تصویر کریڈٹ: https://www.usnews.com/object/image/00000180-2b23-d847-afff-6b3375bf0000/media%3A949e53c3e0704ef79832945d037b34e2Russia_Ukraine_War_01108.jpg?update-time=1649991157000&size=responsive640