روسی حکومت کے ناقد اپوزیشن رہنما نیوالنی وطن واپسی پر گرفتار


روس کی حکومت کے شدید ناقد اور حزبِ اختلاف کے رہنما الیکسی نولنی کو جرمنی سے ماسکو پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نولنی کو گزشتہ برس اگست میں زہر دیا گیا تھا جس کے بعد انہیں بے ہوشی کی حالت میں علاج کی غرض سے ملک سے باہر لے جایا گیا۔ لگ بھگ ساڑھے چار ماہ بعد وہ پہلی مرتبہ اتوار کو وطن واپس پہنچے تھے۔

سیاہ نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے نولنی کو اُس وقت گرفتار کیا جب وہ ماسکو کے شرمیتووو ایئرپورٹ پر پاسپورٹ کنٹرول کے دفتر کی طرف جا رہے تھے۔

پولیس اہلکاروں نے نیوالنی کے ساتھ سفر کرنے والے وکیل کو اُن کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی۔

نیوالنی کو کہاں رکھا گیا ہے؟ اس بارے میں فوری طور پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ البتہ روس میں ٹوئٹر پر ( ویئر از نیوالنی) نیوالنی کہاں ہے؟ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

ماسکو ایئرپورٹ پر گرفتاری سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیوالنی کا کہنا تھا کہ “میں واپس اپنے وطن پہنچنے پر بہت خوش ہوں۔ پچھلے پانچ مہینوں میں میرا یہ بہترین دن ہے”

نیوالنی کو گزشتہ برس اگست میں سائیبیریا میں سوویت دور میں فوج کے استعمال میں رہنے والی اعصاب شکن زہر دی گئی تھی اور ماہرین نے اس کی تصدیق بھی کی تھی۔

نیوالنی نے زہر دیے جانے کا الزام روس کے صدر ولادی میر پیوٹن پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کا حکم صدر پیوٹن نے سیکیورٹی سروسز کو دیا تھا۔ تاہم کریملن نیوالنی کے اس الزام کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

غیر جانبدار میڈیا تحقیقات میں البتہ اس حملے کا الزام رشین فیڈرل سیکیورٹی (ایف ایس بی) پر عائد کیا گیا ہے۔

روس کے حکام نے اتوار کو نیوالنی کی گرفتاری کا جواز یہ کہتے ہوئے پیش کیا ہے کہ وہ 2014 میں دی گئی سزا کی معطلی کے بعد پرول پر رہائی اور بیرونِ ملک بحالی صحت کی شرائط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

روس میں جیل حکام نے بتایا ہے کہ نولنی سے متعلق معاملات کا تعین اب عدالتیں کریں گی۔

حکومت نے حزبِ اختلاف کے رہنما کے خلاف دیگر تین مقدمات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ نیوالنی کے حامیوں کے مطابق واقعات کے اس تسلسل کا مطلب اُن کے رہنما کو جلاوطنی پر مجبور کرنا ہے۔

Photo Credit : https://media.nbcboston.com/2020/08/Navalny.jpg?crop=17px%2C69px%2C2807px%2C1578px&resize=850%2C478

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: