روسی افواج کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

وس کی افواج نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک اپنی تعداد میں ڈرامائی اضافے کے بعد، جمعے کے روز سے اپنے مستقل اڈوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ روسی فوجیوں کی اس متنازع علاقے میں موجودگی اور اتنی بڑی تعداد میں تعیناتی پر یوکرین اور مغربی قوتوں کو تشویش تھی۔

ہمارا ہند کے مطابق ، روسی وزیر دفاع سرگئی شوگو نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ کریمیا اور وسیع تر مغربی روس میں روسی فوجی مشقیں مکمل ہوچکی ہیں ، اور انہوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ مشقوں میں حصہ لینے والے فوجیوں کو یکم مئی تک اپنے اڈوں پر واپس آنا چاہئے۔

روس کی وزارتِ دفاع نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے، جو کرائمیا میں وسیع تر فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے تھے، اب واپسی کے لیے ریل گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار ہونا شروع کر دیا ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا کا کہنا تھا کہ یوکرین روسی فوجیوں کی واپسی کی تصدیق اپنے انٹیلی جنس ذرائع سے کرے گا۔

رومانیہ کے دورے پر گئے کلیبا نے جمعے کے روز کہا کہ یوکرین چاہتا ہے کہ روس کا دعوی اس کے اقدامات سے میل کھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام روسی افواج یوکرین کی سرحد سے واپس چلی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر روسی افواج کی واپسی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب کشیدگی میں حقیقی کمی ہوگا۔ انہوں نے صورت حال کے تناظر میں یوکرین کی مدد کے لئے آواز اٹھانے پر نیٹو اور یورپی یونین کے ملکوں کا شکریہ ادا کیا۔

افواج کی واپسی کا حکم دیتے ہوئے روس کے وزیر دفاع شوئے گو نے یہ بھی حکم دیا کہ بھاری اسلحہ اسی سال میں ہونے والی ایک بڑی فوجی مشق کے لئے روس کے مغربی علاقے ہی میں رہنے دیا جائے۔ ان ہتھیاروں کو روس یوکرین کی سرحد سے 160 کلو میٹر دور ایک فائرنگ رینج پر ذخیرہ کر رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ترجمان، دمتری پیسکوف سے جب پوچھا گیا کہ کیا روس کی جانب سے فوج واپس بلانے سے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں کمی ہو سکتی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔
پیسکوف نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ روس امریکہ تعلقات کا معاملہ نہیں ہے۔

امریکہ اور نیٹو کا کہنا ہے کہ سال 2014 میں روس کی طرف سے جزیرہ نما کرائمیا پر قبضے کے بعد، یوکرینی افواج اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے درمیان مشرقی یوکرین میں لڑائی جاری ہے۔ اس جنگ میں اب تک 14,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اس تنازعے کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں اور روس اور یوکرین کے درمیان متنازع مشرقی علاقے میں روسی فوجوں کے اضافے پر مغرب نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روس پر زور دیا تھا کہ اپنی افواج کو وہاں سے ہٹائے۔


روس نے اِن الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر اپنی افواج کو کہیں بھی تعینات کر سکتا ہے۔ روس نے یوکرین کو سختی سے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے مشرقی علاقے میں لائین آف کنٹرول پر اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہے، ورنہ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے مداخلت کرے گا۔

Photo Credit : https://www.politico.eu/wp-content/uploads/2021/04/22/GettyImages-1232418161-1200×628.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: