رئیسی کی کامیابی پر اسرائیل کو تشویش، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ کرنے پر زور

اسرائیل نے ایران میں قدامت پسند اور سخت گیر سمجھے جانے والے ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہونے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی جوہری معاہدہ نہ کرے۔

خیال رہے کہ مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث امریکی پابندیوں کے شکار رئیسی نے جمعے کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

حال ہی میں وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد اتوار کو اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ رئیسی کا انتخاب ایک شفاف الیکشن کے بجائے ایران کے رہبرِ اعلٰی خامنہ ای کی ایما پر ہوا ہے۔

حمارا ہند کے مطابق ، نفتالی بینیٹ نے کہا کہ صدر کے انتخاب کے بعد ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے سے پہلے اب دنیا کے پاس جاگنے کا ایک آخری موقع ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ رئیسی کے انتخاب کے بعد اب دنیا کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدہ کرنے سے قبل جاگ جائے۔

اُنہوں نے الزام لگایا کہ ظالمانہ انداز میں لوگوں کو پھانسیاں دینے والی اس حکومت کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ہونے چاہیے اور اس حوالے سے اسرائیل کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔

امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو ایران میں ماورائے عدالت پھانسی کے معاملے میں ابراہیم رئیسی کے کردار پر بھی سوال اُٹھاتے رہے ہیں۔ البتہ رئیسی نے کبھی بھی عوامی سطح پر ان الزامات کا جواب نہیں دیا۔

ایران کے چیف جسٹس رہنے سے قبل اپنے کریئر میں وہ بطور پراسیکیوٹر کام کرتے رہے ہیں۔

حال ہی میں مخلوط حکومت کے ذریعے بن یامین نیتن یاہو کا 12 سالہ دورِ اقتدار ختم کرنے والے نفتالی بینیٹ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے مخالف رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں واپس لانے کے لیے عالمی طاقتوں کے تعاون سے ویانا میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے 2018 میں اس سے الگ ہو گئے تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

البتہ، بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حکام کی طرف سے ووٹنگ کے مقررہ وقت میں دو گھنٹوں کی توسیع کیے جانے کے باوجود ووٹر ٹرن آؤٹ کم دیکھا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کی طرف سے ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق سرکاری طور پر کوئی اندازے پیش نہیں کیے گئے۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری ایجنسی ‘فارس’ کی رپورٹ کے مطابق مقامی وقت ساڑھے سات بجے تک پانچ کروڑ 90 لاکھ اہل ووٹرز میں سے 37 فی صد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

Photo Credit : https://www.politico.eu/wp-content/uploads/2021/06/04/GettyImages-1233188879-1320×881.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.