خیبر پختونخوا کے جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات میں اضافہ، سیکڑوں ایکڑ پر درخت تباہ

خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں کے جنگلات میں گزشتہ ایک برس کے دوران آتش زدگی کے 58 واقعات اور 815 ایکڑ سے زائد اراضی پر جنگلات تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے سرکاری اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے واقعات سے ہونے والے نقصانات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں وقفۂ سوالات کے دوران باجوڑ سے جماعتِ اسلامی کے رکن اسمبلی حاجی سراج الدین خان کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیرِ ماحولیات اشتیاق ارمڑ نے ایوان کو بتایا کہ ایک سال میں صوبے بھر کے جنگلات میں آتش زدگی کے 58 واقعات رونما ہوئے جن میں مجموعی طور پر 815 ایکڑ رقبے پر محیط جنگلات تباہ ہوئے۔

صوبائی وزیرِ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق آتش زدگی کے سب سے زیادہ واقعات فارسٹ ڈویژن ضلع بونیر کی حدود میں رونما ہوئے جہاں 19 مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 289 ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات آگ سے متاثر ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق دوسرے نمبر پر مردان فارسٹ ڈویژن میں آتش زدگی کے 13 واقعات میں 85 ایکڑ اور صوابی میں سات واقعات میں 35 ایکڑ رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آئے۔

اس کے علاوہ فارسٹ ڈویژن پشاور کے نوشہرہ ریجن میں صرف دو واقعات میں 155 اعشاریہ 49 ایکڑ، کالام فارسٹ ڈویژن مدین کی حدود میں چار واقعات میں 126 ایکڑ رقبے پر محیط جنگلات کو نقصان پہنچا۔

اسی طرح فارسٹ ڈویژن خار باجوڑ کی حدود میں واقع جنگلات میں 17 ایکڑ، ایبٹ آباد میں 24 ایکڑ، لوئر کوہستان پٹن میں 27 ایکڑ ،دیر بالا میں 10 ایکڑ، ہری پور میں 40 ایکڑ، مالاکنڈ فارسٹ ڈویژن بٹ خیلہ کی حدود میں پانچ ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات آتش زدگی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔

حکومتی اعداد و شمار پر حزبِ اختلاف کے تحفظات

حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے تحفظات کا اظہار کیا۔

اپوزیشن اراکین نے الزام لگایا ہے کہ محکمے نے متعلقہ وزیر کو غلط اعداد و شمار فراہم کیے ہیں۔

اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کرنے والوں میں جماعتِ اسلامی کے رکن سراج الدین کے علاوہ دیر بالا سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن ثنا اللہ، کرک سے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے رکن میاں نثار گل اور چترال سے مولانا ہدایت الرحمٰن، ایبٹ آباد سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار اورنگزیب نلوٹھہ اور شمالی وزیرستان سے آزاد رکن میر کلام وزیر شامل ہیں۔

ان اراکین اسمبلی کا مطالبہ ہے کہ جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

حکومت کا مؤقف

دوسری جانب اپوزیشن کے تحفظات پر صوبائی وزیر شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات عرصہ دراز سے چلے آرہے ہیں اور متعلقہ محکمے کے افسران اور اہلکار ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق جنگلات کی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ

پاکستان کے انگریزی اخبار ‘ایکسپریس ٹریبیون’ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 کے بعد خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سال 16-2015 میں 370 ایکٹرز جب کہ 17-2016 میں 1414 اور 18-2017 میں 2793 ایکٹرز رقبے پر آتش زدگی کے واقعات میں جنگلات تباہ ہوئے تھے۔

خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلعے لکی مروت میں نو اکتوبر 2018 کو ٹری سونامی منصوبے کے ایک حصے پر آتش زدگی میں ایک لاکھ 30 ہزار پودے جل کر تباہ ہوئے تھے۔

اسی پلاٹ کا افتتاح موجودہ وزیرِاعظم عمران خان نے پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے 2015 میں کیا تھا۔

آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات گرم علاقوں میں ہوتے رہتے ہیں

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر عارف شاہ کہتے ہیں کہ جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات میں ماحولیاتی اثرات سرِ فہرست ہیں۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ تر آگ گرم علاقوں میں ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگلات میں آتش زدگی کے واقعات سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پروفیسر عارف شاہ نے وزیرِاعظم کے 10 ارب درخت لگانے کے ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے سے ماحول میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار محکمۂ جنگلات کی کارکردگی پر ہے۔

بلین ٹری سونامی منصوبہ

حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 2013 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جنگلات کے فروغ کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں وزیرِ اعظم عمران خان نے 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

یہ منصوبہ 2019 سے 2023 تک مکمل ہونا ہے اور اس پر ایک اندازے کے مطابق 125 ارب روپے سے زائد اخراجات ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

Photo Credit : https://www.brinknews.com/wp-content/uploads/2020/09/GettyImages-1228062288.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.