خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

خبریں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین روز کے دوران دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں مجموعی طور پر دو سیکیورٹی اہلکاروں سمیت لگ بھگ 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ اہل تشیع مسلک کے تین افراد اور اہلِ حدیث مسلک کے ایک نام ور عالمِ دین بھی شامل ہیں۔

دہشت گردی کا تازہ ترین واقعہ منگل کی صبح خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں پیش آیا۔ جہاں پر مبینہ دہشت گردوں نے گاؤں گرہ محبت میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا۔

پولیس آفیسر نجم الحسین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دہشت گردوں نے محکمۂ صحت کے اہل کاروں کے بجائے پولیس کو نشانہ بنایا، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی سے حملہ آور فرار ہو گئے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

فرقہ وارانہ کشیدگی

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروا میں پیر کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے دکان میں بیٹھے تین افراد کو گولیاں مار دیں۔

ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق اہل تشیع برادری سے بتایا جاتا ہے اور ان میں دو سگے بھائی بھی شامل تھے۔

پولیس حکام کے بقول اس واقعے میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے شیعہ برادری کے سینکڑوں لوگوں نے اس واقع پر شدید احتجاج بھی کیا ہے اور اسی علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث تشدد کے واقعات پچھلے کئی برسوں سے ہوتے رہتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں دو دہشت گرد ہلاک

جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں پیر کی صبح کے واقعے سے چند گھنٹے قبل قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پولیس نے ایک مقابلے میں دو دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے افغانستان سے ملحقہ شمالی ضلع لوئر دیر میں حکام کے بقول سرحد پار افغانستان سے نامعلوم عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا ہے۔

اس واقعے میں ضلعی پولیس افسر کے بقول عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی بھی کی گئی ہے مگر اس کی مزید تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

لوئر دیر کے پولیس کی چوکی پر حملے میں ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہے مگر اس کے بارے میں پولیس یا سول انتظامیہ کے عہدیداروں نے کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ایک روز قبل شمالی وزیرستان میں پولیس آفیسر کی قافلے پر میر علی کے قریب نامعلوم عسکریت پسندوں نے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا ہے۔

ضلعی پولیس آفیسر کا قافلہ بنوں سے شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ جا رہا تھا۔

کھلونا بم کے پھٹنے سے دو بچے ہلاک

پیر ہی کو وادیٔ سوات کی تحصیل کبل کے علاقے شاہ ڈھیری میں ایک کھلونا نما بم کے پھٹنے سے دو بچے ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ وزیرِ اعلی محمود خان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اہلِ حدیث عالم کا قتل

ہفتے کی شام پشاور میں ایک نواحی گاوں قاضی کلے میں اہلِ حدیث سے تعلق رکھنے والا عالم دین شیخ عبد الحمید کی گاڑی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

اس واقعے میں شیخ عبدالحمید کا بھائی شدید زخمی ہوا ہے پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مگر ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں دلائی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے ذریعے حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے سابق سیکریٹری داخلہ سید اختر شاہ کہتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کے جنگجو چاہتے ہیں کہ اگر حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرتی تو وہ اپنے مرضی کا معاہدہ کرائیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اُن کے بقول حکومت نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 100 سے زائد جنگجوؤں کی رہائی اور قبائلی اضلاع کی پرانی حیثیت بحال نہ کرنے کے مطالبات تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف

حکومتی عہدے دار بارہا ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو متحرک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے رہے ہیں۔

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند سرحد پار افغانستان سے رات کی تاریکی میں حملے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہل کار زیادہ تر حملوں کو ناکام بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں صرف شمالی وزیرستان میں متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

Photo Credit : https://i0.wp.com/www.lingnews24.com/wp-content/uploads/2022/01/Why-are-terrorist-activities-on-the-rise-in-Khyber-Pakhtunkhwa.png?fit=1200%2C675&ssl=1