خوش ملکوں کے عالمی انڈیکس میں فن لینڈ سرفہرست، پاکستان 39 درجے نیچے گر گیا

اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ سلوشن نیٹ ورک کی جاری کردہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے اور اس کی وجہ کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی بے یقینی اور خوف کی کیفیت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے دنیا کے 149 ملکوں میں شہریوں کی انفرادی آمدنی، متوقع صحت مند عمر اور رائے عامہ کے جائزوں سے اپنی سالانہ رپورٹ مرتب کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، دنیا کے خوش باش ملکوں میں پاکستان دنیا کے 149ملکوں میں39 درجے کی تنزلی کے بعد 105 ویں نمبر پرآگیا ہے۔ پچھلے برس کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ 153 ملکوں میں 66 ویں نمبر پر تھا۔

جنوبی ایشیائی ملکوں میں نیپال سب سے آگے ہے جس کے شہریوں کی زندگی میں خوشی کا تناسب پانچ درجے اضافے کے ساتھ 87 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ اس کے بعد 101 نمبر پر بنگلہ دیش ہے اور پھر پاکستان 105 ویں نمبر پر ہے۔ بھارت بھی پانچ درجے بڑھ کر 139ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔ اس سروے میں افغانستان آخری پوزیشن پر ہے۔

رپورٹ کے نتائج سے سامنے آیا ہے کہ پہلے دس خوش ملکوں میں سے ابتدائی 9 نمبر یورپی ممالک کے حصے میں آئے، جب کہ دسواں ملک نیوزی لینڈ ہے۔ پہلے دس انتہائی خوش ملکوں میں فن لینڈ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، آئیس لینڈ، ہالینڈ، ناروے، سویڈن، لکسمبرگ، نیوزی لینڈ اور آسٹریا موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پچھلے برس دنیا کو اکیلے پن، خوف، ذہنی دباؤ، بیماری، موت اور لاک ڈاؤن جیسے کئی مسائل کا سامنا رہا لیکن عالمی وبا نے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کئے۔

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2021 کے مصنفین کے مطابق اگرچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کے خوش رہنے، خوش ہونے اور خوشی کے اظہار کا انداز تبدیل ہوا ہے، زندگی سے پائیدار اطمینان حاصل کرنے سے متعلق ان کی رائے اور حالات میں زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔

نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے معیشت دان اور اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک جیفری ساچیز نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے طویل مدت پر نظر رکھتے ہوئے پچھلے برس بہت زیادہ ہمت سے کام لیا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ سولوشن نیٹ ورک کی اس رپورٹ کے لیے 149 ممالک میں سروے کیا گیا۔ اس سروے میں لوگوں سے ان سوالات پر ان کی رائے لی گئی ہے کہ اگر ان کی زندگی میں حالات خراب ہوں تو انہیں معاشرے کی سطح پر کتنی مدد ملتی ہے، انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں کتنی آزادی ہے اور ان کے خیال میں ان کے ارد گرد کے ماحول میں بد عنوانی کا تناسب کتنا ہے اور لوگ کتنے کھلے دل کے ہیں۔

ان سوالات پر ایک سے دس کے سکیل پر جواب مانگا جاتا ہے جس میں ایک کا مطلب ہے، انتہائی کم اور دس کا مطلب ہے کہ انتہائی زیادہ۔

اس سال عالمی وبا کی وجہ سے خوشیاں ماپنے کا یہ سروے ایک سو سے بھی کم ملکوں میں کیا گیا، جب کہ باقی ملکوں کے اعداد و شمار کا اندازہ ان کے پچھلے برسوں کے ریکارڈ سے کیا گیا۔

Photo Credit : https://assets.bwbx.io/images/users/iqjWHBFdfxIU/inqS.amAU_E0/v1/-1x-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: