خودکار گاڑیوں کےدس ماہ میں 400 حادثات

خبریں

ترقی یافتہ ملکوں کی سڑکوں پر جہاں خودکار (آٹوپائلٹ) اور نیم خودکار گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ، وہاں دوسری طرف ان سے منسلک جان لیوا حادثات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

امریکہ میں شاہراہوں پر ٹریفک کی حفاظت سے متعلق ادارے نیشنل ہائی ویز ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (این ایچ ٹی ایس اے ) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے آٹوپائلٹ اور سیمی آٹومیٹک گاڑیوں کے 400 کے لگ بھگ حادثے ہو چکے ہیں۔ جن گاڑیوں کو حادثے پیش آئے ان میں سے 273 گاڑیاں الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کی تھیں۔

ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ اس تعداد کا تعلق کسی کمپنی سے نہیں ہے بلکہ خودکار اور نیم خودکار نظام استعمال کرنے سے ہے اور یہ کہ ان گاڑیوں نے کتنے میل سفر کیا۔

موٹر ساز کمپنیوں نے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے حکم پر گزشتہ سال جولائی سے لے کر اس سال 15 مئی تک ہونے والے حادثات کو رپورٹ کیا۔ ٹریفک سیفٹی کا قومی ادارہ پہلی بار اس طرح کے حادثات کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔

ادارے کے ایڈمنسٹریٹر سٹیون کلف کا کہنا ہے کہ ہم جیسے جیسے یہ اعداد و شمار اکھٹے کرتے جائیں گے ، اس سے ہمیں امکانی خطرات اور رجحانات کو بہتر طور پر جاننے کا موقع ملے گا اور یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ نئی ٹیکنالوجیز حقیقی دنیا میں کیسی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

ٹیسلا کی گاڑیوں کو سب سے زیادہ حادثات پیش آئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑیاں آٹو پائلٹ یا فل سیلف ڈرائیونگ نظام کے تحت چل رہی تھیں۔ اس نظام کے ساتھ ٹیسلا کی تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار گاڑیاں سڑکوں پر ہیں۔

دوسرے نمبرپر سب سےزیادہ حادثات ہونڈا کی گاڑیوں کو پیش آئے، جن کی تعداد 90 ہے۔ تیسرا نمبر سبارو کا ہے جس کی 10 گاڑیوں کو حادثات پیش آئے۔ جب کہ باقی کمپینوں کی جانب سے فراہم کر دہ ڈیٹا کے مطابق ان کے حادثات کی تعداد پانچ یا اس سے کم ہے۔

این ایچ ٹی ایس اے نے کہا ہے کہ’ ڈرائیور اسسٹ سسٹم ‘کے حادثوں میں چھ افراد ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے۔ اموات میں سے پانچ ٹیسلا میں ہوئیں اور ایک کی اطلاع فورڈ آٹو کمپنی نے دی۔ تین شدید زخمی ٹیسلا میں ہوئے، جب کہ ہونڈا اور فورڈ نے ایک ایک زخمی کی اطلاع دی۔

ٹیسلا میں حادثات کی تعداد اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ان کی گاڑیاں نگرانی اور حقیقی وقت میں حادثے کی اطلاع کے لیے ٹیلی میٹکس نظام سے منسلک ہیں۔ ٹریفک سیفٹی ادارے کا کہنا ہے کہ دیگر موٹرساز کمپنیوں کے پاس یہ سہولت موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کی گاڑیوں کو پیش آنے والے حادثات کی اطلاع میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

اگرچہ درجن بھر موٹر ساز اداروں نے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کو 392 حادثوں کی اطلاع دی تھی جن میں سے 70 فی صد کا تعلق ٹیسلا سے تھا، تاہم اکثر موٹرساز کمپنیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ آٹو پائلٹ یا فل سیلف ڈرائیونگ ہونے کے باوجود ان کی گاڑیاں کلی طور پر خود نہیں چل سکتیں اور اس کے لیے ڈرائیور کی ضرورت ہوتی ہے۔

الائنس فار آٹو موٹیو انوویشن نے، جوموٹر سازوں کی نمائندگی کرنے والا ایک ادارہ ہے، کہا ہے کہ ہائی ویز ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے جمع کردہ ڈیٹا خودکار گاڑیوں کے نظام کی حفاظت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ اس ڈیٹا میں ان کمپنیوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو مکمل طور پر خود کار گاڑیاں چلا رہی ہیں۔ ان میں سے 25 کمپنیوں نے کل 130 حادثات کی اطلاع دی تھی۔

خودکارگاڑیوں کے یونٹ الفابٹ انکارپوریٹڈ کے ویمو کا کہنا ہے کہ ان کے بیڑے میں 700 گاڑیاں ہیں اور یہ کمپنی ایریزونا اور کیلی فورنیا میں مکمل طور پر خودکار گاڑیوں کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑیوں کو حادثات اس وقت پیش آئے جب ان کی رفتار آہستہ تھی ، جس کی وجہ سے صرف دو گاڑیوں کے ہی ایئر بیگ کھلنے کی نوبت آئی۔

مکمل طور پر خود کارگاڑیوں کے 108 حادثات ہوئے جن میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ صرف ایک شدید چوٹ آئی۔ زیادہ تر حادثات میں گاڑیاں پیچھے سے ٹکرائی۔

تصویر کریڈٹ: https://thefoxmagazine.com/wp-content/uploads/2020/05/image1-1.jpg