خلا میں دنیا کی پہلی فیچر فلم بنانے میں روس کی سبقت

روسی فلم ‘چیلنج’ اپنے کچھ مناظر کی فلمبندی کے بعد خلا میں بنائی جانے والی دنیا کی پہلی فیچر فلم بن گئی ہے۔ اداکارہ یولیا پیرسیلڈ اور ڈائریکٹر کلیم شپینکو مدار پر 12 دن تک فلمبندی کے بعد زمین پر واپس آگئے۔

ایک روسی اداکارہ اور ایک فلم ڈائریکٹر جنہوں نے خلا میں دنیا کی پہلی فلم بنانے کے لئے مدار میں 12 دن گزار ے ہیں انہوں نےمنگل کو بتایا کہ وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے تجربے سے اتنے خوش ہیں کہ انہیں اسے چھوڑنے پر بہت افسوس ہوا۔

ہمارہ ہند کے مطابق ، اداکارہ یولیا پرسیلڈ اور ڈائریکٹر کلیم شپینکو ، جو اتوار کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بہت مختصر دورے کے بعد زمین پر واپس آئے ، نے ‘چیلنج’ نامی ایک فلم کے کچھ حصے فلمائے جس میں سرجن پیراسیلسس ، جو کردار ادا کر رہے ہیں۔ ، فوری طور پر خلائی اسٹیشن پر پہنچتا ہے ، جہاں عملے کے ایک رکن کو بچانے کے لیے فوری آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

اداکارہ یولیا پیرسیلڈ اور ڈائریکٹر کلیم شپینکو نے روسی سویوز خلائی جہاز میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر خلائی مسافر انتون شاکلیروف کے ساتھ پرواز کی۔

اسٹیشن پر ایک مختصر قیام کے بعد، وہ دونوں اتوار کو ایک اور تجربہ کار روسی خلاباز، اولیگ نووٹسکی کے ساتھ زمین پر واپس آئے۔

نووٹسکی، جو فلم کے عملے کو واپس لائے، فلم میں بیمارخلائی مسافر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

منگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے 37 سالہ پیرسیلڈ نے افسوس کا اظہار کیا کہ فلم بندی کے ایک مصروف شیڈول کے باعث انہیں خلا کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا بہت کم موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ،”ہمیں روانگی سے صرف ایک دن پہلے احساس ہوا کہ ہم نے کھڑکیوں میں دیکھنے پرکافی وقت صرف نہیں کیا۔ مجھے ایک ملا جلا احساس تھا۔ ایک طرف، ایک دائمی وقت کا سا احساس اور دوسری طرف ایسا محسوس ہوا جیسے ہم ابھی پہنچے ہیں اور فوری طور پر واپس جانے کی ضرورت ہے”۔

پیرسیلڈ اور شپینکو نے کہا کہ وہ ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی کشش ثقل کے مطابق خود کو دوبارہ ڈھالنے میں کچھ مشکل پیش آرہی ہے۔

پیرسیلڈ نے کہا، “ہمیں دوبارہ چلنا سیکھنا ہے۔” انہوں نے کہا کہ وہ مدار میں بہت اچھی طرح سوتی تھیں اور اچھی طرح آرام کے لئے چار گھنٹے کی نیند کافی رہتی تھی۔

38سالہ شپنکو نے،جو کئی تجارتی طور پر کامیاب فلمیں بنا چکے ہیں، کہا کہ انہوں نے خلائی اسٹیشن پر اپنے قیام کے دوران 30 گھنٹے سے زائد فلمی مواد کو فلمایا۔

انہوں نے کہا کہ، “یقیناً اس دوران انہیں فنکارانہ اور تکنیکی دونوں چیلنجوں کا سامنا ہوا۔”

شپینکو نے، جو فلم کی خلائی قسطوں کی فلم بندی کے بعد زمین پر شوٹنگ جاری رکھیں گے، کہا کہ فلم کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان اگلے سال کیا جائے گا۔

روسی سرکاری خلائی کارپوریشن ‘روسکوسموس’ کے سربراہ دمتری روگوزین نے اس فلم کے پراجیکٹ پر عمل درآمد میں ایک اہم کردار ادا کیاتھا۔ انہوں نے اس فلم کو ملک کی خلائی عظمت کی جلا کا ایک موقع قرار دیا اور اس پر کی جانے والی کوششوں پربعض روسی میڈیا کی تنقید کو مسترد کیا۔

روس کی جانب سےخلا میں فیچر فلم سازی میں سبقت حاصل کرنے سے قبل ناسا اداکار ٹام کروز سے مدار میں فلم بنانے کے بارے میں بات کر چکا تھا۔

ناسا نے پچھلےسال تصدیق کی تھی کہ وہ کروز کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر فلمبندی کے لئے بات چیت کر رہا ہے جس کے لئے سپیس ایکس لفٹ فراہم کرے گا۔

مئی 2020 میں یہ بتایا گیا تھا کہ کروز ڈائریکٹر ڈگ لیمن، ایلان مسک اور ناسا کے ساتھ مل کر پروجیکٹ تیار کر رہا ہے۔

Photo Credit : https://africa.cgtn.com/wp-content/photo-gallery/2021/10/GettyImages-1235705959.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.