خشوگی کے معاملے پر پاکستان سعودی عرب کی حمایت کیوں کر رہا ہے؟

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار ولی عہد محمد بن سلمان کو ٹھیرانے کے باوجود پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ بعض تجزیہ کار پاکستان کے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کو ختم کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں غیر جانب دار رہنا چاہیے تھا۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے وہ انٹیلی جنس رپورٹ جاری کر دی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جنہیں ‘ایم بی ایس’ کہا جاتا ہے نے خشوگی کے قتل کے احکامات دیے تھے۔ سعودی عرب نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس رپورٹ میں غلط معلومات اور نتائج بیان کیے گئے ہیں۔

تجزیہ کار جمال خشوگی کے معاملے پر پاکستان کے بیان کو دونوں ملکوں کے درمیان بعض امور پر سامنے آنے والے اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے جمال خشوگی کے قتل کو اس کے قانون اور اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اس واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ پاکستان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باہمی تعلقات میں حالیہ سردی مہری کے باوجود سعودی عرب کو ایک قریبی دوست اور اتحادی سمجھتا ہے۔

تجزیہ کار رسول بخش کے بقول کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کے حمایت کا اظہار بے وجہ نہیں ہوتا اس لیے پاکستان کا بیان اسلام آباد اور ریاض کے درمیان پیدا ہونی والی سرد مہری کو دور کرنے کی کوشش ہے۔

تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس معاملے میں سعودی عرب کی حمایت کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور یہ بیان توقع کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ پاکستان سعودی عرب کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات اب بھی مستحکم ہیں۔

تاہم تجزیہ کار رسول بخش نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان کو جمال خشوگی کے معاملے پر خاموش رہنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ ان کے بقول سعودی عرب کے مؤقف کے باوجود دنیا جمال خشوگی کے قتل کے پسِ منطر اور اس سے جڑے حقائق سے بخوبی واقف ہے۔

تجزیہ زاہد حسین نے یہ بھی کہا کہ جمال خشوگی کے معاملے پر واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ سعودی عرب امریکہ کی مشرقِ وسطی پالیسی کا اہم محور ہے۔

ان کے بقول اگرچہ جو بائیڈن انتظامیہ نے انسانی حقوق اور جمال خشوگی کے معاملے پر ایک سخت مؤقف ضرور اختیار کیا ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تناؤ کی صورتِ حال عارضی ہو گی۔ کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکہ کی پالیسی کے حوالے سے سعودی عرب کا کردار اہم رہے گا۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے سعودی عرب سے متعلق تازہ اقدامات کے باوجود امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات منقطع ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

ان کے بقول انسانی حقوق اپنی جگہ لیکن بین الاقوامی تعلقات میں انسانی حقوق کے معاملات کے باوجود کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور اپنے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے۔

Photo Credit : https://www.lowyinstitute.org/sites/default/files/GettyImages-1147208735.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: