حکومت کا تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے مذہبی جماعت ‘تحریک لیبک پاکستان’ (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11-بی کے تحت یہ پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی سفارش پر ٹی ایل پی پر پابندی کی سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدہ پر قائم تھے اور ہم ایک متفقہ بل قومی اسمبلی میں لانا چاہتے تھے۔ لیکن یہ لوگ ایسا مسودہ چاہتے ہیں کہ جس کے باعث یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں۔ جس مسودے کا تقاضا وہ کر رہے تھے۔ شائستہ اور پارلیمانی زبان میں وہ قرارداد لا رہے تھے جو انہوں نے مسترد کر دی۔

شیخ رشید احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی وہ کبھی اس تنظیم کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے ملے ۔

شیخ رشید نے کہا کہ ٹی ایل پی سے متعدد مرتبہ مذاکرات کیے گئے اور جب یہ اجلاس میں آتے تھے تو گھروں میں پیغامات ریکارڈ کرا کر آتے ہیں کہ فلاں فلاں سڑک بند کرنی ہے۔ ہماری آخری حد تک یہ کوشش رہی کہ ہم باہمی اتفاق رائے سے اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کے لیے ان کو راضی کر لیں۔ لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔ تمام کوششوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ہر صورت میں فیض آباد چوک اسلام آباد آنا چاہتے تھے اور ان کی بڑی لمبی تیاری تھی جسے روکنے کے لیے پولیس نے زبردست کام کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کے پر تشدد مظاہروں کے دوران دو پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 340 زخمی ہوئے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس جماعت کا میڈیا چلا رہے ہیں میں ان سے کہوں گا سرینڈر کر دیں۔ آپ ایک دن، دو دن، چار دن میڈیا چلا لیں گے۔ لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کو مسائل سے دوچار کر سکتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو مسائل سے دوچار کریں گے۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی پیر کو گرفتاری کے بعد ان کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے گئے تھے۔

ٹی ایل پی کے مظاہروں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جب کہ پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لیتے ہوئے مقدمات بھی درج کیے۔

پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے کے لیے رحیم یار خان، چکوال، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں بھی رینجرز کو طلب کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں پہلے ہی رینجرز کو طلب کر لیا گیا تھا۔

لاہور پولیس نے سعد حسین رضوی سمیت تحریک لبیک کے کئی کارکنوں کے خلاف لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ مقدمات میں قتل، اغوا، توڑ پھوڑ اور امن و امان کو نقصان پہنچانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ٹی ایل پی کے پیر سے شروع ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ منگل اور بدھ کو بھی جاری رہا۔ جس کے باعث ملک کی کئی اہم سڑکیں بند ہوئی ہیں اور ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

تحریک لبیک نے فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو 16 فروری تک بے دخل کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتِ حال پر اجلاس ہوا جس میں تحریک لبیک پاکستان کے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ موٹروے، جی ٹی روڈ اور باقی شاہراہیں ٹریفک کے لیے کلیئر کر دی گئی ہیں۔

لاہور کی سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق ٹھوکر نیاز بیگ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جب کہ ملتان روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے۔

لاہور میں کچھ علاقوں میں بدستور کچھ مظاہرین موجود ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکام کے مطابق کارروائی جاری ہے۔

راولپنڈی میں لیاقت باغ، ترنول، بارہ کہو، روات کے راستے بحال کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں 1200 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے۔ ان افراد کو مقدمات میں نامزد کرکے جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/d/d1/Saad_Hussain_Rizvi_Baba_Ji%27s_Chehlum.jpg/640px-Saad_Hussain_Rizvi_Baba_Ji%27s_Chehlum.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: