حزب اللہ کے تین ڈرونز تباہ کر دیے گئے: اسرائیل

خبریں


اسرائیل اور لبنان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران اسرائیلی آرمی کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کو لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے جن کا ہدف بحیرہ روم میں ایک آف شور گیس فیلڈ تھا۔

ایران کی حمائت یافتہ لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے بھی ایک بیان میں ڈرونز بھیجنے کی تصدیق کی ہے جنہیں آف شور گیس فیلڈ کی طرف چھوڑا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہ تھا کہ اسرائیل کے پانیوں میں فضائی حدود کے قریب آنے والے تین دشمن ڈرونز کو روکا گیا جن کا رُخ کریش گیس فیلڈ کی طرف تھا۔

 اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرونز مسلح نہیں تھے اور ان سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق ایک ڈرون کو فائٹر جیٹ نے تباہ کیا جب کہ دیگر دو کو ڈرون وار شپ کے ذریعے روکا گیا۔

حزب اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ہفتے کی سہ پہر تین غیر مسلح ڈرونز کو جاسوسی کے لیے متنازع کریش فیلڈ کی طرف چھوڑا گیا۔

جاری کردہ بیان میں حزب اللہ نے کسی اسرائیلی کارروائی کا ذکر کیے بغیر کہا کہ مشن مکمل ہو گیا۔

خیال رہے کہ لبنان نے گزشتہ ماہ اس وقت اسرائیل کی مذمت کی تھی جب اسرائیل کی جانب سے حاصل کردہ یونانی انرجی فرم ‘انرجین’ کا بحری جہاز کریش آئل فیلڈ میں داخل ہوا تھا۔ خیال رہے کہ لبنان بھی کریش گیس فیلڈ کی جزوی ملکیت کا دعوے دار ہے۔

حزب اللہ نے انرجین کو اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کا ٹی وی خطاب میں کہنا تھا کہ ان کا فوری مقصد دشمن کو کریش گیس فیلڈ سے تیل اور گیس نکالنے سے روکنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ “ایسا نہیں ہے کہ حزب اللہ لبنان کی قدرتی دولت کی اسرائیل کے ہاتھوں لوٹ مار کے سامنے کھڑی رہے گی اور کچھ نہیں کرے گی۔’

خیال رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے 2020 میں سمندری حدود کے تعین پر مذاکرات شروع کیے تھے تاہم یہ عمل بیروت کے اس دعوے سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا کہ اقوام متحدہ نے جو نقشہ استعمال کیا تھا اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

لبنان نے ابتدائی طور پر 860 مربع کلو میٹر (330 مربع میل) پانیوں پر اپنے کنٹرول کا مطالبہ کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ متنازع ہے۔ تاہم بعد ازاں لبنان نے مزید 1439 مربع کلو میٹر (552 مربع میل) کا مطالبہ کیا جس میں کریش فیلڈ کا حصہ بھی شامل ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ کریش فیلڈ اس کے پانیوں میں ہے اور یہ متنازع علاقے کا حصہ نہیں ہے۔

اسرائیل کے نگران وزیراعظم یائر لیپڈ کا ہفتے کو کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی طاقت کو ہر خطرے اور ہر دشمن کے خلاف استعمال کرے گا۔

خیال رہے کہ 2006 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 34 روز تک جاری رہنے والی جنگ میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://i2.wp.com/www.theindianiris.com/wp-content/uploads/2015/07/mfc-pac-3-photo-pr-013012-h.jpg?fit=527%2C350&ssl=1