حزبِ اختلاف الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کیوں کرنا چاہتی ہے؟

پاکستان میں حزبِ اختلاف جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کر رہا ہے۔

حزبِ اختلاف کا مطالبہ ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے جو الیکشن کمیشن میں 2014 سے زیر التوا ہے۔

پی ڈی ایم کی قیادت منگل کو ایک ایسے وقت الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کر رہی ہے، جب تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ کے مقدمے کی سماعت ہونے جا رہی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے پارٹی کارکنوں کو اس احتجاج میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ الیکشن کمیشن ٹھوس ثبوتوں کے باوجود فارن فنڈنگ کے مقدمے کا فیصلہ کیوں نہیں سنا رہا؟

وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کہتے ہیں کہ ان کی جماعت نے فنڈنگ دینے والے 40 ہزار نام الیکشن کمیشن کو جمع کرا دیے۔ وہ کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف قومی ادارے کو دھمکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے حزبِ اختلاف کو ریڈ زون میں شاہراہِ دستور پر الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کی اجازت دی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیر کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں حزبِ اختلاف کے احتجاج سے متعلقہ امور کو طے کیا گیا۔

گزشتہ ماہ حکومت نے کرونا وائرس کی بنیاد پر حزبِ اختلاف کو احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی اور بعض جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے جلسہ روکنے کی کوشش کی۔

تاہم اس سے قبل انتظامی رکاوٹوں کے باوجود پی ڈی ایم ملتان اور لاہور میں جلسے کرنے میں کامیاب رہی۔

تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کے اس مقدمے میں پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف نے 2007 سے 2012 تک جو پارٹی فنڈز بیرونی ممالک سے اکھٹا کیے ان کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی ہیں۔

‘فیصلہ اس لئے نہیں آ رہا کہ کٹہرے میں کھڑا شخص نواز شریف نہیں’

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اتوار کی شب لندن سے اپنے ویڈیو خطاب کے ذریعے عوام سے منگل کو الیکشن کمیشن کے سامنے حزبِ اختلاف کے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2018 میں الیکشن کمیشن نے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ دینے کا کہا۔ وہ کہتے ہیں ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی۔

نواز شریف کہتے ہیں کہ ‘کمیشن کیوں نہیں اس پر فیصلہ کر رہا ہے جبکہ عمران خان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ اس وجہ سے نہیں آ رہا ہے کہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں ہے۔

پی ٹی آئی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروا چکی ہے، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اتوار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی نے فنڈ بھیجنے والے 40 ہزار ناموں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروا دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے تاحال الیکشن کمیشن کو اپنی فنڈنگ کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔

پی ڈی ایم کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے شبلی فراز کہتے ہیں کہ حزب اختلاف قومی ادارے کو دھمکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے تحریک انصاف نے اپنے وکلا کے ذریعے الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ اگر فارن فنڈنگ میں کوئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو پھر بھی اس کی ذمہ داری جماعت پر نہیں بلکہ ان دو کمپنیوں کے ایجنٹس پر ہے۔

الیکشن کمیشن نہیں سپریم کورٹ حکومت تحلیل کرسکتی ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پر کسی جماعت کو تحلیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا البتہ سپریم کورٹ ایسا کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کہتے ہیں کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے مطابق کوئی بھی جماعت کسی غیر ملکی شخص، ادارے یا تھنک ٹینک سے فنڈنگ حاصل نہیں کر سکتی۔

حمارا ہند کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ممنوعہ فنڈنگ ​​ثابت ہوجاتی ہے تو الیکشن کمیشن رقم ضبط کرنے کے احکامات جاری کرسکتا ہے۔ تاہم ، ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے حکومت تحلیل نہیں ہوگی بلکہ نئی عدالتی جنگ شروع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ دیتا ہے تو حزب اختلاف جماعتیں اس پر مزید کاروائی کے لئے سپریم کورٹ بھی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں جمہوری اقدار اور قانون سازی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پر سپریم کورٹ اس جماعت کو تحلیل کرنے کا فیصلہ دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے تمام اراکین اسمبلی نا اہل ہو جائیں گے۔ ،

حمارہ ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ الیکشن کمیشن کو فنڈنگ ​​کے ذرائع کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کرتے ہیں اور اگر یہ سرٹیفیکیٹ غلط ثابت ہوتا ہے تو انہیں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ان کے خلاف بے ایمانی نہیں کرنا چاہئے۔ نااہل ہوسکتا ہے۔

غیر ضروری تاخیر نے حزب اختلاف کو احتجاج کا جواز دیا!

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کہتے ہیں کہ بقول ان کے پی ٹی آئی نے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اسے مقدمے کو التواء کا شکار کئے رکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اسکروٹنی کمیٹی نے بھی اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جو ایک ماہ میں جمع کروانا تھی ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود تاحال جمع نہیں کروائی۔

ان کے مطابق اب الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جلد دینے کے احکامات دیئے ہیں۔

کنور دلشاد کہتے ہیں کہ اسکروٹنی کمیٹی اپنا زیادہ تر کام مکمل کر چکی ہے اور اس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں الیکشن کمیشن کو فیصلہ دینے میں زیادہ وقت درکار نہیں ہو گا۔

پلڈاٹ کے احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس مقدمے کے طویل عرصہ سے التواء سے ثابت ہوتا ہے کہ ادارے کمزور ہیں اور فیصلہ دینے سے کترا رہے ہیں۔

فارن فنڈنگ کیس کا پس منظر

تحریک انصاف کے بانی رکن اور نائب صدر رہنے والے اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں اپنے وکلا سید احمد حسن شاہ اور بدر اقبال چوہدری کے ذریعے الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ لینے کی درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں کہا کیا کہ تحریک انصاف نے سال 2007 سے 2012 کے دوران بیرونِ ملک سے حاصل فنڈ کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی ہیں۔

درخواست گزار کا الزام تھا کہ تحریک انصاف نے بیرون ممالک فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو جو ریکارڈ فراہم کیا گیا وہ اصل رقم سے مطابقت نہیں رکھتا لہذٰا فنڈز میں خرد برد کی گئی۔

اکبر ایس بابر کی درخواست میں استدعا کی کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002‘ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

الیکشن کمیشن نے ابتدائی سماعت کے بعد اس مقدمے کو باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لیا۔

الیکشن کمیشن میں اب تک کیا ہوتا رہا

الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ سماعت کے آغاز کے بعد یکم اپریل 2015 کو الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ تحریک انصاف نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں حاصل ہونے والے فنڈز اور ان کے ذرائع کی تمام تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

تحریک انصاف نے اس فیصلے کو ابتدا الیکشن کمیشن کے سامنے اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تحریک انصاف کے اکاؤنٹ کا آڈٹ کرے۔

تحریک انصاف کی جانب سے مختلف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کے سبب الیکشن کمیشن میں سماعت عارضی طور پر رک گئی۔

اعلیٰ عدالتوں سے حکم امتناعی خارج ہونے کے بعد دوبارہ الیکشن کمیشن میں سماعت کا آغاز ہوا اور مارچ 2018 میں فنڈز کی سکروٹنی کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔

تین جولائی 2018 کو الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ تحریک انصاف ضروری تفصیلات فراہم نہیں کر رہی ہے جس پر سٹیٹ بینک آف پاکستان سے 2009 سے لے کر 2013 تک تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹ طلب کیے گئے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تحریک انصاف کے 23 بینک اکاوئنٹس کی تفصیلات فراہم کی گئیں جب کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو صرف آٹھ اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔

سکروٹنی کمیٹی نے مارچ 2019 میں تحریک انصاف سے 10 مالیاتی دستاویزات طلب کیں۔

اس دوران تحریک انصاف نے سکروٹنی کمیٹی کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ سکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھا جائے۔

اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 10 اکتوبر کو تحریک انصاف کو نوٹس دے کر تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سکروٹنی کمیٹی کو کارروائی جاری رکھنے کا کہا گیا۔

اکتوبر 2019 میں تحریک کے وکلا نے اسکروٹنی کمیٹی کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اب 19 جنوری کو اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جسے دیکھتے ہوئے حزب اختلاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس مقدمے کے جلد فیصلے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

پی ڈی ایم کی مختلف جماعتیں علیحدہ علیحدہ مقامات سے ریلیوں کی صورت الیکشن کمیشن پہنچیں گی جہاں پر مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔

Photo Credit : https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d0e7b6c84de0.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: