جی۔20 اجلاس کے شرکا یوکرین جنگ کے مسئلے پر متفق نہ ہو سکے

خبریں

 دنیا کے امیر ترین اور سب سے بڑے ترقی پذیر ممالک کے اعلیٰ سفارت کار ،یوکرین میں روس کی جنگ اور اس کے عالمی اثرات سے نمٹنے کے بارے میں مشترکہ بنیاد تلاش کرنے میں ناکام رہے، جس سے مستقبل میں جی20 فورم کے ذریعہ تعاون کے امکانات غیر یقینی ہوگئے۔

جمعہ کے روز انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں جی 20 اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے اپنے انڈونیشی میزبان سے اتحاد اور جنگ کے خاتمے کی جذباتی التجا سنی۔

میزبان ملک انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی نے گروپ کے وزرائے خارجہ پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے میں مدد کریں، تاہم روس کے اعلیٰ سفارت کار نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ اس تنازعہ پر “جنونی” تنقید کے ساتھ، عالمی اقتصادی مسائل سے نمٹنے کا موقع ضائع کر رہا ہے۔

 ریٹنو مرسودی نے اجلاس ختم ہونے کے بعد ریمارکس میں کہا کہ بالی میں ہونے والے اجتماع پر روس یوکرین جنگ ، اس کے غذائی تحفظ اور توانائی پر اثرات کا غلبہ رہا اور تقریباً تمام دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی اسی موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے باوجود یوکرین جنگ کے موضوع پر مشرق و مغرب کی خلیج اور گہری نظر آئی ، جب ایک طرف چین اور روس اور دوسری طرف امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان اس مسئلہ پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ اس موقع پر نہ کوئی گروپ فوٹو لیا گیا اور نہ ہی کوئی حتمی اعلامیہ جاری کیا گیا، جیسا کہ پچھلے سالوں کی روایت رہی ہے۔خاص طور پر روس اور مغربی شرکاء کے درمیان تلخی واضع تھی۔

اجلاس میں شریک ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ روسی وزیر خارجہ نے کم از کم دو بار کارروائی سے واک آؤٹ کیا: ایک بار جب ان کی جرمن ہم منصب اینالینا بیرباک افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہی تھیں اور دوسری بار جب یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نےاجلاس کے دوسرے سیشن میں ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنا تھا۔

اجلاس شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نےا ستعفی کا اعلان کیا، جسکی وجہ سے برطانوی وزیر خارجہ لز ٹروس کو بالی چھوڑ کر ملک واپس جانا پڑا، جب کہ اجلاس شروع ہوتے ہی جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزوآبے کے قتل کی خبر سامنے آئی۔ دونوں رہنما ماضی میں جی 20 کے کئی اجلاسوں میں شریک ہوئے تھے۔

اجلاس سے خطاب میں انڈونیشی وزیر خارجہ نے شرکا پر زور دیا کہ کرونا وائرس سے لے کر موسمیاتی تبدیلی اوریوکرین جنگ کےمتعدد چیلنجوں سے نبرد آزما اس دنیا کی خاطر اپنی بد اعتمادیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ان کے مطابق ان تمام مسائل کےاثرات، عالمی سطح پر خوراک اور ایندھن کی کمی کی صورت میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔اور جی 20 کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائے اور اس سے نمٹا جائے ۔

انڈونیشی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اس سچائی سے انکار کر ناممکن نہیں کہ دنیا کے لیے ایک ساتھ بیٹھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے، لیکن دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے، اس لیے ہم ناکام نہیں ہو سکتے۔

اجلاس میں امریکہ اور روس کے وزرا کی سرد مہری

یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ایک ہی وقت میں ایک ہی کمرے میں موجود ہونے کے باوجود، امریکی وزیر خارجہ انیٹونی بلنکن اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے واضح طور ایک دوسرے کو نظر انداز کیا۔

لاوروف نے پہلے اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ “آپ جانتے ہیں، یہ ہم نہیں تھے جنہوں نے تمام رابطوں کو ترک کیا تھا۔یہ امریکہ تھا۔ میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔ اور ہم کسی کے پیچھے بھاگ کر میٹنگ کا مشورہ نہیں دیں گے۔ اگر وہ بات نہیں کرنا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہے۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ اجلاس کے بعد گروپ فوٹو کیوں نہیں لیا گیا؟ لاوروف نے کہا کہ انہوں نے کسی کو اپنے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے مدعو نہیں کیا تھا۔

اس کے فوراً بعد اجلاس کے دوسرے سیشن سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے روسی وفد کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ماسکو پر الزام لگایا کہاس نے یوکرینی بندرگاہوں پر لاکھوں ٹن اناج کو روک رکھا ہے ، جو دنیا کے بڑے حصوں میں غذائی عدم تحفظ کا باعث ہے۔

وہاں موجود ایک مغربی سفارت کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلنکن کے اس تبصرے پر رد عمل دینے کے لیے لاوروف وہاں موجود نہیں ، اور ان کی متبادل نمائندہ نے دیگر شرکا کو بتایا کہ ان کے پاس لکھے ہوئے جوابی ریمارکس موجود نہیں تھے۔

امریکی حکام کہہ چکے تھے کہ وہ اس اجلاس کے بنیادی مقصد سے توجہ نہ ہٹانے کے لیے پر عزم تھے یعنی یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی خوراک اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے لیےروس کو ذمہ دار ٹھہرانا، اور اس قلت کو ختم کرنے کے لیے جواب طلب کرنا۔ امریکہ یہ اشارہ بھی دے چکا تھا کہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کے خیال میں جی 20 کے متفقہ اور مشترکہ موقف پیش کرنے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ ممالک کے چھوٹے بلاکس اور انفرادی اقوام اپنے خیالات کا اظہار اور کاروائی کرتیں۔

 ،اس اجلاس میں شریک دو واضع گروپوں نے یہاں پہنچنے سے پہلے مختلف ملکوں میں پڑاو کرکے اپنے لیے سپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، جیسے چینی اور روسی وزرائے خارجہ بالی پہنچنے سے پہلے کچھ ایشیائی ممالک رکے۔ جبکہ مغربی بلاک یعنی امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ جی 20 اجلاس سے پہلے یورپ میں ہونے والی جی 7 اور نیٹو سمٹ میں شرکت کرکے آئے تھے۔

جبکہ جی 20 کا فورم اپنی وسیع تر رکنیت کے ساتھ کہیں زیادہ متنوع، مغربی ارادوں کے بارے پر شکوک اور چین جیسے بڑے پڑوسیوں کی طرف سے پیشکشوں کے لیےوسیع سمجھا جاتا ہے۔

 اس سال جی 20 کی صدارت اور میزبانی سنبھالنے والے ملک انڈونیشیا نے درمیانی راستہ اختیار کرکے ایک ایسا ایجنڈا ترتیب دینے کی کوشش کی ہے جو سیاسی یامنقسم نوعیت کا نہیں ۔انڈونیشیا نے یوکرین پر روس کے حملے کے مسئلے پر بھی غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے، جبکہ صدر جوکو وڈوڈو نے اس حوالے سے بہت نپے تلے بیانات دیے۔

وزرائے خارجہ کی اس ملاقات کا مقصد اس سال نومبر میں ہونے والے جی 20 اجلاس کی راہ ہموار کرنا تھا۔

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/3/39/G20_map.png