جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ میں حکومتی مداخلت، آئی سی سی سے معطلی کا اندیشہ

جنوبی افریقہ میں کرکٹ کو ایک نئے تنازع کا سامنا ہے اور بورڈ میں حکومت کی مداخلت کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے ملک کے بورڈ کرکٹ جنوبی افریقہ (سی ایس اے) پر معطلی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے کرکٹرز نے سی ایس اے میں انتظامی مداخلت پر اسپانسرز اور شائقین سے معذرت کی ہے۔ جب کہ وزیرِ کھیل کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جنوبی افریقہ کے وزیرِ کھیل ناتھی میتھا نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے پاس کھیل کے انتظامی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

وزیرِ کھیل کے اس اعلان کے بعد پیر کو جنوبی افریقہ کے مرد و خواتین کرکٹ ٹیموں کے کپتانوں نے اسپورٹس کونسل کے نئے گورننس اسٹرکچر کو مسترد کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

جنوبی افریقن کرکٹرز کی ایسوسی ایشن کے جاری کردہ ایک بیان میں مردوں کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ڈین الگر، ایک روزہ میچز میں ٹیم کی نمائندگی کرنے والے ٹیمبا باووما اور خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ڈین وین نے کہا کہ تنازع کے شکار کھیل میں حکومت کی مداخلت کے ‘سنگین نتائج’ ہوں گے۔

دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک جنوبی افریقہ کی ٹیم اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں چھٹے جب کہ ون ڈے رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے۔

حال ہی میں جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز بھی کھیلی ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران ایسی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ جنوبی افریقی ٹیم کے سینئر کھلاڑی سیریز چھوڑ کر بھارت میں ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

تینوں کپتانوں کا کہنا تھا کہ اسپورٹس کونسل کے اس اقدام سے جنوبی افریقہ نمائندگی کے حق سے محروم ہو سکتا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل جنوبی افریقہ کو معطل کر سکتا ہے۔

ان کے بقول اس فیصلے کے نتائج دوروں، براڈکاسٹنگ کے حقوق اور اسپانسر شپ کے معاہدوں پر بھی ہوں گے۔ کپتانوں کا کہنا تھا کہ بالآخر اس کھیل کو مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور کرکٹ تعصب کا شکار ہو گی۔

خیال رہے کہ ایک نئے معاہدے میں ناکامی کے بعد وزیرِ کھیل ناتھی میتھوا نے کرکٹ بورڈ میں مداخلت کی تھی۔

انہوں نے نیشنل اسپورٹس اینڈ ری کری ایشن ایکٹ کے استعمال کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ ایکٹ انہیں یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بورڈ کی کھیل کی گورننگ باڈی کی حیثیت کو ختم کر سکیں۔

اگر وزیرِ کھیل کی جانب سے ان اختیارات کو استعمال کیا گیا تو یہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔

وزیرِ کھیل کا یہ قدم صوبائی کرکٹ یونین کے 14 صدور پر مشتمل جنوبی افریقہ کرکٹ کونسل کے اراکین کے اس اقدام کے بعد آیا جس میں وہ ہفتے کے روز ایک ایسے معاہدے کی توثیق میں ناکام ہوگئے تھے جو آزاد ڈائریکٹرز کی اکثریت میں موجود بورڈ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرسکے۔

کھلاڑیوں کے مطابق صدور کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی تھا۔ ان کے بقول وہ اسپانسرز سے براہِ راست بات کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول ‘ہم ہمارے ایڈمنسٹریٹرز کے اقدامات کے لیے معذرت خواہ ہیں جنہوں نے کھیل سے متعلق عزم کو نقصان پہنچایا۔’

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کھیل کی حمایت اور انتظامیہ میں موجود تعطل کو حل کرنے والوں کی حمایت کریں۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے خصوصی جنرل اجلاس میں نئے اسٹرکچر کی توثیق کی جائے گی جس سے سالانہ جنرل اجلاس کے لیے راہ ہموار ہوگی۔ اگرچہ یہ اصل میں گزشتہ سال اکتوبر میں طے شدہ تھا لیکن صرف چھ صدور نے ہی اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جو درکار 75 فی صد اکثریت سے کم تھی۔

Photo Credit : https://www.bdcrictime.com/wp-content/uploads/2021/04/South-Africa-team.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: