جنسی استحصال کی شکایت کرنے والی ویغور خواتین کے خلاف چین کی کارروائی

چین، اپنے مغربی علاقے میں آباد اپنی مسلمان کمیونٹی سے ناروا سلوک پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے تناظر میں، چین، ایک غیر معمولی جارحانہ مہم کے ذریعے ان الزامات کو رد کرنے میں کوشاں ہے، جس میں اُن خواتین کے خلاف واضح اقدامات شامل ہیں جنہوں نے صوبہ سنکیانگ میں جنسی استحصال کی شکایت کی تھی۔

ہمارا ہند کے مطابق ، ان اقدامات کے نتیجے میں ، مغربی قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد چین پر نسل کشی کا الزام عائد کررہی ہے ، اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عروج پر ہیں۔ لہذا چین حالیہ دنوں میں ایغور خواتین گواہوں کی تصویر کو خراب کرنے پر توجہ دے رہا ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں بدسلوکی کی اطلاع دی ہے۔

چین کے عہدیداروں نے پرائیویٹ میڈیکل ڈیٹا کا حوالہ دیکر ان خواتین کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہوئے ان پر ناجائز تعلقات استوار کرنے اور ایک خاتون پر جنسی مرض منتقل کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ معلومات بقول ان کے، خواتین کے کردار پر سوالات اٹھاتی ہیں، اور سنکیانگ میں استحصال کے واقعات کی اطلاعات دینے والی خواتین کی غلط بیانی کو ثابت کرتی ہے۔

سنکیانگ کے محکمہ پبلسٹی کے نائب سربراہ نے رد کرنے کی مہم کے سلسلے میں دسمبر میں ایک نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا کی جانب سے چند نفرت انگیز اقدامات کی تادیب کیلئے، محکمے نے اقدامات کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے، جن میں گھنٹوں تک جاری رہنے والی بریفنگ میں، جس میں سنکیانگ کے شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کی ویڈیو فوٹیج شامل تھیں ، ان سب کو واحد کلامی یعنی مونو لاگ کرتے دکھایا گیا ہے۔

رائٹرز کی جانب سےحالیہ مہینوں میں درجنوں کے حساب سے گھنٹوں پر مشتمل پیشکش کے سلسلے، سینکڑوں صفحات پر مبنی لٹریچر اور اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کے انٹرویو کے تجزیوں کے بعد چین کی ایک باریک بین اور وسیع تر اثرات رکھنے والی مہم سامنے آتی ہے، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین کو خدشہ ہے کہ سنکیانگ کے بیانیے کے سامنے اس کا کنٹرول زائل ہو رہا ہے۔

امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں چینی تاریخ کے پروفیسر اور سنکیانگ پالیسی کے ماہر، جیمس ملوارڈ کہتے ہیں کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی ان خواتین کی شہادتوں کے حوالے سے اس لئے خوف زدہ ہے، کیونکہ اس سے ان کی وہاں موجودگی کیلئے تراشا گیا وہ ابتدائی بہانہ غلط ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ انسدادِ دہشت گردی کیلئے وہاں موجود ہیں۔

پروفیسر جیمس کہتے ہیں کہ یہ حقیقت کہ کیمپوں میں خواتین کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی سے، جن کی وضع قطع کسی بھی حوالےسے متشددانہ رویہ رکھنے والی نہیں لگتی، ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سنکیانگ کے کیمپوں میں محصور، بقول چین، دس لاکھ افراد میں سے زیادہ تر تعداد، ویغور مسلمانوں کی ہے، جن کے بارے میں چین کی مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی مہم چلا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور مغربی سیاستدانوں کی جانب سے عائد کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ ان محصور افراد پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان سے جبری مشقت کرائی جاتی ہے اور انہیں ناقابلِ تولید بنایا جا رہا ہے۔

امریکہ میں ایک غیر معمولی دو جماعتی سمجھوتے کے تحت، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سابق سفارت کار اور موجودہ صدر جو بائیڈن کے سفارت کاروں نے چین میں ویغور مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

چین کو، امریکہ کی جانب سے سنکیانگ کی کپاس، اور ٹماٹروں کی فصل خریدنے پر پابندی کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے قانون ساز سن 2022 کے سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز، درخواست کے باوجود، فوری طور پر کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ چین کی حکومت کسی بھی قسم کے استحصال کو مسترد کرتی ہے، اور ان الزامات سے بھی انکاری ہے کہ کیمپوں میں منظم طریقے سے جنسی استحصال ہو رہا ہے۔

Photo Credit : https://i2.wp.com/nypost.com/wp-content/uploads/sites/2/2021/01/uighur-women-4.jpg?ssl=1

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: