’جرم کا یہ احساس آج تک میرے ساتھ ہے‘

خبریں

وانڈا ارونگ جب بھی اپنی بیٹی شلون کی بات کرتی ہیں تو ان کی آنکھوں سے َآنسو بہنے لگتے ہیں “۔شلون بے مثال تھی، ایک ایسی بیٹی جو کسی بھی ماں کا خواب ہوتی ہے۔وانڈا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی عمر کےاس حصے میں انہیں ایک بچے کو پالنا پڑے گا،لیکن ان کی زندگی اس وقت بدل گئی جب ان کی نواسی سولیل کی پیدائش کے بعد ان کی بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ سولیل اب پانچ سال کی ہے۔جسے وانڈا پال رہی ہیں۔

ان کی بیٹی شلون کی پریگنینسی صحت مند تھی۔ وہ اچھا کھاتی تھیں، ورزش کرتی تھیں اور باقاعدگی سے ڈاکٹروں کے پاس جاتی رہیں۔ لیکن بچے کی پیدائش کے بعد، شلون کے ہاتھ پاؤں سوج گئے، اور بلڈ پریشر بہت ہی بڑھ گیا۔ حمل کی پیچیدگیاں کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں، لیکن وانڈا کو سب سے زیادہ صدمہ یہ ہے کہ جب شلون نے اپنی تکلیف کے بارے میں طبی عملے کو بتایا تو کسی نے یقین نہیں کیا۔ اورایسا اس لئے نہیں ہوا کہ شلون اپنی بات سمجھا نہیں پا ئی تھیں۔ وانڈا کہتی ہیں، “وہ ایک سرٹیفائیڈ ہیلتھ ایجوکیشن اسپیشلسٹ تھی۔ وہ پروفیسر رہ چکی تھی۔ لیکن اس کی بات سنی ہی نہیں گئی ۔ اسے عزت نہیں دی گئی۔ اس پر کسی نے یقین نہیں کیا۔”

آپ سمجھیں گے کہ یہ ایک ایسا وا قعہ ہے جوامریکہ میں شاذونادر ہی ہوتا ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ارونگ کا خاندان کو اس طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی بہت سی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں اور اس میں ایک اہم عنصر وہ فرق ہے جو مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی شرح اموات میں ہے۔ یہاں امریکہ میں حمل کے دران ہونے والی پیچیدگیوں سے، سفید فام خواتین کے مقابلے میں، سیاہ فام اور امریکہ کے آبائی باشندوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے مر جانے کا امکان کہیں زیادہ ہے ۔ یہ کہنا ہے امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام اور علاج کے ادارے، سی ڈی سی کا۔

نائب صدر کمالا ہیرس نے ماؤں کی صحت کو اپنی داخلی پالیسی کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنایاہے۔ وہ کہتی ہیں “ایک ترقی یافتہ ملک کہلانے والا ملک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں،ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں زچگی کے دوران شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔”روہنی کوسوگلو نائب صدرہیرس کی داخلی پالیسی کی مشیر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا کہ حمل کے دوران سیاہ فام خواتین کے مرنے کا امکان، سفید فام عورتوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اور نیٹو امریکی خواتین کے لیے، یہ امکان دوگنا ہے ۔

نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ حمل اور زچگی کے دوران اور بعد میں، خواتین کو جن سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کے حصول کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔ فہرست طویل ہے: غذائیت، آنے جانے کی سہولتیں، رہائش ، وغیرہ۔ روہنی سوگلو اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی سہولت،ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی، ایسے لوگ جومختلف اسپتالوں کی سیٹنگ میں خواتین کی وکالت میں مدد کرسکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد میں اضافے پر بھی پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ ملک بھرمیں ، خواتین کے امراض کے ماہرین اور دائیوں کی کمی ہے۔

صورتحال بہتر بنانے کی ان کوششوں کے پیچھے امریکی کانگرس کی رکن، لارین انڈر ووڈ ہیں، جو بلیک میٹرنل ہیلتھ کاکس کی شریک چیئرپرسن ہیں، جودونوں جماعتوں پر مشتمل، کانگریس کے سب سے بڑے کاکسز میں سے ایک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس ملک میں، ہیلتھ کئیر سسٹم سمیت، اداروں میں منظم نسل پرستی مو جود ہے اس کی مثال وہ اس طرح دیتی ہیں کہ ایک سیا فام عورت سے کہا جا تا ہے،”اوہ، آپ میں درد برداشت کرنے کی ہمت زیادہ ہے، آپ کے منشیات کاعادی ہونے کا زیادہ امکان ہے، اس لیے ہم آپ کو علاج کے لئے دستیاب تمام متبادل پیش نہیں کریں گے۔”

اس کی ایک مثال ایک سیاہ فام ماں پیپر ریڈ ہیں، جن کے پانچ بچے ہیں ۔ انہوں نے وائش آف امریکہ کو بتا یا کہ جب انکے پاس پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس تھا، تو بچوں کی پیدائش کے دوران انہیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ لیکن انشورنس ختم جانے کے بعد، چوتھے بچے کی پیدائش کے دوران وہ درد سے تڑپتی رہیں لیکن انہیں پہلے کی طرح درد کی دوا نہیں دی گئی۔ ان کے اپنے الفاظ میں،” میں وہ سارا درد محسوس کر سکتی تھی ۔ میں رو رہی تھی، چیخ چلارہی تھی۔ یہ سب انتہائی ہولناک تھا ۔ کیونکہ بہت سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واقعی یقین نہیں آتا جب ایک ماں انہیں بتاتی ہے کہ وہ کتنے درد میں ہے۔”

کانگریس وومن انڈر ووڈ کہتی ہیں کہ عام طور پرجو تحفظ دینے والے عوامل ہوتے ہیں، یعنی زیادہ آمدنی، اعلیٰ تعلیم ، باروزگار ہونا، ہیلتھ انشورنس ، اوربچے کی پیدائش سے پہلے دیکھ بھال کا میسر ہونا … ان میں سے کوئی بھی تحفظ دینے والے عوامل، امریکہ میں بیشتر سیاہ فام لوگوں کے لیےموجود نہیں ہیں۔”

وانڈا ارونگ کو لگتا ہے کہ تبدیلی اتنی جلد نہیں آ سکتی۔ ا نہیں آخری بار اپنی بیٹی کے ساتھ کی جانے والی باتیں یاد ہیں۔ بہتے انسوؤں کے ساتھ وہ ان آخری لمحات کو دہراےی ہیں۔

“اس نے کہا تھا، ‘ماں مجھے نہیں معلوم کہ مجھےکیا ہو رہا ہے، لیکن کیا یہ ٹھیک ہو جائے گا؟’ اور میں نے کہا، ‘ہاں، بےبی، یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم اس سے گزرجا ئیں گے۔ یہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اورجرم کا یہ احساس آج تک میرے ساتھ ہے اپنی بیٹی کویہ بتانا کہ یہ سب ٹھیک ہو جائے گا جب کہ ایسا تھا نہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://www.statnews.com/wp-content/uploads/2017/12/20171207-shalon-lead-3×2.jpg