’جراسک ورلڈ ڈومینین‘: ایک دن میں 12 کروڑ ڈالر بزنس کرنے والی فلم تنقید کی زد میں کیوں؟

خبریں

ہالی وڈ کی فرینچائز ‘جراسک ورلڈ’ کی تیسری اور مجموعی طور پر ‘جراسک سیریز’ کی چھٹی فلم ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نے ریلیز ہوتے ہی باکس آفس پر تہلکہ مچادیا ہے۔ صرف امریکہ میں ریلیز کے پہلے ہی دن ‘جراسک ورلڈ ڈومینین ‘ نے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زکا بزنس کیا ہے۔

یہی نہیں پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں بچوں اور بڑوں نے سنیماگھروں کا رخ کیا اور جمعے کے روز تقریباًملک بھر کے سنیما گھروں میں اس فلم کا چرچہ تھا۔

کراچی سے لے کر اسلام آباد تک اس فلم نے ٹام کروز کی ‘ٹاپ گن میورک’ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جو گزشتہ دو ہفتوں سے شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

باکس آفس کی مستند ویب سائٹ باکس آفس ڈیٹیل کے مطابق صرف پاکستان میں ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نے پہلے روز ایک کروڑ 82 لاکھ روپے کا بزنس کرکے سال کی دوسری بڑی اوپننگ کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ میں اس بار بھی کرس پریٹ اور برائس ڈیلس ہاورڈ نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں جب کہ ‘جراسک پارک’ سیریز کے مرکزی کردار سیم نیل، لورا ڈیرن اور جیف گولڈبلم نے اس فلم کے ذریعے فرانچائز میں واپسی کی ہے۔

فلم میں ایسا کیا ہے کہ اسے لوگ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں؟

‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نہ صرف ‘جراسک ورلڈ’ سیریز کی آخری فلم ہے بلکہ ‘جراسک ‘ فرینچائز کا اختتام بھی اسی فلم سے ہورہا ہے۔فلم کی کہانی ‘جراسک ورلڈ فالن کنگ ڈم’ کے چار سال بعد شروع ہوتی ہے جس میں اوون گریڈی (کرس پریٹ) اور کلیئر ڈیئرنگ (برائس ڈیلس ہاورڈ) دنیا کی نظروں سے دور میسی لوک وڈ (ایزابیلا سرمن) کی پرورش میں مصروف ہوتے ہیں۔

کلوننگ کے ذریعے پیدا ہونے والی میسی کو تنہائی میں پالنا اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ اسے ان افراد سے بچایا جاسکے جنہیں اس کی تلاش ہے۔

ایسے میں جب میسی اور اوون کو سمجھنے والے ڈائنوسار کےبچے کو ‘پوچرز ‘ اٹھا کر لے جاتے ہیں تو وہ اور کلیئر ان کے پیچھے اٹلی پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں ایک نامی گرامی کمپنی میسی کے ڈی این اے کا جائزہ لے کر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

کہانی میں ڈائنوسار کے ساتھ ساتھ لوکسٹ (ٹڈی) کی ایک ایسی قسم بھی موجود ہے جو دنیا بھر کی فصلوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہوتی ہے۔ سوائے اس کمپنی کی فصلوں کو جس نے ٹڈی کو اسی مقصد کے لیے تیار کیا تھا۔

ٹڈی حملوں کی تحقیقات کرنے کے لیے ‘جراسک پارک’ کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایلن گرینٹ (سیم نیل)، ڈاکٹر ایلی سیٹلر (لورا ڈرن) اور ڈاکٹر این میلکم (جیف گولڈ بلم) ایک بار پھر یکجا ہوتے ہیں۔

دونوں ٹیموں کے مشن میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈائنوسارز کی شہروں اور دیہاتوں سمیت ہر جگہ موجودگی کے ساتھ ساتھ بائیوسن نامی کمپنی کی فول پروف سیکیورٹی بھی ہے۔ جس کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا قدم اٹھانا خطرے سے خالی نہیں۔

کیا ‘جراسک پارک’ کے مرکزی کرداروں کی واپسی سے ‘جراسک ورلڈ’ کو مدد ملی؟

جب 1993 میں ‘جراسک پارک’ ریلیز ہوئی تھی اس وقت اس کو بنانے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ آگے جاکر یہ فرنچائز کتنی مقبول ہوجائے گی۔

سیم نیل، لورا ڈرن اور جیف گولڈ بلم پہلی فلم کے بعد ایک ایک مرتبہ ‘جراسک پارک’ فلموں کا حصہ بنے۔ جس میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ڈائنو سارز سے بچایا۔

چودہ سال کے عرصے کے بعد جب ‘جراسک ورلڈ’ کا آغاز ہوا تو پرانی ٹریلوجی کے چاہنے والوں نے پسندیدہ کرداروں کی کمی کو محسوس کیا۔

اسی لیے موجودہ فلم میں ہدایت کار کولن ٹریوورو کی دعوت پر ان تینوں اداکاروں نے فرنچائز میں کم بیک کیا اور کرس پریٹ اور برائس ڈیلس ہاورڈ جتنی دیر تک اسکرین پررہے۔ان کی موجودگی نے نہ صرف بڑی عمر کے ان شائقین کو محظوظ کیا جنہوں نے ‘جراسک پارک’ سنیما میں دیکھی تھی بلکہ وہ نوجوانوں بھی محظوظ ہوئے جنہوں نے ان کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن دیکھا نہیں تھا۔

ڈائنو سارز کی بڑی تعداد اور بڑا سائز جان ولیمز کی پس پردہ موسیقی اور پانچ مرکزی کرداروں کی موجودگی کی وجہ سے یہ فلم اس فرنچائز کی سب سے بڑی فلم ہوسکتی تھی۔ البتہ ناقدین کے مطابق یہ گزشتہ فلم ‘جراسک ورلڈ، فالن کنگ ڈم’ سے بھی بری ہے اور اس کی وجہ کہانی کا بے ربط ہونا اور ڈائنوسارز سے توجہ ہٹنا ہے۔

‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ اس سال کی بدترین فلم ہے’

کیا وجہ ہے کہ شائقین اس فلم کو دیکھنے سنیما کا رخ کررہے ہیں لیکن دنیا بھر کے معتبر ناقدین اس فلم کو فرنچائز کی سب سے کمزور فلم قرار دے رہے ہیں۔ ان کی نظر میں باکس آفس پر کامیابی اتنی اہم نہیں جتنا کہ فلم کی کہانی، اداکاری و ہدایت کاری ہے جو اس بار اس فلم کی دیگر اقساط کے مقابلے میں بدتر رہی۔

’ویب سائٹس روٹن ٹوماٹوز’ اور ‘میٹا کریٹک’ کی ریٹنگ پر بہت کم لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے۔ ان ویب سائٹس نے ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ کو خراب ریویو دیے جب کہ کچھ یہی حال بین الاقوامی ناقدین کا بھی رہا جو فلم سے قطعی خوش نہیں ہوئے۔

جریدے ‘دے ہالی وڈ رپورٹر’ کے لیے لکھتے ہوئے فلمی نقاد ڈیوڈ رونی کا کہنا تھا کہ اس فلم نے ‘جراسک پارک’ کی یاد دلانے کی کوشش تو کی لیکن اسے بنانے والے خود اس فرنچائز کے ماڈل کو بھول گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں ریلیز ہونے والی ‘جراسک ورلڈ’ سے جتنی شہرت کولن ٹریوورو نے حاصل کی تھی وہ سب اس فلم کے بعد گنوا دی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتنے سارے مرکزی کرداروں کو وہ ٹھیک طرح ہینڈل نہیں کرسکے۔ ڈائنوسارز کا بار بار آپس میں لڑنا بھی شائقین کو بور کرنے لگا۔ اوپر سے ہدایت کار کا اس فلم میں ‘انڈیانا جونز’، جیسن بورن’، ‘ایلین’، ‘اسٹار وارز’ اور ‘دے سوارم’ جیسی فرنچائز کا تڑکا لگانے کی کوشش نے فرنچائز کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

برطانوی اخبار ‘دے گارڈین’ کے لیے فلم کریٹک مارک کیرموڈ کا کہنا تھا کہ ہدایت کار نے آدھی سے زیادہ فلم صرف یہ سوچنے میں گزار دی کہ فلم میں کون سی کہانی، کس ملک میں اور کس اسٹائل میں سنانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کبھی وہ اٹلی میں ہوتے، کبھی امریکہ تو کبھی مالٹا میں۔ کہیں جیمز بانڈ کی طرح اسکرین پر کار چیز ہوتی۔ کہیں مشن امپاسبل کی طرح دنیا کو بچانے کا مشن، تو کہیں موٹر سائیکل سے جہاز پر جمپ۔ وہ سب بھی ڈائنوسارز کی فلم میں۔

یہی نہیں انہوں نے بھی انڈیانا جونز کی ہیٹ، فلم کے بیک گراؤنڈ اسکور اور جیف گولڈبلم کی اداکاری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سب چیزیں ٹھیک ہوتیں تو شاید فلم دیکھنے کا مزہ بھی زیادہ آتا۔

ایک اور ویب سائٹ’ انویرس‘ کے لیے لکھتے ہوئے ایرک فرانسسکو نے کہا کہ اس سال انہوں نے موربئیس بھی دیکھی لیکن ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ اب تک کی سب سے بری فلم ثابت ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اس کو بھی ڈائنوسارز کی طرح ‘معدوم’ ہوجانا چاہیے۔

‘رولنگ اسٹون’ کے ڈیوڈ فیئر کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ سن 2018 میں ریلیز ہونے والی ‘جراسک ورلڈ، فالن کنگ ڈم’ بنانے والوں سے معافی مانگی جائے کیونکہ ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ کو دیکھنے کے بعد پچھلی فلم بہتر لگ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم نہ صرف پوری ٹریلوجی کے لیے تباہ کن ہے بلکہ پوری فرنچائز کے لیے اور اسے بھی ڈائنوسارز کی طرح صفِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔

اس کے برعکس ‘نیو یارک ٹائمز’ کے اے او اسکاٹ سمجھتے ہیں کہ اس فلم میں ڈائنوسارز کا کردار کم اور انسانوں کا زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ‘جراسک ورلڈ’ کی مرکزی کاسٹ کے پاس یہاں کچھ کرنے کو نہیں تھا جن کی وجہ سے لوگوں نے سنیما کا رخ کیا۔

تصویر کریڈٹ : https://api.time.com/wp-content/uploads/2018/06/dinosaurs-jurassic-world-fact-check-3.jpg