جاپان کی شہزادی ماکو ایک عام آدمی کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک، شاہی مرتبہ ٹھکرا دیا

جاپانی شہزادی ماکو نے منگل کو روایتی شادی کی تقریبات کے بغیر خاموشی سے ایک عام آدمی سے شادی کا بندھن باندھ لیا اور کہا کہ شادی، جس میں تین سال کی تاخیر ہوئی اور جس کی کچھ لوگوں نے مخالفت کی، ”ہماری دلی راحت کے لئے ایک ضروری فیصلہ تھا”۔

ہمارا ہند کے مطابق، ماکو کومورو سے اپنی شادی کے نتیجے میں اپنی شاہی حیثیت کھو بیٹھی۔ اس نے اپنا خاندانی نام چھوڑ دیا ہے اور اپنے شوہر کا آخری نام اپنا لیا ہے۔ جاپان میں ایک قانون کے تحت شادی شدہ جوڑوں کے لیے صرف ایک کنیت یا آخری نام ہونا ضروری ہے، زیادہ تر خواتین کو شادی کے بعد اپنا خاندانی نام ترک کرنا پڑتا ہے۔

امپیرئیل ہاوس ہولڈ ایجنسی کے مطابق،جوڑے کی شادی کی دستاویزات منگل کی صبح شاہی محل کے ایک عہدے دار نے جمع کرائیں اور شادی کو سرکاری حیثیت دی۔ ان کے لئے شادی کی کسی ضیافت یا رسومات کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ ایجنسی نے تسلیم کیا کہ بہت سے لوگوں نے شادی کی پذیرائی نہیں کی۔

ماکو نے ایک ٹیلی وژن نیوز کانفرنس میں اپنے شوہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ،”میرے لیے کے ای کومورو ایک انمول شخص ہیں۔ ہمارے لئے شادی اپنے دلوں کی خوشی کےلئے ایک ضروری فیصلہ تھا”۔

کومورو نے جواباً کہا، “میں ماکو سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے صرف ایک زندگی ملی ہے اور میں یہ زندگی اس کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں”۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ماکو کے ساتھ خوشگوار زندگی گزاریں گے اور اچھے اور برے وقت میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیں گے۔

محل کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اس سے قبل ماکو نے 140 ملین ین یا ایک اعشاریہ 23 ملین ڈالر کی وہ رقم لینے سے انکار کر دیا تھا جس کی وہ شاہی خاندان کو چھوڑنے کے باعث لینے کی حقدار تھیں۔

وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شاہی خاندان کی پہلی فرد ہیں جنہوں نے یہ رقم وصول نہیں کی اور انہوں نے اپنی شادی پر تنقید کی وجہ سے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماکو، جو شادی سے تین دن پہلے 30 سال کی ہو گئی تھیں، شہنشاہ ناروہیتو کی بھانجی ہیں۔ انہوں نے اور کومورو نے، جو ٹوکیو کی انٹرنیشنل کرسچن یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھے، ستمبر 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے سال شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن دو ماہ بعد ان کی والدہ کے حوالےسے ایک مالی تنازعہ منظر عام پر آیا اور شادی کو معطل کر دیا گیا تھا۔

منگل کی صبح، ماکو ہلکے نیلے رنگ کا لباس پہن کر اور گلدستہ تھامے محل سے رخصت ہوئیں۔ انہوں نے رہائش گاہ کے باہر اپنے والدین، ولی عہد شہزادہ آکی شینو اور ولی عہد شہزادی کیکو، اور اپنی بہن کاکو کے سامنے جھک کر آداب پیش کیا اور پھر بہنوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔

جوڑے نے نیوز کانفرنس میں سوالات کے جوابات نہیں دیے، کیونکہ ماکو نے ذاتی طور پر جواب دینے میں گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بجائے، انہوں نے میڈیا کی طرف سے پیش کیے گئے سوالات کے تحریری جوابات فراہم کیے، جن میں ان کی والدہ کے مالی مسائل کے بارے میں سوالات شامل تھے۔

ماکو اس شدید ذہنی دباو سے صحت یاب ہو رہی ہے جسے محل کے ڈاکٹروں نے اس ماہ کے شروع میں تکلیف دہ تناؤ کی خرابی کی ایک قسم قرار دیا تھا۔ انہیں یہ دباو اپنی شادی کے بارے میں میڈیا کی منفی کوریج، خاص طور پر کومورو کو تنقید کی زد میں دیکھنے کے بعد لاحق ہوا تھا۔

ماکو نے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا، “ہم خوفزدہ، پریشان اور افسردہ ہیں، کیونکہ غلط معلومات کو حقیقت کے طور پر لیا گیا ہے اور یہ کہ بے بنیاد کہانیاں پھیل گئی ہیں۔”

30 سالہ کومورو قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 2018 میں نیویارک گئے تھے اور پچھلے مہینے ہی جاپان واپس آئے تھے۔ اس وقت ان کے بال ایک پونی ٹیل میں بندھے ہوئے تھے جو روایت کے پابند شاہی خاندان کی کسی شہزادی سے شادی کرنے والے کسی شخص کے حوالے سے توجہ کا مرکز اور بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنے۔

یہ نو بیاہتا جوڑا اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے نیویارک جائے گا۔ ٹوکیو میں بہت سے لوگوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ماکو نے ان سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ،”جب ہم اپنی نئی زندگی شروع کریں گے تو طرح طرح کی مشکلات آئیں گی، لیکن ہم ساتھ چلیں گے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کیا ہے۔”

ماکو واحد شاہی خاتون نہیں ہیں جن کی ذہنی صحت محل کے اندر اور باہر سے ہونے والی تنقید کے باعث متاثر ہوئی تھی۔

ان کی دادی، مہارانی ایمریتا میچیکو، سابق شہنشاہ اکی ہیٹو کی اہلیہ اور جدید تاریخ میں ایک بادشاہ سے شادی شدہ پہلی عام شہری، مسلسل منفی کوریج کے بعد 1993 میں سخت ذہنی دباو کا شکار اور عارضی طور پر اپنی آواز سے محروم ہوگئی تھیں۔

مہارانی مساکو، ہارورڈ سے تعلیم یافتہ سابق سفارت کار، تقریباً 20 برس تک ذہنی تناؤ کا شکار رہیں، جس کی ایک وجہ ان کا مرد وارث پیدا نہ کرنے پر تنقید تھی۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماکو کی شادی جاپانی شاہی گھرانے میں خواتین کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔

ماکو کے لئے شاہی مرتبے سے محرومی کی وجہ امپیریل ہاؤس کا وہ قانون ہے، جو صرف مرد کی جانشینی کی اجازت دیتا ہے۔ صرف شاہی خاندان کے مرد خاندانی نام رکھتے ہیں، جب کہ شاہی خاندان کی خواتین کے لئے صرف القابات ہوتے ہیں اور عام لوگوں سے شادی کی صورت میں انہیں ان القابات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

جاپان میں اب اکیشینو اور ان کے بیٹے شہزادہ ہساہیتو شہنشاہ ناروہیتو کی جانشینی کے لئے حق دار ہیں۔ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ماہرین کا ایک پینل جانشینی کے مزید مستحکم نظام پر بحث کر رہا ہے، لیکن قدامت پسند اب بھی خواتین کی جانشینی اور انہیں شاہی خاندان کی سربراہی کی اجازت دینے سےانکار کرتے ہیں۔

Photo Credit : https://imagesvc.meredithcorp.io/v3/mm/image?url=https%3A%2F%2Fstatic.onecms.io%2Fwp-content%2Fuploads%2Fsites%2F20%2F2021%2F10%2F26%2Fprincess-mako-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.