‘جارج فلائیڈ کی گرفتاری کو بے یقینی اور احساس جرم کے ساتھ دیکھا’

امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک شووین کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں بدھ کے روز بھی گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

پولیس اہلکار کے خلاف مقدمے کی یہ کارروائی امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں ہو رہی ہے۔

بدھ کی کارروائی میں اس سٹور کے کیشئیر کی گواہی ریکارڈ کی گئی، جس نے جارج فلائیڈ کی پولیس اہلکار سے جھڑپ سے ذرا قبل اسے بیس ڈالر کے نقلی نوٹ کے عوض سگریٹ کا ایک پیکٹ فروخت کیا تھا۔

انیس سالہ کیشئیر کرسٹوفر مارٹن نے اپنی گواہی میں تسلیم کیا کہ اس نے فلائیڈ سے بیس ڈالر کا نقلی نوٹ قبول کیا تھا۔ لیکن جب اسے نوٹ کے نقلی ہونے کا احساس ہوا اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ رقم سٹور پالیسی کے مطابق اس کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی، اس نے اس بارے میں سٹور کے مالک کو مطلع کرنا مناسب سمجھا، جس نے اسے فوری طور پر فلائیڈ کے پیچھے جانے اور سٹور میں واپس لانے کو کہا۔

کیشئیر کرسٹوفر مارٹن نے بتایا کہ اس نے بیس ڈالر کا نقلی نوٹ دینے والے شخص کی اپنے سٹور کے باہر گرفتاری کو “بے یقینی اور احساس جرم” کے ساتھ دیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ “اگر میں نے وہ نوٹ قبول نہ کیا ہوتا، تو ایسا نہ ہوتا”۔

اس سے قبل، آگ بجھانے والے عملے کی ایک رکن جینیویو ہینسن نے اپنی شہادت ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ انہیں موقعے پر فلائیڈ کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

جینیویو ہینسن اُن متعدد افراد میں شامل ہیں جنہوں نے منگل کے روز سے اپنی شہادتیں ریکارڈ کرانی شروع کی تھیں، اور اپنی مایوسی اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ایک اشیائے خورد و نوش کے سٹور کے باہر پولیس اہلکار ڈیرک شو وین کو فلائیڈ کی گردن پر گھٹنے کے بل جھکے ہوئے دیکھا تھا، مگر ان کی مدد نہیں کر سکی تھیں۔

گواہی دینے والوں اور موقع پر موجود افراد کی جانب سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو کے مطابق، جینیویو نے اس واقعے کے دوران پولیس کے سامنے اپنے آپ کو فائر فائیٹر کے طور پر متعارف کراتے ہوئے بار بار درخواست کی تھی کہ اسے فلائیڈ کی نبض دیکھنے کی اجازت دیں۔

وکلا استغاثہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار ڈیرک شووین نو منٹ اور اکتیس سیکنڈ تک فلوئیڈ کی گردن پر گھٹنے کے بل جھکا رہا۔

پولیس اہلکار ڈیرک شو وین کو قتل کے الزامات کا سامنا ہے، جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

ڈیرک شووین کے وکلا نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس اہلکار صرف اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق عمل کر رہا تھا، اور یہ کہ فلائیڈ کی موت دیگر وجوہات سے ہوئی جن میں دل کی بیماری اور منشیات کا استعمال شامل تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے واقعے کی موقعے پر لی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہونے اور خبروں پر مبنی پروگراموں کی وجہ سے امریکہ بھر میں متعدد مقامات پر پولیس کے برتاؤ کے خلاف زبردست مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ پولیس کی ظلم و زیادتی کے خلاف ایسے ہی مظاہرے دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ہوئے تھے۔

حال ہی میں امریکہ کے شہر منی ایپلس کی مقامی حکومت نے جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمے کے تصفیے کے لیے ستائیس ملین ڈالر یعنی دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔

جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کے وکیل بین کرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ تصفیے کی یہ رقم کسی بھی مقدمے میں ادا کی جانے والی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/1T9mFkZ4ryO9NhUkORtxEQ–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTY0MA–/https://media-mbst-pub-ue1.s3.amazonaws.com/creatr-images/2020-05/163e79e0-a209-11ea-aeef-31059e467c0b

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: