تھینکس گونگ کی آمد آمد، ہوائی اڈوں کی رونقیں بحال، سات کروڑ امریکیوں کا سفر متوقع


امریکہ میں تھینکس گوونگ کا تہوار اپنے عزیزوں اور پیاروں کے ساتھ منانے کے لیے ہوائی اڈوں اور سٹرکوں پر مسلسل رش بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا کہ اگر موسم اسی طرح سازگار رہا تو آنے والے چند دنوں میں مزید لاکھوں امریکی طیاروں میں سوار ہو کر فضاؤں کا لطف اٹھا رہے ہوں گے اور اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی میں اپنی گاڑٰیوں میں شاہراؤں پر رواں دواں نظر آئیں گے۔

تھینکس گوونگ امریکہ کا ایک اہم ثقافتی تہوار ہے جو اس تاریخی دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب امریکہ میں آنے والے نو آبادکاروں اور مقامی باشندوں نے ایک دعوت کا اہتمام کیا تھا جس میں ٹرکی کے گوشت اور مقامی پھلوں، سبزیوں اور اناج کے پکوان پیش کیے گئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مل جل کر رہنے اور مستقبل کی جانب سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عہد کیا تھا۔

تاریخ کے مطابق امریکہ میں پہلا تھینکس گوونگ نومبر 1621 میں منایا گیا تھا۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب فصلیں کٹ کر تیار ہو جاتی ہیں۔ ماضی میں یہ اس لحاظ سے بھی خوشی کا موقع ہوتا تھا کہ سردیوں کی آمد سے قبل اناج اور خوراک کا ذخیرہ کھیتوں اور کھلیانوں سے گھروں میں منتقل ہو جاتا تھا اور قدیم آبادیوں کو یہ اطمینان ہوتا تھا کہ ان کی سردیاں کسی پریشانی اور فکر کے بغیر گزریں گی۔

تھینکس گوونگ صرف امریکہ کا ہی نہیں بلکہ براعظم شمالی امریکہ کا مشترکہ ثقافتی تہوار ہے، یہ کینیڈا، برازیل اور اس خطے کے دیگر کئی ملکوں اور علاقوں میں بھی منایا جاتا ہے، تاہم، ان کی تاریخیں مختلف ہیں۔

امریکہ میں یہ تہوار نومبر کی چوتھی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اسے امریکہ میں تعطیلات کے موسم کا آغاز بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس سے اگلے دن بلیک فرائی ڈے ہوتا ہے، جو امریکہ میں خریداریوں کا سب سے بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس روز اکثر چیزیں انتہائی کم قیمت پر مل جاتی ہیں۔ اس کے بعد دسمبر میں کرسمس اور پھر یکم جنوری کو سال نو کی تقریب ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تھینکس گوونگ کے بعد لوگوں کی اکثریت تعطیلات کے موڈ میں آ جاتی ہے اور چھٹیوں کی گہماگہمی، خریداریاں، تحفے تحائف، دعوتیں اور میل ملاپ شروع ہو جاتے ہیں۔

ایک سال سے زیادہ عرصے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے سماجی پابندیاں عائد تھیں، جس کی وجہ سے تھینکس گوونگ کی رونقیں ماند پڑ گئی تھیں اور دعوتیں اور ملاقاتیں محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔ لیکن اب ویکسین کی وجہ سے صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے سفری پابندیوں میں بھی نرمی کر دی ہے، جس کے باعث ہوائی اڈوں اور سیاحت کے مقامات پر رونقیں رفتہ رفتہ بحال ہو رہی ہیں۔

ہوائی اڈوں پر مسافروں اور سٹرکوں پر ٹریفک میں اضافہ

امریکہ کی ٹرانسپوٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے کہا ہے کہ مارچ 2020 میں کووڈ-19 کی آغاز کے بعد سے حالیہ جمعہ امریکہ میں ہوائی سفر کے لحاظ سے مصروف ترین دن تھا۔ صرف اس ایک روز میں 22 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے ہوائی سفر کیا۔

ٹی ایس اے کے اندازوں کے مطابق تھینکس گوونگ کے موقع پر دو کروڑ سے زیادہ لوگ سفر کریں گے جو کہ 2019 کے تھینکس گوونگ کے ہوائی سفر کی قریب ترین تعداد ہے۔ اس موقع پر دو کروڑ 60 لاکھ لوگوں سے اپنے عزیزوں اور پیاروں سے ملنے کے لیے طیاروں سے سفر کیاتھا۔

واشنگٹن ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر ٹی ایس اے کے ایڈمنسٹیٹر ڈیوڈ پی کاسکے کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کا متوقع بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

شاہراہوں کی کہانی بھی فضائی راہداریوں سے مختلف نہیں ہے۔ شاہراہوں پر سفر سے متعلق ایک ادارے ٹرپل اے نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ تھینکس گوونگ کے موقع پر پانچ کروڑ 34 لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فی صد زیادہ ہے۔ ٹرپل اے کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زیادہ تر تعداد اپنی گاڑٰیوں میں سفر کرے گی۔ یہ تعداد چار کروڑ 83 لاکھ کے لگ بھگ ہو گی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 47 فی صد زیادہ ہے، لیکن 2019 کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سال تقریباً پانچ کروڑ لوگوں نے تھینکس گوونگ پر اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے اپنی گاڑیوں میں سفر کیا تھا۔

تاہم، اس سال اپنی گاڑیوں سے سفر کرنے والوں کو ایک اور مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے پٹرول کی قیمتیں جو 2014 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اس اضافے کی وجہ سے کچھ لوگ کاروں کا دروازہ کھولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔

ایک امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ وہ تھینکس گوونگ کے سیزن کے دوران 45 لاکھ مسافروں کی توقع کر رہے ہیں جو 2019 کے مقابلے میں 88 فی صد تعداد ہے۔

ایک اور فضائی کمپنی یونائیڈ نے کہا ہے کہ تھینکس گوونگ کے موقع پر اس نے 700 نئی فلائٹس کا اضافہ کیا ہے اور وہ 2019 کے مقابلے میں 87 فی صد مسافروں کو اپنے پیاروں تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔

ڈاکٹر فاؤچی کا کووڈ-19 کی بوسٹر خوراک لگوانے پر زور

دوسری جانب امریکہ کے وبائی امراض کے اعلیٰ ترین ماہر ڈاکٹر انٹونی فاؤچی نے اتوار کے روز لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ تھینکس گوونگ کے تہوار کو محفوظ بنانے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے کووڈ-19 کے خلاف ویکسین کا بوسٹر لگوائیں۔

سی ڈی سی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے زیادہ عمر کے بالغ افراد ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوا سکتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک 19 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ افراد ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہیں، جب کہ تیسری خوراک یعنی بوسٹر لگوانے والوں کی تعداد محض تین کروڑ 45 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی ادارے، سی ڈی سی نے بتایا ہے کہ ملک میں اب بھی تقریباً چھ کروڑ افراد ایسے ہیں جنہوں نے ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں لی۔

امریکہ میں ان دنوں کرونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں اوسطاً 90 ہزار یومیہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ موسم مسلسل ٹھنڈا ہو رہا ہے اور ٹھنڈ کی وجہ سے لوگوں عمارتوں کے اندر مسدود ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے وائرس کی منتقلی نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر فاؤچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن افراد اور خاندانوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا لی ہیں، وہ محفوظ ہیں اور وہ ماسک پہنے بغیر اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ تھینکس گوونگ کا تہوار منا سکتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس سال آپ یہ تہوار اپنے پیاروں اور خاندان کے ساتھ بلا خوف و خطر منانے کے قابل ہیں۔

Photo Credit : https://i.inews.co.uk/content/uploads/2020/11/PRI_171970679.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.