ترکی نے اپنی بحریہ کے 10 سابق ایڈمرل حراست میں لے لیے

ترکی میں حکام نے اپنی بحریہ میں ایڈمرل کے عہدے پر فائز 100 سے زیادہ سابق عہدیداروں کی جانب سے ایک بیان کے بعد 10 سابق عہدے داروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ جس میں انہوں نے ترکی کے آبنائے باسفورس اور آبنائے ڈارڈنلز کے ذریعے جہاز رانی کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

ہمارا ہند کے مطابق ، ترک حکام کا خیال ہے کہ سابق بحریہ کے افسر کا بیان ترکی میں فوجی بغاوت کی تاریخ سے وابستہ ہے۔

رکی کی سرکاری خبر رساں ادارے ‘اناطولو’ نے خبر دی ہے کہ استغاثہ کی جانب سے اتوار کے روز شروع کی گئی تحقیقات کے لیے بحریہ کے دس سابق افسروں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیان سے ترکی کے آئینی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

ترک بحریہ کے چار دیگر سابق عہدے داروں کو اُن کی زیادہ عمر کی وجہ سے حراست میں نہیں لیا گیا، تاہم انہیں کہا گیا ہے کہ وہ تین دن کے اندر حکام کے سامنے پیش ہوں۔

ترکی کے کُل 103 سابق ایڈمرل حضرات نے اس بیان پر دستخط کئے ہیں، جس میں ترکی کے اُس عالمی سمجھوتے سے وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے، جو بحیرہ روم اور بحر اسود کو ملانے والی آبنائے باسفورس اور آبنائے داردےنلز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان 14 ایڈمرل حضرات نے اس بیان کی تنظیم میں حصہ لیا تھا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ترکی میں یہ بحث جاری ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردوان، جنہوں نے گزشتہ مہینے خواتین کے تحفظ کے ایک عالمی معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، سن 1936 میں طے پانے والے ٹریٹی آف مونٹرے نامی بین الاقوامی معاہدے اور دیگر معاہدوں سے الگ ہونے پر غور کر سکتے ہیں، جو مذکورہ سمندری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ استنبول کے شمال میں ایک متبادل بحری گزرگاہ تعمیر کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بحری جہازوں کو آبنائے باسفورس سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ریٹائرڈ ایڈمرل حضرات کی جانب سے ہفتے کی رات دیر گئے سامنے آنے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ نئی مجوزہ بحری گزرگاہ ،کینال استنبول، پر بات چیت اور مونٹرے کنوینشن سمیت دیگر عالمی معاہدوں سے الگ ہونے کا معاملہ باعثِ تشویش ہے، اور اس پر بحث ہونا ضروری ہے۔

اس بیان کو ترکی کی حکومت اور سرکاری عہدیداروں نے اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی۔ ان کے نزدیک یہ بیان ماضی میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوتوں سے قبل آنے والے بیانات سے مشابہہ ہے۔

پیر کے روز، مزید سرکاری عہدیداروں نے، ترک بحریہ کے سابق افسران کی جانب سے اعلان کی مخالفت کی۔

ترکی کے صدارتی دفتر میں کمیونیکیشن کے شعبے کے ڈائریکٹر فاہرتین التُن نے سابق ایڈمرلز کے بیان کو ترکی کی منشا اور منتخب نمائندوں کی توہین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معصوم اور بے ضرر بیان نہیں ہے۔

ترکی کے سابق چیف آف ملٹری سٹاف اور موجودہ وزیر دفاع ہولوسی اکار کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ترکی کے دشمنوں کو خوش کرنے، ترکی کی مسلح افواج کا حوصلہ توڑنے اور ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں فوجی بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ ترکی میں سن 1960، 1971، 1980 اور 1997 میں فوجی بغاوتیں ہوئی تھیں، جس کے بعد اسلام پسند حکومتی اتحاد کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ سن 2016 میں ایک ناکام بغاوت کے نتیجے میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Photo Credit : https://www.arabnews.com/sites/default/files/2020/09/23/2283001-555375477.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: