تحریکِ لبیک کا لاہور میں دھرنا، مختلف شہروں سے کئی کارکن گرفتار

پاکستان میں کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ تنظیم نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو روز سے لاہور میں دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پنجاب حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز یتیم خانہ سے ملحقہ علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے جب کہ اس علاقے کے کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔

ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے حکومت کو 21 اکتوبر کی شام تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ تاہم پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے یورپی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوں گے۔

ممکنہ احتجاج روکنے کے لیے پولیس کا کریک ڈاؤن

ادھر مزید کارکنوں کو چوک یتیم خانہ جانے سے روکنے کے لیے پولیس نے بھی حکمتِ عملی مرتب کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق لاہور، راولپنڈی، پاکپتن، قصور، ملتان، شیخوپورہ، چکوال، ڈیرہ غازی خان، گجرات اور جہلم سمیت کئی شہروں سے ٹی ایل پی کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ٹی ایل پی نے ملتان رورڈ پر کنٹینر کھڑے کر کے سڑک بند کر رکھی ہے جب کہ اطراف کی گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر رکھے ہیں۔ جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے سعد رضوی اپنے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ جو رواں برس اپریل سے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ اُن کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

ٹی ایل پی کے خلاف مقدمات

پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے اب تک دو درجن کے قریب ٹی ایل پی کے کارکنوں کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں اُن کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

واضح رہے عدالتِ عالیہ لاہور نے یکم اکتوبر 2021 کو سعد رضوی کی نظر بندی ختم کرنے کے لیے احکامات جاری کیے تھے تاہم اطلاعات کے مطابق نقصِ امن میں خدشات کے پیشِ نظر تاحال اُن کی رہائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

ٹی ایل پی کے معاملے کو اُلجھایا جا رہا ہے

مبصرین سمجھتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان کے معاملے کو سلجھانے کے بجائے اُلجھایا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ تحریکِ لبیک ایک بڑی تنظیم ہے اور پرجوش لوگوں کا بڑا اجتماع ہے جن کے ساتھ اِس طرح سے معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف قانون کی بات اور قانون توڑنے والوں کی سزا ہے لیکن دوسری طرف حکومت کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی شخص کو زیادہ عرصے تک نظر بند نہیں رکھا جا سکتا۔

اُن کی رائے میں صرف اِس جواز پر سعد رضوی کو نظر بند رکھا گیا ہے کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ حکومت اُن کو رہا کرے۔ اگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو یا کوئی قانون شکنی ہو تو پھر کارروائی کر لیں۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اِس معاملے کو قانونی اور سیاسی طریقے سے حل کرے۔ جو وعدے ٹی ایل پی کے ساتھ کیے ہیں اُن کو پورا کرے اور بے جا کارروائیوں کو روک دے۔

اورنج لائن ٹرین اسٹیشن میں توڑ پھوڑ

اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح اورنج لائن میٹرو ٹرین کے بند روڈ اسٹیشن پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے حملہ کیا۔ اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی اور نقصان پہنچایا۔ جس کے باعث لاہور پولیس نے اورنج لائن اسٹیشن منیجر عتیق الرحمن کی مدعیت میں دہشت گردی، ڈکیتی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ میں 22 افراد نامزد جب کہ 50 نا معلوم ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 80 افراد اسلحہ، ڈنڈوں، آہنی راڈ اور پیٹرول کی بوتلیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے آئے۔ ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور عملے کو یرغمال بنا لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مشتعل کارکنوں نے آہنی راڈوں سے گیٹ کے تالے اور شیشے توڑ دیے اور اسلحہ کی نوک پر واکی ٹاکی سیٹ، سکینر، ٹارچیں، اور ہزاروں روپے چھین لیے۔

تحریک لبیک کا مؤقف

ترجمان ٹی ایل پی صدام بخاری کہتے ہیں کہ وہ سعد حسین رضوی کی رہائی اور فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے جانے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ اُن کے کارکنوں کے پاس کوئی ڈنڈے نہیں ہیں۔ اِس کے باوجود حکومت اُن کے کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔

ہمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے صدام بخاری نے کہا کہ ان کا احتجاج اب دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ سعد حسین رضوی کو رہا کیا جائے اور فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکال دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی نے حکومت کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا۔ جو جمعرات کی شام پانچ بجے پورا ہو جائے گا۔ اِس کے بعد ٹی ایل پی کی مرکزی شورٰی اپنا آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ عدالت عالیہ نے سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جس کے خلاف حکومت سپریم کورٹ چلی گئی جس نے یہ کیس واپس ہائی کورٹ بھیج دیا۔

اُن کے بقول حکومت نے اگر ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھا تو وہ پورا کرنا چاہیے تھا۔

مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ حکومت نے انسدادِ دہشت گردی دفعات کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے اور اس کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ لیکن پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اُن کے بقول اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تحریکِ لبیک ایک سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن میں حصہ لیتی ہے، لیکن دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اُن کے خلاف کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف

ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چھٹہ کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی کے دھرنے پر انتظامیہ نے پیمرا کو درخواست دی ہے کہ اِس کی کوریج نہ کی جائے کیونکہ تحریکِ لبیک پاکستان ایک کالعدم جماعت ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عمر شیر چھٹہ نے کہا کہ کسی بھی کالعدم جماعت کے بارے میں قانون واضح ہے کہ کوئی بھی ذرائع ابلاغ کالعدم جماعت کو کوریج نہیں دے سکتا۔

عمر شیر چھٹہ نے کہا کہ وہ پوری ذمے داری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ امن و امان کی صورتِ حال کے باعث ٹی ایل پی کے امیر کو نظر بند کیا گیا۔ جس کے بعد پاکستان کی حکومت نے اُنہیں کالعدم قرار دیا، ان پر بہت سے مقدمات قائم ہیں اور وہ بدستور نظر بند ہیں۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کہتے ہیں کہ اگر ٹی ایل پی امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرتی ہے تو قانون کے مطابق اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جس کے لیے انتظامیہ نے پولیس کے ساتھ مل کر تیاری کر رکھی ہے۔

مظاہروں کا پس منظر

یاد رہے کہ 2020 میں فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر تحریکِ لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا۔ جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدے کے تحت ختم کر دیا گیا تھا۔ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تین ماہ میں پارلیمنٹ میں قرار پیش کرے گی اور فرانس میں پاکستان کا سفیر مقرر نہیں کیا جائے گا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی نے جنوری میں حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر 17 فروری تک فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل نہ کیا گیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔ مطالبات کی عدم منظوری پر ٹی ایل پی نے 16 فروری کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ اور احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر ایک اور معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے تحت حکومت نے یقین دہائی کرائی تھی کہ 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے متعلق قرار داد پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عمل درآمد نہ کیے جانے پر ٹی ایل پی نے 20 اپریل کو پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد امن و امان میں خلل کے پیشِ نظر حکومت نے سعد رضوی کو حراست میں لے لیا۔ جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پاکستان بھر میں اُن کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/7/7f/Tehreek-e-Labbaik_Pakistan_sit-in_2018.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.