‘بٹ کوائن’ کے ذریعے پاکستان سے ‘داعش’ کو رقوم کی منتقلی، معاملہ کیا ہے؟

‘بٹ کوائن’ کے ذریعے پاکستان سے ‘داعش’ کو رقوم کی منتقلی، معاملہ کیا ہے؟

سندھ پولیس کے کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دولتِ اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں سے شادی کرنے والی پاکستانی خواتین کو ‘بٹ کوائن’ کے ذریعے شام میں رقوم بھجوانے والے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کراچی کی ‘این ای ڈی’ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک ایسے طالب علم کو گرفتار کیا گیا ہے جو ملک بھر سے جمع شدہ چندہ شام میں موجود پاکستان سے گئی ہوئی خواتین کو منتقل کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کی ان جہادی دلہنوں کو ‘بٹ کوائن’ کے ذریعے رقم منتقل کی جاتی تھیں۔

‘سی ٹی ڈی’ کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نے بتایا کہ یہ کیس بین الاقوامی دہشت گردوں کی مالی امداد سے متعلق ہے جس میں پہلے حوالہ اور ہنڈی کے غیر قانونی طریقہ کار اور پھر رقم کو ‘بٹ کوائن’ میں تبدیل کر کے اسے شام منتقل کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے حافظ محمد بن عمر خالد کو گرفتار کر کے اس کے فون کا فرانزک ٹیسٹ کرایا گیا اور اس کے نتیجے میں تیکنیکی ٹیم نے منی ٹریل کی شناخت کی کہ پیسے کس طرح منتقل کیے جا رہے تھے۔

عمر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ پیسے بھیجنے کے طریقۂ کار میں جدید ایجادات یعنی کرپٹو کرنسی کو استعمال میں لایا گیا ہے۔

عمر شاہد حامد کے مطابق آن لائن رقوم کی منتقلی کے لیے یہ ایک قابلِ بھروسہ اور محفوظ راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بٹ کوائن جو کرپٹو کرنسی ہی کی ایک قسم ہے کو اب تک ریگولیٹ نہیں کیا گیا ہے جیسے فارن کرنسی یا پاکستانی کرنسی کو حکومت ریگولیٹ کرتی ہے۔

عمر شاہد حامد کے مطابق بٹ کوائن کو ریگولیٹ نہ کرنے سے وہ جرائم پیشہ عناصر جو بین الاقوامی طور پر بغیر کسی سراغ کے رقوم کی منتقلی کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے کافی آسانی ہو گئی ہے۔

‘سی ٹی ڈی’ انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ شام میں موجود جہادی خاندانوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ بنائے ہوئے ہیں جو لوگوں سے مالی مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ جو لوگ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے محمد بن عمر خالد نے پہلے اپنا ایزی پیسہ کا اکاونٹ بنایا اور شام میں موجود خواتین کے ذریعے ڈونرز کو اس اکاؤنٹ میں پیسہ بھیجنے کی درخواست کی جاتی تھی۔ جب یہ رقم پاکستان کے مختلف حصوں سے عمر بن خالد کے پاس آتی تو پھر وہ یہ رقم حیدرآباد میں موجود ایک اور شخص ضیا کو ایزی پیسہ کے ذریعے منتقل کرتا۔

ضیا کا رابطہ بٹ کوائن کو سمجھنے والوں سے تھا جو اس رقم کو امریکی ڈالر میں منتقل کرنے کے بعد یہاں سے یہ پیسے شام منتقل کرتے تھے۔ اس طرح جو لوگ وہاں پیسے وصول کرتے تھے ان کے بھی اکاؤنٹ بٹ کوائن میں تھے جو وہاں جا کر پاس ورڈ کے ذریعے رقم وصول کر لیتے تھے۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم اس طرح پاکستان سے شام منتقل کی جا چکی ہے۔

اُن کے بقول محمد بن عمر خالد نے 2018 کے آواخر میں یہ رقوم شام منتقل کرنا شروع کی تھیں۔ شروع میں ملزم کو نیٹ ورک بنانے میں وقت لگا مگر اب وہ ہر ماہ باقاعدگی سے پیسے بھیجنے لگا تھا۔

‘کرپٹو کرنسی سے متعلق معلومات کا فقدان ہے’

عمر شاہد حامد کے مطابق نوجوان نے جدید مالی ایجادات کا فائدہ اسی لیے اٹھایا کیوں کہ یہ ابھی تک ریگولیٹ نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے ذریعے اس نے بین الاقوامی دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کی۔

ڈی آئی جی ‘سی ٹی ڈی’ عمر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔

اُن کے بقول کچھ کرپٹو کرنسیز کو ناپائیدار سمجھا جاتا ہے، تاہم بٹ کوائن اس میں سے پائیدار سمجھی جاتی ہے۔ اس کی آن لائن تجارت یا کاروبار کے بڑے فوائد ہوسکتے ہیں مگر اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ جو بھی جرائم پیشہ افراد ہیں ان کو ایک ایسا راستہ مل رہا ہے جس میں وہ فنانشل ٹریسنگ کے بغیر رقوم کی منتقلی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں رقوم منتقل کرنے کے روایتی طریقۂ کار پر کافی چیک اینڈ بیلنس دیکھنے میں آیا ہے جب کہ ٹیرر فنانسنگ کے خلاف سی ٹی ڈی، ایف آئی اے اور دیگر ادارے متحرک ہوئے ہیں۔

عمر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ مالی قوانین کے اطلاق سے ریگولیشن ٹرانزیکشنز بڑھی ہیں۔ چوں کہ رقوم کی منتقلی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر زیادہ ہے تو اس لیے جرائم پیشہ افراد نے ‘بٹ کوائن’ یا دیگر کرپٹو کرنسیز کی جانب رخ کر لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر یہ مسئلہ سامنے آیا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ ہی کے تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا پڑے گا۔

حکام اس بات کا بھی کھوج لگا رہے ہیں کہ آیا یہ پیسہ واپس پاکستان میں لا کر کہیں یہاں بھی تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ داعش کو سندھ اور بلوچستان میں کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کی سینئر قیادت ہلاک یا گرفتار ہو چکی ہے۔

اس لیے یہاں داعش کی سرگرمیاں کافی کم ہو گئیں ہیں۔ انہیں سرحد پار بھاگنا پڑا اور انہیں مالی طور پر بھی نقصان اُٹھانا پڑا۔

بٹ کوائن کیا ہے؟

بٹ کوائن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ کرپٹو کرنسی کی ایک شکل ہے جس کی قیمت میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس سے لوگ اس جانب متوجہ ہوئے ہیں۔

بٹ کوائن کی طرح بہت سی کرنسیز ڈیجیٹل مارکیٹ میں موجود ہیں۔ کرپٹو کرنسی روزمرہ میں استعمال ہونے والی روایتی کرنسی سے کافی مختلف ہے۔ کیوں کہ یہ روایتی کاغذی کرنسی کے بجائے مکمل طور پر آن لائن کرنسی ہے اور اس کا تبادلہ یا خرید و فروخت بھی آن لائن ہی ممکن ہے۔

بٹ کوائن میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مالی معاملات کو یوں ہی تبدیل کر رہی ہے جیسے ویب سائٹس نے اشاعت کے عمل کو مکمل طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ بٹ کوائن میں تجارت کرنے والوں کے خیال میں یہ مستقبل کی کرنسی ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی کرنسی کے استعمال کی توثیق کے لیے عام طور پر ممالک کے مرکزی بینک یا حکومتیں تیسرے فریق کے طور پرموجود ہوتی ہیں۔ مگر کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کرنے میں یہ مرکزی کردار موجود نہیں ہوتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ کسی بینک یا حکومت کی اس ٹرانزیکشن پر نظر ہی نہیں ہوتی۔ اور اس کو استعمال کرنے والوں کے نزدیک اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی تصور کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے ڈی سینٹرلائزڈ کرنسی کہا جاتا ہے اور اس میں رقوم کی منتقلی کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس مقصد کے لیے پوری دنیا میں ایک نیٹ ورک کے ذریعے اس کرنسی میں رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے نیٹ ورک کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں رقوم کی منتقلی تمام لوگوں کی نظر میں ہوتی ہے جس میں رقم کے ہیرپھیر کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ لہذٰا اس کو استعمال کرنے والے اسے محفوظ ترین قرار دیتے ہیں۔

لیکن اس بارے میں حکومتیں مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کرتی ہیں۔ کرپٹو کرنسی کی معلومات رکھنے والوں کے مطابق کوئی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ اس کے ملک میں اس کی کرنسی پر اس کا کنٹرول ختم ہو جائے۔

مختلف ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں اس کا ریکارڈ متعین نہیں کیا جاسکتا اور اسی بنا پر اس کے غیر قانونی استعمال کو روکا نہیں جا سکتا۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

درخواست گزار اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ وقار ذکا نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ چھ اپریل 2018 کو اسٹیٹ بینک نے سرکلر جاری کیا تھا جس میں کرپٹو کرنسی سے متعلق لین دین، خریدو فروخت، تجارت کو ممنوع قرار دیا گیا تھا جو ان کے خیال میں غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کرپٹو کرنسی کو استعمال کر کے ملک کو فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان کے دعوے کے مطابق اس کا پورا پلان بھی موجود ہے۔

عدالت میں اس سرکلرکو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے یہ غیر قانونی سرکلر جاری کر کے اپنے مینڈیٹ سے انحراف کیا۔

عدالت نے اس معاملے پر اسٹیٹ بینک سے جواب طلب کیا۔ جس پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے جوائنٹ ڈائریکٹر ریحان مسعود نے بتایا کہ مرکزی بینک نے کبھی بھی کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔

تاہم اس بارے میں مرکزی بینک کی جانب سے آئندہ سماعت پر تحریری دلائل جمع کرائے جائیں گے جب کہ اسی سے متعلق وزارتِ خزانہ سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا ڈیجیٹل کرنسی پر قانون سازی کا مطالبہ

خیبرپختونخوا اسمبلی نے گزشتہ ماہ منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں صوبے میں ڈیجیٹل کرنسی کے فروغ اور وفاق سے اس ضمن میں قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قرارد داد میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سے بھی اس امر کی سفارش کرے کہ ڈیجیٹلائزیشن کی دنیا میں ہونے والی اس پیش رفت کو مد نظر رکھا جائے۔ پاکستان میں بھی بالخصوص خیبر پختونخوا میں کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

فیس بک انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ متعدد عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر جون 2020 تک ‘بٹ کوائن’ کے مقابلے کی ‘کرپٹو کرنسی’ جس کا نام ‘لبرا’ رکھا گیا تھا کو متعارف کرائے گا مگر یہ منصوبہ اب تک سامنے نہیں آ سکا۔

اس پر امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے تجویز پیش کی تھی کہ راز داری، منی لانڈرنگ، صارفین کے تحفظ اور مالی استحکام سے جڑے خدشات دور ہونے تک یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مطابق بلاک چین، بٹ کوائن اور اس طرح کے دیگر کرپٹو ایسٹس ورچوئل کرنسیز کی جدید ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہذٰا ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ دنیا میں مالی منظر نامے کو تبدیل کر کے رکھ دیں۔

لیکن اس کی رفتار دنیا بھر میں اس کی رسائی اور سب سے بڑھ کر اس بارے میں پائی جانے والی گمنامی ان لوگوں کو متوجہ کرتی ہے جو رقوم کی منتقلی میں حکومتی اسکروٹنی سے بچنا چاہتے ہیں۔

جون 2019 میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس وقت کرپٹو اثاثے عالمی مالیاتی استحکام کے لیے کوئی بڑا خطرہ تو نہیں مگر اس بارے میں پائے جانے والے خطرات، صارف اور سرمایہ دار کے تحفظ، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے پر ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

Photo Credit : https://media.moneyweek.com/image/private/s–knbjSBr_–/v1610538739/editorial/2021/1034_MW_P04_Markets.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: