بلوچستان: جنوری میں 20 لاپتا افراد کی اپنے گھروں کو واپسی

بلوچستان: جنوری میں 20 لاپتا افراد کی اپنے گھروں کو واپسی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتا ہونے والے 20 افراد رواں سال بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

ان افراد کا تعلق بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ،خاران، گوادر، قلات، ڈیرہ بگٹی اور مکران ڈویژن سے ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق بازیاب ہونے والے افراد کے گھروں میں خوشی کا سماں ہے۔ لواحقین نے اپنے عزیزوں کے خیریت سے گھر پہنچنے پر سکھ کا سانس لیا۔

ذرائع کے مطابق فروری 2019 میں لاپتا افراد کی تنظیم نے بلوچستان حکومت کو تصدیق شدہ 590 افراد کی فہرست فراہم کی تھی جن میں سے اب تک 315 افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، تنظیم کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے بتایا کہ رواں ماہ بازیاب کروائے جانے والوں میں ڈیرہ نواز ، بابو حسن جان ، شمس بنگلزئی ، ثناء اللہ آبکی ، عبید عارف ، امین شکاری ، عرفان بلوچ اور دیگر شامل تھے جو آٹھ سے لاپتہ ہیں۔ سال بگٹی کے پانچ ممبر ہیں۔

نصراللہ کے بقول سال 2019 میں ان کی تنظیم اور بلوچستان حکومت کے درمیان لاپتا افراد کے مسئلے پر مذاکرات ہوئے تھے۔ جس میں صوبائی حکومت نے ان سے لاپتا افراد کی تصدیقی فہرست کی فراہمی کا کہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب سے صوبائی حکومت کو فہرست فراہم کی گئی ہے۔ وقتاً فوقتاً لاپتا افراد کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے لاپتہ افراد کے معاملے کے سلسلے میں گذشتہ ماہ ہمارا ہند کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے وزارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار لاپتہ افراد کی تنظیم سے ملاقات کی تھی۔

وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کے بقول وائس فار بلوچ مسننگ پرسنز کی جانب سے انہیں 450 افراد کی فہرست فراہم کی گئی تھی۔ جب ہماری دوسری میٹنگ ہوئی تو 300 افراد بازیاب ہو چکے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کس حد تک اقدامات اٹھا رہی ہے۔

واضح رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے اور فروری سال 2019 میں پہلی بار حکومت بلوچستان نے سرکاری سطح پر تنظیم کے ساتھ لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے مذاکرات کئے تھے۔

لاپتا افراد کی بازیابی کو سیاسی جماعتوں نے قابل قدر پیش رفت قرار دیا ہے۔

نصراللہ کے بقول، جب صوبائی حکومت سے مذاکرات ہوئے تو انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی پہلے اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور پاکستان کے خفیہ اداروں سے بات چیت کی جائےگی۔ اس کے بعد سے لاپتا افراد کے اپنے گھروں کو پہنچنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت چھ نکات کے تحت کی تھی۔ جس میں لاپتا افراد کی بازیابی بھی شامل تھی۔

نصراللہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور لواحقین کے طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے لاپتا افراد کی بحالی کے لیے جدوجہد کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے حکومت سے اپیل کر رکھی ہے کہ لاپتا افراد کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے معاملے کے طور پر دیکھا جائے، کیونکہ لاپتا ہونے والے افراد کے والدین زندگی بھر ایک اذیت اور کرب میں مبتلا رہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ہر ماہ ایک بار لاپتا افراد کے مسئلے پر میٹنگ کی جاتی ہے اس دوران ہمیں یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ فراہم کردہ فہرستوں کے مطابق صوبائی اور مرکزی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ ہم اس اقدامات سے مطمئن ہیں کہ نہ صرف لاپتا افراد بازیاب ہوں گے بلکہ جبری گمشدیوں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

کوئٹہ پریس کلب کے باہر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے اپنی نوعیت کا طویل کیمپ بھی لگایا جاتا ہے۔

نصراللہ بلوچ کے مطابق لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے قائم کمیشن کا لوگوں کی بازیابی کے حوالے سے موثر کردار نہیں رہا ہے۔

ان کی تنطیم نے سال 2012 سے کمیشن کو درخواستیں دینے کا عمل روک دیا ہے تاہم لواحقین خود سے کمیشن کے پاس درخواستیں جمع کراتے رہتے ہیں۔

ادھر رواں ماہ لاپتا افراد کے حوالے سے حکومت کی طرف سے قائم کمیشن کا اجلاس بھی منعقد ہو گا۔ جس میں لاپتا افراد کے کیسز کی سماعت بھی ہو گی۔

Photo Credit : https://i.dawn.com/primary/2018/11/5bff3810bc0e0.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: