براڈشیٹ کو لندن میں شریف فیملی کے وکلا کو 45 لاکھ روپے کیوں دینے پڑے؟

پاکستان کی لوٹی گئی دولت کا سراغ لگانے کے لیے جس برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ، اس نے پاکستانی حکومت سے اگرچہ 5 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی، لیکن دوسری جانب اس کمپنی کو تقریباً 45 لاکھ روپے شریف فیملی کو وکلا کی فیس کی مد میں ادا کرنا پڑے ہیں۔ شریف فیملی کی خفیہ دولت کی تلاش اس کمپنی کے ساتھ معاہدے میں شامل تھی۔

براڈ شیٹ کے وکلا نے رقم کی ادائیگی اور شریف فیملی کے وکلا نے رقم وصولی کی تصدیق کی ہے۔ تجزیہ کار اور وکلا کا کہنا ہے کہ یہ رقم شریف فیملی کو نہیں، بلکہ وکلا کی فیس کی مد میں ادا کی گئی ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کی طرف سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو فروخت کر کے انہیں ادائیگی کا جو دعویٰ دائر کیا گیا تھا، اس میں شریف خاندان کے وکلا کی فیس 20 ہزار پاؤنڈ کے قریب تھی جو اب براڈ شیٹ نے ادا کر دی ہے۔

برطانیہ میں براڈ شیٹ نے شریف فیملی کو رقم ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اٹیچ کرنے کی درخواست عدالت سے واپس لینے پر لیگل فیس کے اخراجات کی مد میں ادا کی ہے۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بینظر بھٹو، سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر کے اثاتوں کا پتا چلانے کے لیے 1999 میں اثاثہ جات ریکوری سے متعلق برطانوی فرم براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔

مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز کا کہنا ہے کہ براڈشیٹ جھوٹے الزامات پر عدالت سے عزت کروا چکی، عوام کا پیسہ اپنی ذاتی انا کی جنگ میں جھونکنے والوں کا احتساب باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏نواز شریف کے دشمنوں کو بقول ان کے پھر شکست ہوئی، کرپشن پکڑنے گئے تھے لیکن 45 لاکھ روپے دے کر جان چھڑوائی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں اور خدا اپنے بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔بقول ان کے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو بھی جرمانے ادا کرنے پڑیں گے جو خزانے سے نہیں بلکہ ان کی ذاتی جیبوں سے نکلوائے جائیں گے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے برطانیہ میں موجود سینئر صحافی اطہر کاظمی نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے لیکن درحقیقت یہ وکلا کی فیس کی ادائیگی تھی جو براڈ شیٹ نے کیس واپس لینے پر شریف فیملی کے وکلا کو ادا کی ہے۔

اطہر کاظمی کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کو جب عدالتی حکم پر پاکستان کی طرف سے ادائیگی کی بات ہوئی تو انہوں نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سے متعلق اپنا کیس واپس لیا، جس کی وجہ سے انہیں ادائیگی کرنا پڑی۔

مریم نواز نے کہا کہ براڈ شیٹ کو لندن فلیٹس کے بارے میں سوال اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگ جانے پر نواز شریف کے وکلا کو 45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے۔ ان کے بقول جھوٹ اور فریب کے کھیل میں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔

برطانیہ میں کام کرنے والے بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ براڈ شیٹ نے ایون فیلڈ کی پراپرٹی اٹیچ کروانے کی کوشش کی تھی، مگر اس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کی وجہ سے عدالتی اخراجات انہیں عدالتی حکم پر ادا کرنا پڑے ہیں۔

بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ اٹیچ کروانے کی کوشش کسی کے ایما پر کی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے شریف خاندان نے وکلا کو فیس ادا کی تھی اور عدالت میں اس معاملے پر باقاعدہ سماعت بھی ہوئی تھی۔ عدالت نے اس معاملے پر براڈ شیٹ کا موقف مسترد کردیا تھا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے اس معاملے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ براڈ شیٹ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اپنے پیسے کی ادائیگی کے لیے ضبط کروانے کی کوشش کی جو وہ ہار گئے اور قانون کے مطابق وکلا کا خرچ دینا پڑا۔

Photo Credit : https://images.indianexpress.com/2016/09/united-nations-refuge_kuma7593.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: