بائیڈن کی سربراہی میں ‘کواڈ گروپ’ کا اجلاس، چین کو کیا پیغام دیا گیا؟

امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ممالک کے اتحاد کے، جسے ‘کواڈ گروپ’ بھی کہا جا رہا ہے، حالیہ ورچوئل اجلاس کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعے کو ہونے والے اس اجلاس میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن سمیت بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم نے تبادلۂ خیال کیا اور کرونا وبا، عالمی معیشت آب و ہوا کی تبدیلی اور علاقائی صورتِ حال پر مشاورت کی۔

اجلاس سے اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے اسے اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈو پیسفیک خطہ باہمی تعاون کا اہم مرکز بننے جا رہا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں چین کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈوپیسیفک خطے میں ان ملکوں کے درمیان تعاون کا مقصد چین کے بڑھتے اثرات کو روکنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن اور جاپانی وزیر اعظم نے ‘کواڈ’ کے پہلے ورچوئل اجلاس میں شرکت کر کے اس چار ملکی اتحاد کو فعال بنانے کی طرف اہم قدم اٹھایا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس کے اختتام پر جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا، وہ بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا تھا۔ اس میں چین کا نام نہیں لیا گیا۔ حالاں کہ کواڈ سربراہ اجلاس کا مقصد ہی خطے میں چین کے بڑھتے اثرات کو روکنا تھا۔

بین الاقوامی امور کے ایک سینئر ہندوستانی تجزیہ کار رایش سنگھ نے ہمارا ہند کو بتایا کہ جب کواڈ گروپ تشکیل دیا گیا تو اس کے بنیادی اصول آزاد اور کھلی رسائی اور سمندری تحفظ تھے۔ بارڈر سیکیورٹی) پر زور دیا گیا تھا۔ان کے مطابق مشترکہ بیان میں اگرچہ چین کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن اس کا مقصد چین کو گھیرنا اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانا ہے۔

ان کے خیال میں خطے میں چین کے اثرات کو روکنے کے لیے ‘کواڈ’ ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں بھارت کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہو گا۔

رہیس سنگھ مزید کہتے ہیں کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس خطے میں بھارت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو گی۔ اسی لیے وہ بھارت کو ساتھ لے کر چل رہا ہے اور خطے میں چین کے اثرات کو روکنے کے لیے بھارت کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

ان کے مطابق چاروں ملک امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا اس خطے کے سب سے طاقت ور ملک ہیں۔ وہ جمہوری ممالک بھی ہیں۔ وہ خطے کے ممالک کے مسائل کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اس خطے کے ممالک انہی کی قیادت میں آگے بڑھنا چاہیں گے۔ اس لیے امید کی جاتی ہے کہ کواڈ چین کے اثرات کو روکنے میں کامیاب ہو گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کو ایسا لگتا ہے کہ بھارت خطے میں بہت زیادہ سرگرم ہو رہا ہے اور وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر خطے میں قیادت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے چین کے اقدامات میں بھارت کے خلاف جارحیت نظر آتی ہے۔

صدر بائیڈن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا خطہ عالمی قانون کی حکمرانی کے تحت تمام آفاقی اقدار کا پابند اور جبر و استبداد سے آزاد ہے۔ انڈو پیسیفک خطہ باہمی تعاوان کا ایک نیا میدان بننے جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر بائیڈن کے اس بیان میں درپردہ چین کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے۔

چاروں ممالک کی قیادت نے مزید کیا کہا؟

صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ کووڈ۔19 صحتِ عامہ اور عالمی معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

چاروں رہنماؤں نے انڈو پیسیفک خطے میں کرونا ویکسین کی قلت کو دور کرنے کے لیے ایک بڑے پروگرام کا اعلان بھی کیا۔

اعلان کے مطابق بھارت میں کرونا ویکسین بنانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے گی اور 2022 تک کرونا ویکسین کی ایک ارب خوراکیں ہند بحر الکاہل خطے کے ممالک کو سپلائی کی جائیں گی۔

اسے چین کی ویکسین ڈپلومیسی کو ناکام بنانے کے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے مطابق کواڈ کے ایجنڈے میں ویکسین، موسمیاتی تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی جیسے امور تھے، جن پر بحث ہوئی۔

بھارت کے سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا کے مطابق چاروں سربراہوں نے وسائل جمع کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے انڈوپیسیفک خطے میں کرونا ویکسین کی تیاری اور تقسیم میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کے مطابق کواڈ سربراہ اجلاس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

جاپان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ جاپان نے چین کی جانب سے اس خطے کی حیثیت کو بدلنے کی مخالفت کی جس کی دیگر رہنماؤں نے بھی تائید کی۔

چاروں رہنماؤں نے ہفتے کو امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ میں شائع ایک مشترکہ مضمون میں اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو آزاد، جبر سے پاک اور اپنی پسند کی سیاست اختیار کرنے کی اجازت اور اہلیت ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق جب میری ٹائم سیکیورٹی کا سوال اٹھے گا تو چین خود بخود درمیان میں آ جائے گا۔ چین اس خطے میں چیلنج بنا ہوا ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک چین سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

Photo Credit : https://img.theepochtimes.com/assets/uploads/2021/03/12/Quad-summit-Biden-700×420.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: