بائیڈن کا افتتاحی خطاب میں ‘مثبت اور اُمید افزا’ ویژن پیش کرنے کا ارادہ

بائیڈن کا افتتاحی خطاب میں ‘مثبت اور اُمید افزا’ ویژن پیش کرنے کا ارادہ

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کی کمیونی کیشن ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بائیڈن حلف برداری کے بعد اپنے افتتاحی خطاب میں مثبت اور اُمید پر مبنی ویژن پیش کریں گے۔

اُن کے بقول جو بائیڈن سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی معاشرے میں پنپنے والی نفرت اور تفریق کو بھی ختم کرنے پر زور دیں گے۔

جو بائیڈن کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے لیے نامزد کردہ ڈائریکٹر کمیونی کیشن کیٹ بیڈنگفیلڈ نے اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے ‘اے بی سی’ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ کی نئی قیادت ایسے راستے کا تعین کرے گی جو حقیقی طور پر ہم سب کو مل کر کام کرنے پر زور دیتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا “میرا خیال ہے کہ امریکی عوام بھی ایسا ہی چاہتی ہے۔ وہ ایک ایسی حکومت چاہتی ہے جس کی توجہ عوام کے لیے اچھا کرنے کی جانب مبذول ہو اور جو اُن کی روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔”

بیڈنگفیلڈ نے کہا کہ جو بائیڈن کو آٹھ کروڑ سے زائد امریکیوں نے اس لیے ووٹ دیا تھا کیوں کہ وہ امریکی عوام کے لیے ایسا ویژن رکھتے تھے جو اُنہیں اس مقام پر لا سکے جہاں سب مل کر کام کریں۔

نو منتخب صدر 20 جنوری کی دوپہر کیپٹل ہل کے احاطے میں اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے جو ہر چار سال بعد تاریخی حوالوں سے یادگار تقریب ہوتی ہے۔

تاہم اس مرتبہ چھ جنوری کو صدر ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے کپٹل ہل کی عمارت پر دھاوے کے بعد سے ہی واشنگٹن ڈی سی میں صورتِ حال کشیدہ ہے۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل کی عمارت پر اُس وقت ہلہ بول دیا تھا جب اراکینِ کانگریس تین نومبر کے صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے۔

اس حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھیرایا جا رہا تھا اور اسی الزام پر امریکی ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی دوسری مرتبہ منظوری دی تھی۔

صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا کہ اُنہوں نے مظاہرین کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اُکسایا تھا۔

نئے صدر کی حلف برداری کے بعد صدر کے مواخذے کا معاملہ امریکی سینیٹ میں زیرِ بحث آئے گا اور یہاں صدر کے مواخذے کی منظوری ہو گئی تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جن کا دوسری مرتبہ مواخذہ ہو گا۔

بائیڈن کی حلف برداری کے لیے امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کیپٹل ہل کے اطراف نیشنل گارڈز کی بھاری نفری بھی تعینات ہے جب کہ داخلی راستوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔

بیڈنگفیلڈ کا کہنا تھا کہ “ہماری تمام تر توجہ سوشل میڈیا پر ممکنہ مظاہروں کے خدشات کے بجائے اس بات پر ہے کہ 20 جنوری کو بائیڈن بائبل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ کی موجودگی میں عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔”

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہ کرنے اور بائیڈن کو مبارک باد نہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم صدر یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ بدھ کو نئی انتظامیہ عمل میں آئے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ 160 سال سے جاری اس روایت کو بھی نظرانداز کریں گے جس میں سبکدوش ہونے والا صدر نئے صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کر کے پر امن انتقالِ اقتدار کو یقینی بناتا ہے۔

اس سے قبل بائیڈن کی جانب سے نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف رون کلین نے وائٹ ہاؤس کے سینئر اسٹاف کو جاری کیے گئے میمو میں کہا تھا کہ حلف برداری کے بعد بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع اقدامات کو واپس لینے کے علاوہ کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کریں گے۔

اُن کے بقول نو منتخب صدر بائیڈن وائٹ ہاؤس میں پہلے 10 روز کے دوران ملک کی سمت کا تعین کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈرز کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔

حلف برداری کے فوری بعد بائیڈن بعض مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں امیگریشن لینے پر پابندی ختم کرنے کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ‘پیرس معاہدے’ میں امریکہ کو دوبارہ شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بائیڈن وفاقی املاک اور ریاستوں کے مابین سفر کے دوران ماسک کی پابندی بھی لازمی قرار دینے کے احکامات جاری کریں گے۔

Photo Credit : https://www.nrn.com/sites/nrn.com/files/Joe-Biden.gif

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: