بائیڈن انتظامیہ میں شامل پاکستانی امریکی ماہرین

بائیڈن انتظامیہ میں شامل پاکستانی امریکی ماہرین

نومنتخب صدر جو بائیڈن نے دو پاکستانی امریکیوں کو 20 جنوری کو اپنے دور کا آغاز کرنے والی انتظامیہ میں شامل کیا ہے، جن میں ماحولیات کے ماہر علی زیدی اور خارجہ امور کے تجربہ کار سلمان احمد شامل ہیں۔

علی زیدی وائٹ ہاؤس میں قائم مشیروں کی ٹیم میں قومی ماحولیاتی امور پر ڈپٹی ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیں گے، جب کہ سلمان احمد محکمہ خارجہ میں پالیسی منصوبہ سازی کے ڈائریکٹر ہوں گے۔

امریکہ میں پاکستانی برادری کی نمائندہ تنظیموں اور امیگریشن کے ماہرین نے ان تقرریوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

پاکستانی امریکیوں کی قومی سطح کی تنظیم ‘پاکستانی امیریکن پولیٹکل ایکشن کمیٹی” کے صدر ڈاکٹر راؤ کامران علی کہتے ہیں کہ دونوں ماہرین کی تقرری برادری کے لیے ایک اچھی خبر اور حوصلہ افزا بات ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اگرچہ نو منتخب صدر کی طرف سے پاکستانی نژاد ماہرین کی قابلیت کا اعتراف ایک امیدافزا اقدام ہے۔ پاکستانی امریکی کمیونٹی کو امریکہ کی قومی دھارے کی سیاست میں ایک مضبوط آواز بننے کے لیے مربوط کوششیں درکار ہیں۔


ڈاکٹر راؤ کامران اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکیوں کو ایک برادری کی حیثیت سے سیاسی طور پر فعال کردار ادا کرنے کے لیے گزشتہ چار سالوں میں شروع کی گئی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ہو گا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا:

“ایک طرف تو ہمیں ووٹ ڈالنے کے بنیادی جمہوری فرض کو ہر حال میں ادا کرنا ہو گا۔ دوسری طرف ہمیں اپنی کوششوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ہو گا تا کہ پاکستانی امریکی ایک مضبوط سیاسی آواز بن سکیں۔”

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر راؤ کامران نے کہا کہ ہمیں دوسری امریکی برادریوں کے کام کو دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی امریکی اور انڈین امریکی پولیٹیکل ایکشن تنظیموں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف کوششوں کو مربوط انداز سے آگے بڑھاتی ہیں بلکہ انہیں فنڈنگ کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی امریکی شہریوں کو دونوں بڑی جماعتوں یعنی ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن دونوں کے ذریعہ نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر راؤ کامران نے بتایا کہ ان کی پاک پیک تنظیم نے امریکہ اور پاکستانی برادری کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے دونوں پارٹییوں کے تقریباً تین درجن امیدواروں کی حمایت کی۔

ماہرین کی نظر میں پاکستانی امریکیوں کی زیادہ تر تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو طب اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے ماہر یا کاروبار کرتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ سیاست میں شرکت کو بھی ترجیح دیں۔

عدنان بخاری جو واشنگٹن میں قائم “نیشنل امیگریشن لا سینٹر” کے چیف آپریٹنگ افسر ہیں، کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکیوں کا بائیڈن انتظامیہ میں شامل ہونا تارکین وطن کی حیثیت سے ایک اہم پیغام ہے کہ امریکہ کثیرالثقافتی برادریوں کی قدر کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکیوں کے لیے موقع ہے کہ وہ مقامی، ریاستی اور قومی سطح پر سازگار لیکن مقابلے کے ماحول میں ایک سیاسی آواز بن کر ابھریں۔

وہ کہتے ہیں:

“اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک چار سالہ منصوبہ بنایا جائے، جس میں اہداف کو سامنے رکھ کر تمام پہلوؤں پر کام کیا جائے تاکہ پاکستانی امریکی یکجا ہو کر سیاسی افق پر سامنے آئیں۔”

انڈین امریکی کمیونٹی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نےکہا کہ نومبر 2020 کے الیکشن میں 65 کے قریب انڈین نژاد امیدوار میدان میں اترے۔ اگرچہ آبادی میں چار گنا ہونے سے موازنہ درست دکھائی نہیں دیتا، لیکن کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی کمیونٹی دوسرے شعبوں کی طرح سیاسی شرکت میں بھی آگے آئے۔

عدنان بخاری کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکی کمیونٹی کے مزید فعال ہونے کے ساتھ ساتھ پاک امریکہ تعلقات اور خاص طور پر دونوں ملکوں کے لوگوں کے آپس کے روابط بھی اس بات کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ہوں گے کہ دنیا کا آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہونے کی بنا پر ہنرمند پاکستانیوں کو امریکہ آ کر آباد ہونے کے متناسب مواقع میسر ہوتے ہیں یا نہیں۔

دوسری طرف ڈاکٹر راؤ کامران کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکی نوجوانوں کا کانگریسی اراکین کے ساتھ اور ان کی تنظیم پاک پیک میں کام کرنے کا تجربہ بھی ان کوششوں کا ایک اہم جزو ہو گا، جس کے ذریعے پاکستانی امریکی برادری ایک اہم سیاسی آواز بن کر ابھرے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم میں کام کرنے اور کانگریسی امور کو سمجھنے کے لیے ان کی تنظیم نوجوانوں کو مواقع دینے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں ہر سال وظائف بھی دیتی ہے۔

Photo Credit : https://cdn-japantimes.com/wp-content/uploads/2020/12/np_file_58274.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: