ایپل نے آئی فون 13 کے نئے ماڈل لانچ کر دیے

ایپل نے اپنے آئی فون کے اگلے ماڈلز کی نقاب کشائی کر دی ہے جس کا ایپل کے صارفین شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ ان میں ایک ایسا ماڈل بھی شامل ہے جس میں پچھلے ماڈلز کی نسبت ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی گنجائش دو گنے سے بھی زیادہ ہے۔

آئی فونز کے نئے ماڈلز میں جنہیں آئی فون 13 کہا جا رہا ہے، گزشتہ ماڈلز کے مقابلے میں کچھ اپ گریڈز شامل کیے گئے ہیں جو صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا سکتے ہیں۔

منگل کے روز اپنی نئی ڈیجیٹل مصنوعات کی ورچوئل تقریب میں پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیش کی گئی، جس کا اہتمام کمپنی کے ہیڈکوارٹر کوپرٹینو سے کیا گیا جو ریاست کیلی فورنیا میں واقع ہے۔

گزشتہ چند ہفتے ایپل کے لیے بڑے ہنگامہ خیز رہے، جن میں فون کے ڈیٹا کی سیکیورٹی سے متعلق سوالات اور ایک فیڈرل کورٹ کا ایپ سٹور سے متعلق کمپنی کے خلاف ایک فیصلہ بھی شامل ہے جس سے ایپل ہر سال اربوں ڈالر منافع کما رہا تھا۔

ایپل کا نیا فون دیکھنے میں اپنے پچھلے سال کے ماڈل سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پچھلے سال کے ماڈل ہی کی طرح، نیا آئی فون 13 چار مختلف ڈیزائنوں میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی قیمتیں 700 ڈالر سے لے کر 1100 ڈالر تک مقرر کی گئی ہیں۔ نئے فونز کی 24 ستمبر سے اسٹورز پر فروخت شروع ہو جائے گی۔

اس کے چار ماڈلز، آئی فون 13 منی، آئی فون 13، آئی فون 13 پرو اور آئی فون 13 پرو میکس ہیں۔

ممکنہ طور پر جدید ترین آئی فون 13 میں سب سے زیادہ قابل ذکر اضافہ ایک ٹیرا بائٹ اسٹوریج کا آپشن ہے۔ جب کہ پچھلے سال کے ماڈل پر ڈیٹا کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 512 گیگا بائٹس تھی جو کہ نئے ماڈل میں اس سے دو گنا زیادہ ہے۔

ایپل آئی فون 13 پر پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ بہتر کیمرے پیش کیے گئے ہیں، جن میں مزید بہتر الٹرا وئیڈ لینس، سینما جیسی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی صلاحیت اور رات کے وقت واضح تصویر کھینچنے کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی گوگل کے پکسل فونز میں پہلے سے موجود ہے۔

ایپل نے اپنے نئے فونز کی بیٹریوں کی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ زیادہ وقت تک کام کر سکیں گی۔

ایپل کے سی ای او ٹم کک نے کہا کہ ہم آئی فون کو زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ایپل اور دیگر کمپنیوں کے اسمارٹ فونز میں نئی اختراعات اور جدت کی رفتار سست پڑ گئی ہے، جب کہ ان کی قیمتیں عمومی طور پر ایک ہزار ڈالر سے زیادہ ہیں۔ جس کی وجہ سے صارفین نئے فونز خریدنے کی بجائے پرانے فونز کو زیادہ عرصے تک اپنے استعمال میں رکھنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

لیکن پچھلے سال کے آئی فون 12 کی ریلیز نے 2014 کے بعد سے ایپل کی فروخت میں نمایاں طور پر اضافہ کیا، جس کی ایک ممکنہ وجہ کرونا وائرس کی عالمی وبا بھی تھی جس نے لوگوں کو زیادہ وقت کے لیے اپنے گھروں تک محدود کر دیا تھا۔ اس دوران ایک اچھا سمارٹ فون دنیا سے رابطوں، معلومات کے حصول اور تفریح کا ایک قابل ذکر ذریعہ بن گیا اور وہ اچھے سمارٹ فونز خریدنے کی جانب راغب ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایپل کے آئی فونز کی فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 60 فی صد اضافہ ہوا۔

فروخت کی اس تیزی نے ایپل کے اسٹاک کی قیمت کو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچانے میں مدد کی، جس سے کمپنی کی مالیت تقریباً ڈھائی ٹریلین ڈالر پر پہنچ گئی جو کہ 18 ماہ قبل عالمی وبا کے آغاز کے وقت کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زیادہ تھی۔

اگرچہ آئی فون اب بھی ایپل کے لیے منافع کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن کمپنی اس کی کامیابی کو اپنی سمارٹ واچ جیسی ذیلی مصنوعات کے ساتھ ضم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی فونز کی لانچ کے موقع پر ایپل نے اپنی ایپل واچ کے نئے ماڈل بھی پیش کیے، جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ پتلے، زیادہ گول، زیادہ روشن اور بڑے ہیں۔ انہیں سیریز 7 کا نام دیا گیا ہے۔

ایپل نے اپنے آئی پیڈ کو بھی اپ گریڈ کیا ہے اور اس میں فائیو جی کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ نئے ماڈلز میں 12میگا پکسلز کا کیمرہ نصب ہے اور اس کا ڈسپلے زیادہ روشن اور واضح ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ اس میں تیز رفتار جدید چپ نصب کی گئی ہے۔

Photo Credit : https://images.macrumors.com/t/fly1f0zKgGOR5I_lv_lMJkl8VKY=/2500x/https://images.macrumors.com/article-new/2021/07/iPhone-13-Dummy-Thumbnail-2.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.