ایل جی کا اسمارٹ فونز کی دنیا کو خیرباد کہنے کا اعلان

الیکٹرانکس آلات بنانے والی جنوبی کورین کمپنی ‘ایل جی’ نے لگ بھگ چھ برس تک نقصان برداشت کرنے کے بعد اپنے موبائل ڈویژن کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ نقصان پہنچانے والے موبائل ڈویژن کو مکمل ختم کر دے گا۔

ایل جی الیکٹرانکس اسمارٹ فون کی دنیا کو خیر باد کہنے والی پہلی کمپنی ہے۔ ایل جی کی طرح مشہور موبائل بنانے والی کمپنیاں جیسے نوکیا، ایچ ٹی سی اور بلیک بیری بھی ماضی میں کئی مقبول موبائل فونز متعارف کرا چکی ہیں لیکن ان کمپنیوں کی مارکیٹ بھی اب سکڑتی جا رہی ہے۔

ایل جی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ موبائل ڈویژن لگ بھگ چھ سال سے نقصان میں تھا جس کی وجہ سے اسے تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

اسمارٹ فونز کے شعبے کو خیرباد کہنے کے بعد ایل جی کمپنی اپنی توجہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے سامان، کنیکٹڈ ڈیوائسز اور اسمارٹ ہومز جیسے شعبوں پر مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایل جی موجودہ موبائل فون صارفین کو ایک وقت تک سروسز سپورٹ اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس فراہم کرے گی لیکن اس کا اطلاق ہر خطے کی ضرورت پر منحصر ہوگا۔

ایل جی نے موبائل بنانے والی بعض دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں الٹرا وائڈ اینگل کیمرے سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرائی تھیں۔ اپنی انہی جدت اور نت نئی ایجادات کے سبب سال 2013 میں ایک موقع پر ایل جی، سام سنگ اور ایپل کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا اسمارٹ فون مینوفیکچرر بن گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس کے فلیگ شپ ماڈل کو سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ سافٹ ویئر کی اپ ڈیٹس میں تاخیر بھی برانڈ کے لیے مسائل کا باعث بننے لگی تھی۔

تجزیہ کاروں نے کمپنی کی چینی حریفوں کے مقابلے میں مارکیٹ میں تجربے کی کمی پر تنقید بھی کی ہے۔

دوسری جانب کاؤنٹرپوائنٹ کی فراہم کردہ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت کمپنی کا عالمی شیئر تقریباً دو فی صد ہے۔ اس نے گزشتہ برس دو کروڑ 30 لاکھ فونز شپ کیے تھے۔ اس کے برعکس سام سنگ نے اسی برس 25 کروڑ 60 لاکھ فونز برآمد کیے تھے۔

مارکیٹ کو خیرباد کہنے کے فیصلے سے ایل جی کا شمالی امریکہ میں موجود 10 فی صد شیئر بھی ختم ہوجائے گا جہاں یہ تیسرا مقبول ترین برانڈ ہے جب کہ شمالی امریکہ میں اسمارٹ فون کی بڑی کمپنیوں ایپل اور سام سنگ کو فائدہ پہنچے گا۔

شمالی امریکہ کے علاوہ لاطینی امریکہ میں بھی اس کی واضح موجودگی ہے، جہاں یہ پانچویں نمبر کا بڑا برانڈ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ایل جی کی حریف چینی کمپنیاں اوپو، ویوو اور ژیامی کی امریکہ میں اتنی زیادہ موجودگی نہیں۔ اس لیے ایل جی کی غیر موجودگی میں سام سنگ نچلے اور درمیانے درجے کی موبائل فونز مارکیٹ سے استفادہ کر سکتی ہے۔

ایل جی کے پانچ ڈویژن میں سے اسمارٹ فون ڈویژن سب سے چھوٹا ہے اور یہ ریونیو کا صرف سات فی صد شراکت دار ہے۔ توقع ہے کہ اسے 31 جولائی تک بند کر دیا جائے گا۔

جنوبی کوریا میں ڈویژن کے ملازمین کو ایل جی الیکٹرانکس کے دیگر کاروبار اور اس سے وابستہ شعبوں میں منتقل کر دیا جائے گا جب کہ دیگر مقامات پر ملازمت سے متعلق فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں گے۔

Photo Credit : https://1734811051.rsc.cdn77.org/data/images/full/383006/mobile-world-congress-2015-day-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: