ایشیائی امریکی صحافی بھی ہراساں ہونے کی شکایت کرنے لگے

گزشتہ مہینے امریکی شہر اٹلانٹا میں چھ ایشیائی امریکی خواتین کے قتل کے ایک روز بعد امریکہ میں کم از کم پانچ ایسے صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران ہراساں کیا گیا، جو نسلی لحاظ سے ایشیائی تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی امریکی صحافی بھی منفی رویوں کی اس بڑی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس کی شکایت کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد امریکہ میں رہنے والی ایشیائی امریکی کمیونٹی تواتر کے ساتھ کر رہی ہے، یعنی ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم۔

ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملوں کا ریکارڈ مرتب کرنے والے ادارے سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ نے پچھلے برس ایشیائی امریکیوں کے خلاف ہراساں کرنے یا تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات کے اعداد و شمار جاری کئے ہیں جن کے مطابق مارچ 2020 سے رواں برس فروری کے دوران ایسے 3795 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

ایشین امریکن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نومی ٹاکیون نے حمارا ہند کو بتایا کہ ایشیائی امریکی صحافیوں کی طرف سے کام سے متعلق ہراساں کرنے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول ’’ہم نے اپنے ارکان سے سنا ہے کہ انہیں آن لائین اور کام کے دوران ہراساں کئے جانے کا تجربہ ہوا ہے۔ ایشیائی امریکی صحافی اٹلانٹا کے واقعے کے بعد اپنی اور اپنے خاندانوں کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘‘

سی این این کی رپورٹر امارا والکر نے بتایا کہ اٹلانٹا میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد انہیں جارجیا سٹی میں لائیو انٹرویو سے پہلے کسی نے ’’وائرس‘‘ کہہ کر پکارا۔

حمارا ہند کا کہنا ہے کہ وہائٹ ​​ہاؤس کے سامنے انہیں اور تین ساتھی ایشیائی امریکی صحافیوں کو ہراساں کیا گیا

حمارا ہند نے کہا کہ وہ براہ راست نشریات کا آغاز کرنے ہی والا تھا جب ایک شخص اور ایک خاتون نے تین کوریائی خدمت کے نامہ نگاروں سے رابطہ کیا جو واقعے کی کوریج میں مصروف تھے ان کی شہریت کے بارے میں سوالات پوچھنا شروع کیا

وانگ کا کہنا ہے کہ سنہرے بالوں والی اس خاتون نے کورین سروس کے صحافیوں سے کہا کہ ’’کیا تمہارے پاس وائٹ ہاؤس کی فوٹیج ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔ ہم امریکی ہیں، تم نہیں ہو، تم غیر ملکی ہو، ہمارے پاس یہ حق ہے کہ ہم تمہیں وائٹ ہاؤس کی ریکارڈنگ کرنے سے روکیں۔‘‘

ہوانگ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے مینڈرین زبان میں اپنی رپورٹ کے لئے کیمرے پر اپنا حصہ ریکارڈ کرنا شروع کیا تو وہ دونوں ان کے پاس آ گئے۔ جس پر ان کے ساتھی پروڈیوسر نے اپنے وجود کو ان افراد اور رپورٹر کے درمیان آڑ بنا کر انہیں ریکارڈنگ میں مداخلت سے باز رکھا۔

ہوانگ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ رپورٹنگ کے دوران انہیں ان کی نسلی پہچان کی وجہ سے کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ان کے مطابق اس تجربے کے بعد ان کا کام پہلے سے “یقینا” مشکل ہو گیا ہے۔

ان کے بقول ’’اگر آپ چہرے سے ایشیائی نظر آتے ہے، تو آپ کو غیر ملکی کے طور پر دیکھا جائے گا، اور جو لوگ خود کو مکمل امریکی تصور کرتے ہیں، ان کے سامنے آپ کے حقوق کم محسوس ہونگے، اگرچہ کہ یہ درست نہیں ہے۔ لیکن اگر لوگوں کا یہی تصور ہے، اور آپ کی نسل کے دیگر افراد پر تشدد بھی کیا گیا ہے، تو مجھے سڑکوں اور ہجوم پر اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران فکر تو لگی رہے گی۔‘‘

ایشئین امریکن جرنلسٹ ایسو سی ایشن سے تعلق رکھنے والے انڈرووڈ ان رویوں کی وجہ سابقہ امریکی صدر کے عالمی وبا سے متعلق موقف کو قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول، ’’پچھلی انتظامیہ کی وجہ سے، صحافی، خصوصاً غیر سفید فام صحافی اور ایشیائی امریکی صحافی خاص طور پر دو وجوہات سے نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک وجہ تو میڈیا کے بارے میں بداعتمادی اور دوسرا کرونا وائرس کو چائنا وائرس، ووہان وائرس یا کنگ فلو جیسے نام دینے سے ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے”۔

انڈرووڈ کا کہنا ہے کہ ایشیائی امریکیوں کے خلاف آن لائین نفرت حقیقی زندگی میں بھی خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے نیوز رومز کو انہیں خطرناک حالات سے نمٹنے کے لیے آلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سٹاف کو لوگوں کے ساتھ خطرناک حالات میں بات چیت کرنے کی تربیت بھی دینی چاہیے۔

ان کے مطابق ایشیائی امریکی صحافی اس وقت بہت زیادہ دباؤ اور تکلیف میں ہیں۔ یہ صحافی ’’ایشیائی امریکی آبادیوں کے بارے میں بامعنی، متنوع اور ہمہ پہلو کوریج کر رہے ہیں۔‘‘

نیو یارک شہر میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں، گزشتہ سال 2020 میں 2019 کے مقابلے میں 9 گُنا اضافہ ہوا۔ محکمہ نیو یارک پولیس میں نفرت اور شدت پسندی پر مبنی جرائم کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والے سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ایسے جرائم میں گرفتار ہونے والے 20 افراد میں سے دو سفید فام، گیارہ افریقی النسل امریکی، چھ سفید فام ہسپانوی اور ایک سیاہ فام تھے ۔

واضح رہے کہ تاریخی اعتبار سے نیو یارک شہر میں نفرت پر مبنی جرائم کے لئے ہونے والی گرفتاریوں کا ڈیٹا اس حساس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بتاتا ہے کہ ایشیائی امریکی برادری پر ہونے والے حملوں کے زمہ دار افراد اکثر غیر سفید فام امریکی تھے۔

نفرت پر مبنی جرائم پر دو کتابوں کے مصنف اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر جیک مک ڈیوِٹ نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سے بہت کچھ اخذ نہیں کرنا چاہئیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کسی بھی سال میں کسی ایک علاقے میں، کسی ایک برادری کے خلاف، پولیس کو رپورٹ ہوئے نفرت پر مبنی جرائم کے ڈیٹا کو قومی سطح پر دیکھا جاتا ہے تو اس میں خلاف معمول اعداد و شمار نظر آتے ہیں، کیونکہ بہت سے جرائم پولیس کو رپورٹ ہوئے ہی نہیں تھے۔ تاہم مک ڈیوٹ کہتے ہیں کہ “دیگر برادریوں نے بھی خود پر ہونے والے حملوں کو اسی انداز سے جانچنے کی کوشش کی ہے، جس انداز سے ہماری سفید فام برادری ایک عرصے سے کرتی چلی آرہی ہے”۔

Photo Credit : https://bostonglobe-prod.cdn.arcpublishing.com/resizer/CqFY9Dx3Nmp5B-klA3KkWez2abE=/1440×0/cloudfront-us-east-1.images.arcpublishing.com/bostonglobe/AT72MDIHDWWPEDZADUXB2XAEIU.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: