ایشیائی امریکیوں کے خلاف ایک برس میں نفرت پر مبنی 3800 واقعات رونما ہوئے

امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا اور اس کے مضافات میں تین مساج پارلروں میں فائرنگ کے واقعات میں چھ ایشیائی خواتین کی ہلاکت کے بعد ایشیائی امریکی گروپوں کے اشتراک سے قائم ادارے ‘سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ’ نے کہا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب امریکہ میں ایشیائی نسل کے افراد کے خلاف نفرت پر مبنی حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

‘سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ’ گروپ نے ایشیائی امریکیوں پر اِن حملوں کو ‘ناقابل بیان سانحات’ قرار دیا۔

امریکی ادارہ مردم شماری کے مطابق ایشیائی امریکیوں سے مراد، چین، فلپائن، ویتنام، کوریا، جاپان، جیسے ایشیائی ملکوں سے آکر امریکہ میں آباد ہونے والے باشندے ہیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ ایشیائی النسل افراد کے خلاف حالیہ حملوں کے پورے رجحان کا ایک دستاویزی ریکارڈ موجود ہے، اور ایشیائی امریکیوں کو نفرت، تعصب اور تشدد کی بلند سطح سے تحفظ دینے کے سلسلے میں کافی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

حمارا ہند نے رپورٹ کیا ہے کہ اسٹاپ اینڈ گو گروپ ، API ہیٹ کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال میں ایشین امریکیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے تقریبا direct 3،800 براہ راست واقعات ہوئے ہیں۔ کیوجہ سے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی امریکیوں کے خلاف ان واقعات میں اضافہ ایک سال پہلے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد شروع ہوا۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا۔

جارجیا میں فائرنگ کے واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے ایشیا پیسیفک امیریکن کاکس کی رکن اور ایوانِ نمائندگان کی ممبر پرامیلا جیاپال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایشیائی امریکیوں کو جارجیا اور ملک بھر میں نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ، نیو یارک سٹی کے بروک لین علاقے میں ، ایک سفید فام شخص نے ایک ایشین امریکی خاتون کا جارحانہ انداز میں پیچھا کیا اور اس پر چیخ اٹھا ، جو نسل پرست اور جنسی زیادتی تھی ، ہمارا ہند کے مطابق۔

واشنگٹن ڈی سی میں ایک شخص نے ایشیائی خاتون کو میٹرو سب وے سٹیشن پر پیچھے سے مکا دے مارا، اور اس پر نسل پرستانہ آوازے کسے اور اس کے ساتھی سمیت اسے جسمانی طور پر زد وکوب کرنے کی دھمکی دی۔

لاس ویگاس میں، سواریاں لے جانے والی گاڑی کے ڈرائیور نے اپنی ایشیائی مسافر سے کہا، ‘ تو اب ایک اور ایشیائی مسافر میرے ساتھ سفر کرے گا۔۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں کرونا نہیں ہے’۔

سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ گروپ کی منگل کے روز جاری ہونے والی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2020 میں مارچ سے لے کر فروری 2021 تک ایشیائی امریکیوں کے خلاف نسل پرست رویے پر مبنی 3795 واقعات ریکارڈ کئے گئے، جبکہ سال 2021 کے ابتدائی ڈھائی مہینے کے دوران ہی اب تک نفرت پر مبنی 5 سو سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہوئے۔

گروپ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی تعداد رپورٹ ہونے واقعات سے کہیں زیادہ ہے۔

گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 68.1 فیصد واقعات زبانی بدکلامی، دشنام طرازی اور متعصبانہ رویے کے تھے، جب کہ جسمانی تشدد کے تقریباً 11.1 فیصد کُل واقعات پیش آئے۔

ایشیائی امریکیوں کی جانب سے تعصب پر مبنی واقعات کی رپورٹنگ کا آغاز جنوری 2020 سے کیا تھا۔ تا ہم، گروپ کی شریک بانی سنتھیا چاؤ کا کہنا ہے کہ ان غیر معمولی واقعات میں اضافہ بظاہر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بعض تقاریر اور بیانات کی وجہ سے بھی ہوا۔۔ جیسے ان کی جانب سے ’کنگ فو‘ جیسے الفاظ کا استعمال، جو انہوں نے کرونا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو قرار دیتے ہوئے ادا کئے تھے۔

حمارا ہند نے پہلے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ ایشین امریکیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم 2020 میں 150 گنا بڑھ جائیں گے ، اور یہ رجحان اس سال بھی جاری رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق، ایشیائی امریکیوں میں سب سے زیادہ واقعات، چینی امریکیوں کے خلاف پیش آئے جو کہ کُل واقعات کے 42.2 فیصد ہیں۔ کوریائی باشندوں کے خلاف 14.8 فیصد، ویتنامی امریکیوں کے خلاف 8.5 فیصد اور فلپائلی باشندوں کے خلاف 7.9 فیصد واقعات پیش آئے۔ خواتین نے مردوں کے مقابلے میں دگنے سے زیادہ ایسے واقعات کو رپورٹ کیا۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق ، گذشتہ ایک سال کے دوران امریکہ میں سفید فام بالواسطہ پروپیگنڈا تقریبا دگنا ہوگیا ہے۔ اس پروپیگنڈے میں نسل پرستی ، صہیونیت مخالف اور ہم جنس پرستی کے خلاف پیغامات شامل ہیں۔

نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے ڈیٹا کے مطابق، 2020 میں 5125 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ اس کے مقابلے میں 2019 میں 2724 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم گروپ کا کہنا ہے کہ کالج کیمپسز میں ایسے واقعات میں کمی ہوئی جس کی وجہ شاید کووڈ 19 سے متعلق پابندیاں ہیں۔

تاہم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کی جانب سے ریکارڈ کئے گئے واقعات، نفرت پر مبنی جرائم کے زمرے میں نہیں آتے، کیونکہ فیڈرل بیورو آف اِنویسٹی گیشن یعنی ایف بی آئی نفرت پر مبنی جرائم کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے پیچھے نسل، مذہب، جنسی رجحان، اور دیگر عناصر کار فرما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر زد و کوب کرنا یا لوٹ مار کرنا۔

Photo Credit : https://media-cldnry.s-nbcnews.com/image/upload/newscms/2021_10/3400251/200727-chinatown-nyc-coronavirus-racism-ac-1032p.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: