ایران کا جوہری پروگرام بہت آگے جا چکا ہے؛ عالمی ادارہ

خبریں

اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ نے منگل کو کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام “پورےعزائم اور صلاحیت کے ساتھ بڑھ رہا ہے” اوران کی ایجنسی کو ایران کے ایٹمی پروگراموں کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کے لیے مکمل رسائی کی ضرورت ہے۔

ادھرایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کارعلی باقری کنی 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بات چیت کے لیے بدھ کو ویانا کا روانہ ہو رہے ہیں، ترجمان نے کہا کہ تہران ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جو اس کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

ایک ایرانی اہلکار نے بتایا کہ ویانا میں ہونے والی بات چیت “دوحہ میٹنگ کی طرح ہو گی، جہاں یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا ایران کے باقری کنی اور واشنگٹن کے مالے کے درمیان ایک دوسرے کی بات پہنچاتے رہے ہیں کیونکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بہرحال انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تسلیم کیا کہ تہران کا موجودہ جوہری پروگرام اس کے 2015 کے پروگرام سے بہت مختلف ہے، جب بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سمیت ہرکوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔

گروسی نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے موقع پرنامہ نگاروں کو بتایا کہ ” ایرانیوں کا خود کہنا ہے کہ وہ آگے بڑھ رہے ہیں اورحیرت انگیز پیش رفت کر رہے۔ ان کا پروگرام بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

گروسی نے ایرانی جوہری پروگرام کے بار ےمیں کہا کہ “وہ مقٓاصد اور صلاحیت کے اعتبار سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔” ” واضح طور پر، ہمیں اس پروگرام کی خصوصیات کے مطابق رسائی کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ایرانیوں کے پاس اب مزید سہولیات اور نئی ٹیکنالوجیز موجود ہیں۔ گروسی نے کہا کہ انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نئے سینٹری فیوج کیسکیڈز تیار کر رہا ہے، جو یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہوتے ہیں۔

انہوں نے اس نئی اطلاع کے بارے میں کہا کہ اس نے “ہمارے انسپکٹرز کو چوکنّا کر دیا گیا ہے کیونکہ جب ایسا ہوتا ہے توانہیں اس کا جائزہ لینا چاہیے فی الحال ہمارے اہلکار اس کام کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہوئے ہیں۔”

گزشتہ ماہ ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی رابرٹ مالے نے کہا تھا کہ تہران کے پاس بم بنانے کے لیے کافی حد تک افزودہ یورینیم موجود ہے اور وہ چند ہفتوں میں ایسا کر سکتا ہے۔

جوہری عدم پھیلاو سے متعلق این پی ٹی جائزہ کانفرنس کے دوران امریکی وزیرخارجہ انٹنی بلنکن نے خبردار کیا تھا کہ ایران جوہری کشیدگی کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا، “ہر چند کہ یہ کھلے عام مشترکہ جامع ایکشن پلان یا JCPOA کے ساتھ باہمی تعمیل کی طرف واپسی کے حق میں دعویٰ کرتا ہے، لیکن مارچ سے ایران یا تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے یا اس سے قاصر ہے۔” امریکہ ، ایران اوردنیا کے لیے JCPOA میں دونوں ملکوں کا واپس آنا ہی بہترین نتیجہ ہے ۔”

2015 میں، برطانیہ، چین، فرانس، امریکہ اور جرمنی نے ایران کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن، یا JCPOA کہا جاتا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کو اس کے جوہری پروگرام پربندشوں کے بدلے اس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تہران نے بارہا اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اورکہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ کے بالواسط مذاکرات ، جن کا مقصد دونوں فریقوں کو معاہدے میں واپس لانا تھا بے نتیجہ رہے ہیں۔ آخری دور جون کے آخر میں قطری دارالحکومت میں ختم ہوا، ایران نے اس معاہدے کے لیے نئے مطالبات کی نئی فہرست پیش کر دی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی یا IAEA کے سربراہ گروسی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہیں یقین ہے کہ تہران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے، یا نہیں ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ایجنسی کو تنصیبات کے معائنے کے لیے رسائی کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر جب سے ایران نے جون میں 27 مانیٹرنگ کیمروں کے ساتھ ساتھ IAEA کی طرف سے کچھ تنصیبات میں نصب کیے گئے دیگر مانیٹرنگ سسٹمز کو ہٹا دیا تھا۔

گروسی نے کہا، “دو ماہ کے دوران مزید سینٹری فیوجز کے پرزے تیار کرنے کے سلسلے میں بہت سی سرگرمیاں ہوئیں جن کی تصدیق کرنے کی IAEA پوزیشن میں نہیں ہے، “لہذا ہمیں اس سے نمٹنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔”

عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ ایران عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے ملک کی طرح کا ہی برتاؤ کیا جانا چاہئے۔

گروسی نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے جب بات جوہری طاقت کی ہوتولفّاظی سے کام نہیں چلتا۔ “آپ کو شفاف طور پرتعمیل کرتے ہوئے ہمارے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم تیار ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔”

تصویر کریڈٹ : https://nucleus.iaea.org/sites/diif/Slider/IAEA_emblem.jpg

https://cdn.britannica.com/22/1722-004-EAD033D8/Flag-Iran.jpg