ایران نے اسرائیلی کارگو جہاز پر دھماکے کا الزام مسترد کر دیا


ایران نے اسرائیل کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے ایک اسرائیلی کارگو بحری جہاز کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران نے خلیج عمان میں اسرائیل کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر کو بتایا کہ یہ واقعتاً ایران کی ہی کارروائی تھی اور یہ بات واضح ہے کہ ایران اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

تاہم انہوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کے الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور نیتن یاہو کا بیان خوف کی فضا پیدا کرتا ہے۔

خلیج عمان میں پراسرار دھماکے کا نشانہ بننے والا اسرائیلی ملکیتی کارگو جہاز اب مرمت کے لئے دبئی کی بندرگاہ پہنچ گیا ہے ۔یہ جہاز دھماکے کے بعد اتوار کے روز وہاں پہنچا۔

اسرائیلی کارگو جہاز ایم وی ہلیوس رے کو 25 اور 26 فروری کی درمیانی رات کو سطح آب سے اوپر دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ دھماکے سے جہاز کے دونوں جانب سوراخ ہو گئے ہیں۔ ایک اسرائیلی عہدے دار کے مطابق اس دھماکے لیے بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔

اس حادثے نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں مشرق وسطی کی آبی گزرگاہوں میں ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔

امریکی دفاعی عہدیداروں کے مطابق جہاز کے عملے کو دھماکے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن بحری جہازکو اس دھماکے میں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔

عہدے داروں کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس دھماکے کی وجہ کیا تھی۔ لیکن یہ حادثہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب سن 2015 کے جوہری معاہدے کے بارے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایران امریکہ کی جانب سے خود پر عائد پابندیاں ختم کرانے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔

سابق صدر ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکالنے کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں تھیں، جس سے ایرانی معیشت شدید مشکلات میں مبتلا ہے۔

Photo Credit : https://lloydslist.maritimeintelligence.informa.com/-/media/lloyds-list/images/piracy-and-security/2021-new-images/helios-ray_giuseppe-cacace_afp-via-getty-images.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: