ایران القاعدہ کو اپنے ملک میں پناہ دے رہا ہے، پومپیو


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ 11 ستمبر، 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والی دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے ایران کو اپنی نئی آماجگاہ بنا لیا ہے جہاں بظاہر وہ امریکہ کی فوجی طاقت سے خود کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مائیک پومپیو نے واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے القاعدہ کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے جہاں اسے فنڈ اکٹھا کرنے اور دنیا بھر میں اپنے ارکان سے رابطے کرنے کی کھلی آزادی حاصل ہے اور جہاں سے وہ اپنی کارروائیاں اسی انداز میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو وہ دو دہائیاں قبل افغانستان یا پاکستان سے کرتی رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی پشت پناہی کے باعث القاعدہ کی قیادت ایران میں اکٹھی ہو گئی ہے اور یوں ایران دہشت گردی کا نیا مرکز بن گیا ہے۔

ادھر امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے کہا ہے کہ القاعدہ امریکہ کی طرف سے مسلسل دباؤ کے باعث امریکہ کے خلاف کوئی بڑی دہشت گرد کارروائی کرنے کی اہل نہیں رہی۔

تاہم وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا ہے کہ القاعدہ ایران کی پشت پناہی کے باعث پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں القاعدہ کی قیادت کو آزادانہ نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے اور ایران کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی وزارت اور ایران کے انقلابی گارڈز اسے مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

پومپیو نے تصدیق کی کہ القاعدہ کے دوسرے اہم ترین لیڈر ابو محمد المصری کو اس کی بیٹی سمیت گزشتہ اگست میں تہران میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ امریکی خفیہ اداروں کا کہنا تھا کہ عبداللہ احمد عبداللہ کے نام سے منسوب ابو محمد المصری 2015 سے ایران میں مقیم تھا، جب ایک ایرانی سفارت کار کے بدلے اسے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ رہا کیا گیا تھا۔

امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے دیگرسرکردہ لیڈر بدستور ایران میں مقیم ہیں جن میں سیف العادل بھی شامل ہے جو اب المصری کا منصب سنبھالے ہوئے ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹوئٹ میں امریکی وزیر خارجہ کے دعوے کو من گھڑت قرار دیا ہے۔

Photo Credit : https://img.ntd.com/assets/uploads/2021/01/Mike-Pompeo-20200112-615×410.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: