ایرانی وزیر خارجہ کی گفتگو افشا ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی ریکارڈ کی گئی گفتگو افشا ہونے کے بعد، صدر حسن روحانی نے جمعرات کے روز سرکاری تھنک ٹینک کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ایران کے صدارتی دفتر نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ سینٹر برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ حسام الدین اشینہ نے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کی جگہ کابینہ کے ترجمان علی ربی نے لیا تھا۔ اس انٹرویو کے وقت اشینہ بھی جواد ظریف کے ساتھ موجود تھیں۔ جمعرات کے روز ہی ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی اسنا نے عدلیہ کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انٹرویو سے منسلک پندرہ افراد کے ملک چھوڑ کر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایرانی صدارتی دفتر سے منسلک ایک تھنک ٹینک، سٹریٹیجک سٹڈیز سینٹر سے منسلک ماہر معاشیات، سعید لیلاز نے جواد ظریف کا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ کیا تھا، جسے آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ کرنا مقصود تھا۔

ریکارڈنگ میں ظریف نے کھل کر ایران میں سفارتکاری کا تنقیدی جائزہ پیش کیا تھا اور اپنے محدود کردار پر بات کی تھی۔

بنیادی طور پر وہ گفتگو سرکاری ریکارڈ کیلئے تھی۔ تاہم، اس سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مذہبی حکومت میں اختیارات کی رسہ کشی پر نظر ڈالنے کا ایک نادر موقع بھی فراہم ہوا۔ اس گفتگو کے افشا ہونے کے بعد، ایران میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

افشا ہونے والی گفتگو میں جواد ظریف نےاپنے اختیارات کے محدود ہونے اور پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کے بے تحاشا اختیارات کا ذکر کیا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی بغداد میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ہفتے کے آغاز پر، جواد ظریف نے اس سارے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو کو غلط انداز میں لیا گیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے انٹرویو کے افشا ہونے کو، سن 2015 میں ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی پاسداری کیلئے، ویانا میں جاری مذاکرات کو غلط راہ پر ڈالنے سے تعبیر کیا ہے۔

اس گفتگو کی ٹیپ اوائل ہفتہ، لندن میں قائم فارسی زبان کے ایران انٹرنیشنل سیٹلائٹ نیوز چینل کو فراہم کی گئی تھی۔ ایران میں اس سال اٹھارہ جون کو صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔ اس سے پہلے اس گفتگو کے منظر عام پر آنے سے ایران میں سیاسی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ظریف کو اس سال جون میں ہونے والے انتخابات میں ایک ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ انتخاب میں حصہ لینے کی خواہش نہیں رکھتے۔

صدر حسن روحانی آٹھ سال صدر رہنے کے بعد اب تیسری مدت کیلئے انتخاب نہیں لڑ سکتے، کیونکہ انتخابی ضوابط اس کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے بدھ کے روز، ریکارڈنگ افشا ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جواد ظریف کا انٹرویو سرکاری عہدیداروں کے ساتھ گفتگو کے ایک وسیع تر پراجیکٹ کا حصہ تھا۔ انہوں نے گفتگو کی ریکارڈنگ افشا ہونے کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔

انٹرویو کے دوران جواد ظریف بار بار یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ اس انٹرویو کو جاری نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انٹرویو بنیادی طور پر گھنٹوں پر مشتمل تھا۔

Photo Credit : https://api.time.com/wp-content/uploads/2020/12/GettyImages-1229903290.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: