ایبٹ آباد آپریشن کا اہم کردار ڈاکٹر شکیل آفریدی کس حال میں ہیں؟


جمیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی چھوٹے سے سیل میں چند قدم چل سکتے ہیں۔ انہیں محافظ کی موجودگی میں ہفتے میں دو بار شیو کرنے کی اجازت ہے۔ اہلِ خانہ سے ملاقات میں وہ سیاست اور جیل کے حالات پر بات نہیں کرسکتے اور نہ ہی پشتو بول سکتے ہیں۔

“وہ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہیں جہاں وہ چل پھر سکتے ہیں اور وہیں ہلکی پھلکی ورزش بھی کر لیتے ہیں۔ قرآن کے علاوہ وہ کوئی کتاب یا اخبار پاس نہیں رکھ سکتے۔ اہلِ خانہ سے ملاقات میں انہیں اپنی مادری زبان پشتو میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں۔”

امریکہ میں ہیرو سمجھے جانے والے اور پاکستان میں ‘غدار’ سمجھے جانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے دن رات کی تفصیلات ہمارا ہند نے اپنے کنبہ اور وکیل کی مدد سے حاصل کی ہیں کیونکہ ان کے علاوہ شکیل آفریدی کوئی نہیں دوسری تک رسائی حاصل ہے۔

دو مئی 2011 کو امریکہ کی جانب سے کیے گئے ایک آپریشن میں دنیا کے مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو ایک دہائی مکمل ہوچکی ہے۔ بن لادن کی تلاش کی سنسنی خیز داستان کا ایک مرکزی کردار شکیل آفریدی بھی ہیں۔

پاکستان کے سابق قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے امریکی خفیہ ادارے ‘سی آئی اے’ کے آپریشن کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔

حمارا ہند کے مطابق ، ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں آپریشن سے قبل امریکہ کو حتمی شواہد کی ضرورت تھی کہ واقعتا bin بن لادن موجود ہے۔ اس کے ل Dr. ، ڈاکٹر آفریدی نے کمپاؤنڈ سے ڈی این اے نمونے لینے کے لئے پولیو ویکسینیشن مہم چلائی تھی۔

اسامہ کی تلاش میں شکیل آفریدی کتنا مددگار ثابت ہوئے تھے، یہ تاحال واضح نہیں۔ لیکن انہیں بن لادن کی قیام گاہ پر ہونے والے امریکی آپریشن کے چند ہفتوں بعد ہی پاکستانی حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔

ایبٹ آباد آپریشن سے شکیل آفریدی کا کوئی تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ تاہم پاکستان کی ایک قبائلی عدالت نے انہیں نو آبادیاتی دور کے ایک قانون کے تحت شورش پسندوں کو رقم فراہم کرنے کے ایک مبہم الزام میں 33 سال قید کی سزا سنادی تھی۔

امریکی حکومت کی جانب سے گاہے بہ گاہے شکیل آفریدی کی قید پر احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ذریعے ان کی امریکہ حوالگی کی تجویز بھی گردش کرتی رہی ہے۔ لیکن تاحال ان کی رہائی کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہو سکی ہے۔

’ہفتے میں دو بار شیو کی اجازت ہے‘

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ساہیوال کی جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

ان کے بھائی جمیل آفریدی کے مطابق وہ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہیں جہاں وہ چل پھر سکتے ہیں اور وہیں ہلکی پھلکی ورزش بھی کرلیتے ہیں۔

جمیل آفریدی نے حمارا ہند کو بتایا کہ شکیل آفریدی کو قرآن کے علاوہ کوئی کتاب یا اخبار رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

جمیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو محافظ کی موجودگی میں ہفتے میں دو بار شیو کرنے کی اجازت ہے اور انہیں جیل میں دیگر قیدیوں سے ملنے ملانے کی بھی اجازت نہیں۔

اہلِ خانہ کو مہینے میں صرف دو بار ان سے ملاقات کی اجازت ہے۔ اس ملاقات میں بھی بیچ میں آہنی سلاخیں حائل رہتی ہیں اور اس ملاقات کے دوران بھی ڈاکٹر آفریدی اور ان کے اہلِ خانہ پر اپنی مادری زبان پشتو بولنے پر پابندی ہوتی ہے۔

شکیل آفریدی کے بھائی کا کہنا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے ہمیں بتا دیا گیا تھا کہ ملاقات میں ہم ان سے سیاست اور جیل کے اندرونی حالات پر بھی بات نہیں کرسکتے۔

ڈاکٹر آفریدی کے اہلِ خانہ کے بقول وہ اس قیدِ تنہائی میں اپنا زیادہ تر وقت کوٹھڑی میں ٹہلتے اور نمازیں پڑھتے گزارتے ہیں۔ انہیں موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی کوئی اخبار یا کتاب پڑھنے کی۔

’ڈاکٹر آفریدی نے سب سے بھاری قیمت ادا کی‘

ڈی سی میں مقیم تھنک ٹینک ولسن سنٹر نے واشنگٹن میں جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوجل مین نے ہمارا ہند کو بتایا ، یہ بات واضح ہے کہ شکیل آفریدی نے سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انخلا اور پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری سے اندازہ ہوتا ہے کہ شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ بھی اب پہلے جیسا گرم نہیں رہا۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایبٹ آباد آپریشن نے پہلے سے موجود امریکہ مخالف جذبات کو عروج پر پہنچا دیا تھا، چند ہی لوگ ہوں گے جنہیں شکیل آفریدی سے ہمدردی ہے۔

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ‘آئی ایس آئی’ کے سابق سربراہ اسد درانی کے بقول جب کوئی کسی دوسرے ملک کی انٹیلی جنس کے لیے کام کرے تو اسے ناقابلِ معافی خطا تصور کیا جاتا ہے۔

ان کے خیال میں شکیل آفریدی کی حراست نے انہیں بقول ان کے غیض و غضب کا شکار کسی شخص یا ہجوم کا نشانہ بننے سے بچا لیا ہے۔

ہمارا ہند کے مطابق ، اب جبکہ امریکہ افغانستان سے علیحدگی کی تیاری کر رہا ہے اور اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی یادیں دھندلا رہی ہیں ، ہمارا ہند کے مطابق ، شکیل آفریدی کے ذریعہ کھیلی جانے والی پاکستان کی صورتحال بدستور جاری ہے۔

مبینہ طور پر بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے چلائی جانے والی ڈاکٹر آفریدی کی ویکسی نیشن مہم کی وجہ سے پاکستان میں ویکسین پر عوام کے اعتماد میں تشویش ناک حد تک کمی واقع ہوئی۔

پاکستان میں اب بھی کئی خاندان اپنی بچوں کو پولیو جیسی بیماری سے بچاؤ کی ویکسین دلوانے کے لیے تیار نہیں اور گزشتہ ایک دہائی میں شورش پسند کئی ویکسین ٹیموں پر حملے کرچکے ہیں جن میں درجنوں ہیلتھ ورکروں کی جانیں گئی ہیں۔

Photo Credit : https://www.easterneye.biz/wp-content/uploads/2021/04/GettyImages-145216427.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: